316

پہلا قدم اٹھانا ہوگا

تحریر شئیر کریں

پہلا قدم اٹھانا ہوگا

اقراءملک (میانوالی)

یوں تو ہمارے ملک ،جس کا قومی ترانہ کسی تقریب میں بھی ادب سے سننا گوارہ نہیں کرتے, ترانہ تو دور کی بات کبھی اس کی سلامتی کے لیے بھی شاید ہی کسی نے دعا مانگی ہو۔جسکے لیے ہماری عوام کے بقول ہر چیز کی ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔


۲۳ جنوری کو بھی کچھ یوں ہی ہوا ,یہ خبر بھی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیلتی گئ ,بجلی کا کریک ڈاؤن ہو گیا ہے۔جسکی بدولت ملک میں 27 گھنٹے بجلی معطل رہے گی۔اگرچہ یہ بات سچ تھی اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں تھی۔اگرچہ قصور حکومت کا بھی تھا لیکن کیا حکومت اکیلی قصوروار ہے۔


اگر آپ کے نزدیک یہ صرف حکومت کا قصور ہے تو آپ بھی اسی غلام ذہنیت کے مالک ہیں۔آپ ذہنی طور پر مفلوج ہیں۔اس کریک ڈاؤن سے ہر شخص برابر متاثر ہوا ہے۔کوئی ذہنی تو کوئی سیاسی ،کوئی معاشی تو کوئی اخلاقی۔


میرا آپ سب سے ایک سوال ہے۔
کیا پاکستان سب کا نہیں ہے؟
کیا یہاں صرف حکومت رہتی ہے؟
کیا آپ پر پاکستان کی ترقی کے لیے کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟


کیا کل کی صورتحال سب کے لیے لمحہ فکریہ نہیں تھی؟
کل کا دن ہم سب کے لیے باعث افسوس تھا یا یوں کہیں باعث ندامت۔


کیا ہمارے ملک میں الیکٹریکل انجینئرز کی کمی ہے جو ایسی صورتحال سے مقابلہ کرنے کے لیے پہلے ہی سے کوئی متبادل طریقہ بتاتا یا ایجاد کرتا۔


بات صرف شعبہ انجینئرنگ کی نہیں ہے بات اپنا احتساب کرنے کی ہے۔بڑے عہدیدان کا احتساب جب ٹی ۔وی پر نشر کیا جاتا ہے تب ہم بڑی بیتابی اور بے حسی سے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی ملک کا حصہ ہیں ۔ہم پر بھی وطن کی طرف سے ذمہ داری عائد ہے۔


ذرا سوچیۓ!!!
خدارا!
ملک کے بارے میں مل کر سوچیۓ۔ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔
انقلاب لانے کے لیے پہلا قدم اٹھا نا ہو گا۔

کچھ درد تو غیروں نے دیۓ
کچھ اپنوں نے بھی حصہ ڈالا
بات کچھ یوں ہوئی
غموں کی خیرات بٹ رہی تھی
سب نے مزے لے کر کھانا چاہا
(ا۔م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں