دنیا کی سب سے حیران کن اور دلچسپ چیز بذات خود زندگی ہی ہے۔زندگی سے زیادہ حیران کن چیز کوئی نہیں ہے۔
انسان جن چیزوں کو دوسروں کے لیے اہم سمجھتا،تگ ودو کرتا کہ کہیں دوسرے پیاسے نا رہ جائیں۔زندگی بھر کنویں خرید خرید کر وقف کرتا رہا ہو مگر جب اس کا اپنا آخری وقت آن پہنچا ہو تو وہی پانی اس کی پہنچ سے کوسوں دور چلا جاۓ۔پیاس بہ لب صحرا بن جاۓ۔ہے نا عجیب و غریب معاملہ۔۔
پانی زندگی دینے والی چیز ہے مگر کبھی کبھی زندگی چھین لینے کا سبب بھی بن جایا کرتا ہے۔حضرت عثمان غنی جو عمر بھر مخلوق خدا کو پانی سے سیراب کرتے رہے۔وہی پانی انکی آزمائش بن گیا۔
۔۔۔
حضرت عثمان پر چالیس دن پانی آزمائش بنا رہا۔۔۔ پر اس مرد مومن نے خود کو اس آزمائش میں پورا پایا۔اور لخت بھر بھی نا ڈگمگاۓ۔ثابت قدم رہے۔موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خوش آمدید کہا اور قرآن کو گواہ بناتے ہوۓ اس فانی دنیا کو لبیک کہا۔اسی قرآن کی گواہی تلے آپ جنت کے اس مقام تک پہنچیں گے جس تک پہنچنے کے لیے آپ کو آزمائش میں ڈالا گیا۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اللہ نے جنت میں جو مقام رکھا تھا اس تک آپ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتے تھے۔جبھی اتنی بڑی آزمائش راستے میں کھڑی کر دی۔پانی سے محرومی جوقطره قطره زندگی بخشتا هے۔پیاس مٹاتا هے۔اس سے محرومی کربلا والے جانتے یا پھر (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) وہ جو کرب وبلا میں مبتلا ہوۓ۔
۔۔
زندگی حیران کر دینے والی چیز ہے مگر ایسے لوگوں پر ان کے حسن عمل پر خود زندگی بھی ششد رہ جاۓ۔آپ کو کہاں ملیں گے؟پانی پیاس مٹاتا ہے طلب بڑھاتا ہے مگر پانی بھی جن پر قربان ہونا چاہے نا زمیں نے دیکھے نا آسمان نے۔قابل رشک قابل تقلید جن کے بارے خود رب نے کہا کہ میں راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوۓ مجھ سے۔
453