
الزبہ مقرب خان
اللّٰہ نے انسان کو تمام مخلوقات پر فوقیت دی ہے کیونکہ اللّٰہ نے انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن کیا آج کا انسان اُن صلاحیتوں کی قدر سے واقف ہے؟
جب انسان نے بولنا شروع کیا تو اس نے اپنے خیالات و ابلاغ کا اظہار اول تو پتھروں پر لکھنے کی صورت میں کیا جس کا پہلا روپ عجیب و غریب اشکال کی صورت میں تھا؛ پھر یہی اشکال؛ علامات اور پھر الفاظ کی صورت میں سامنے آئیں، بعد ازاں لکھنے کا یہ فن مذہبی عبارات و آیات کو دیواروں پر کندہ کرنے کی طرف بڑھ گیا، یوں آہستہ آہستہ پھر چمڑے، پتوں اور کپڑوں کو بھی لکھنے کے مقصد کے لئے استعمال کیا جانے لگا، اس کے بعد کاغذ ایجاد ہوا اور آج تک انسان اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کاغذ کا استعمال کرتے ہیں، انسان کو اللّٰہ نے عقل و خرد اور قلم عطا کیا ہے۔
قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ قلم اور اہلِ قلم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے؛
“قسم ہے اس قلم کی اور اس کے لکھنے والے کی۔”(القرآن)
علماء کرام کے نزدیک عالم میں تین قلم ہیں:
1)ایک قلم وہ جس کو اللّٰہ پاک نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اس حوالے سے عبادہ بن الصامتؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ؛
“سب سے پہلے حق تعالیٰ نے قلم پیدا فرمایا اور اس کو حکم دیا کہ لکھ، قلم نے عرض کیا کہ؛ کیا لکھوں؟ تو حکم دیا گیا کہ؛ تقدیر الٰہی، قلم نے ابد تک ہونے والے تمام واقعات اور حالات کو لکھ دیا۔”
2)دوسرا قلم “فرشتوں کا قلم” ہے جس سے وہ حق کے ساتھ انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں۔
3)تیسرا قلم “عام انسانوں اور لکھاریوں” کا ہے جسے وہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس قلم کا ذکر سورہ العلق میں کیا گیا ہے؛
“جس نے (یعنی حق تعالیٰ نے) علم سکھایا قلم سے۔”
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ لکھاری کا تعلق لکھنے کے شعبے سے ہوتا ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہر لکھنے والا لکھاری نہیں ہوتا، ہر لکھنے والا عام انسان ہوتا ہے لیکن جسے قلم پر اختیار دیا جائے وہ لکھاری ہوتا ہے۔
لکھاری کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن میں چند اہم مندرجہ ذیل ہیں؛
لکھاری سچا ہو، نڈر ہو، غیرجانبدار ہو ،اعلٰی شخصیت و ذہنیت کا مالک ہو، مثبت سوچ کا حامل ہو، گہرے اور وسیع مشاہدے والا ہو، حسد، منفی سوچ اور جھوٹی شہرت کی قید سے جب آزاد ہو تو وہ انسان لکھاری کہلانے کا مستحق ہے۔
لکھاری کا سب سے پہلا اور اہم ذریعہ قلم ہے جس کے ذریعے وہ اپنے احساسات و جذبات کو اوراق پرایک ہنر کے ساتھ پیش کرتا ہے اور معاشرے میں موجود ہر طرح کی بیماریوں کا علاج اپنے قلم کے ذریعے کرتا ہے؛ معاشرے کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، قلم لکھاری کا چراغ ہے کیونکہ اس سے وہ تاریک ذہنوں کو روشن کر سکتا ہے، قلم کی طاقت سے ظلمت کے اندھیروں کو ختم کیا جاسکتا ہے، ناانصافی کے خلاف؛ قلم کے ذریعے آواز اٹھائی جاسکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال ذہن میں اُبھرتا ہے کہ؛ کیا آج کے لکھاری اپنے قلم کے ساتھ انصاف کرتے ہیں؟ کیا انہیں اپنے قلم کے استعمال کرنے کا ہنر اور حق ادا کرنا آتا ہے؟ کیا ان کے لفظوں میں تاثیر ہے؟ کیا وہ معاشرے میں موجود اَن گنت بیماریوں کا علاج ڈھونڈ سکتا ہے؟ اور کیا سچ کا ساتھ دے سکتا ہے؟، اگر نہیں؛ تو کیا وہ لکھاری کہلانے کا مستحق ہے؟ یہ عجیب نہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ لکھاریوں کی تعداد اور کتابوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے، اگرچہ تعداد کے لحاظ سے ادب کی آبیاری ہورہی ہے لیکن معیار کا کیا؟ اگر یہ معیار ہے تو اس ادب کا تو بیڑا پار ہوگیا ایسے تو بکھیڑوں میں الجھنا ہے۔
ہمارے آج کے لکھاریوں کا یہ مسئلہ ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ دلی دور ہے۔ اس لیے وہ لکھاری کم اور بیماری زیادہ ہیں کیونکہ آج اتنے لکھاریوں کی فوج ہونے کے باوجود بھی ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے تو کیوں؟، کیونکہ آج کا لکھاری شعور نہیں رکھتا کہ جیسے؛
“ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی۔”
ویسے ہی چند الفاظ یا تحاریر لکھنے سے ایک انسان لکھاری نہیں بن جاتا۔
آج کی نوجوان نسل میں موجود نوآموز لکھاریوں سے لے کر منجھے ہوئے لکھاریوں تک بہت سے ایسے لکھاری موجود ہیں، جن میں لکھنے کا ہنر خوب موجود ہے اور ان کے الفاظ و خیالات بھی جامع ہوتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے لکھاری عمل سے خالی اور حسد سے بھرے ہوئے ہیں، دوسروں سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں اپنا معیار اپنی ذات تک گرا لیتے ہیں؛ چند شلیڈز اور پیسوں کے عوض اپنے قلم کی پاسداری بھول جاتے ہیں، آج کے لکھاری اس بیماری میں روز بروز اس قدر مبتلا ہوتے جا رہے ہیں کہ اپنی ذہنی صحت کو بھی خراب اور فراموش کر بیھٹے ہیں، بس کسی طرح سے وہ آگے بڑھ جائیں اور شہرت کی بلندیوں کو چھو لیں، ہمارے یہاں حالات سدھرنے کی بجائے اور بگڑ رہے ہیں۔ ایسے میں ان کو سمجھانا سوال گندم، جواب چنا ہوتا ہے۔
لیکن ہر لکھاری کو اس بات سے خوب آشنا ہونا چاہئیے کہ؛ لکھاری عام انسان نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ کی طرف سے قلمی جہاد کے لئے منتخب ایک خاص شخص ہوتا ہے، اس طرح جب ایک لکھاری اپنی تحریر میں اپنی سوچ، اپنی بات اور اپنا تاثر دوسروں تک پہنچاتا ہے تو اسے مثبت اقدار کی حمایت میں قلم اٹھانا چاہئیے، اور کسی بھی تحریر ( نثری اصناف، شعری اصناف اور ادب و صحافت) کے ذریعے اپنے مقصد و نصب العین کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش شہادتِ حق اور جہاد فی سبیل اللہ ہی کی ایک صورت ہے۔ یہ کہنا زیادہ موزوں ہے کہ زبانِ حق کو نقارہ خدا سمجھو۔
لیکن آج کے لکھاریوں کے ذہن تب معاشرے کی بیماریوں کا حل ڈھونڈیں گے۔ جب اپنے معاشرے میں ناانصافیوں کے خلاف جہاد کریں گے اور جب ان کے ذہنوں پر سوار عارضی شہرت کا بھوت اترے گا۔
“جب تک آپ خود سچے نہیں ہوتے آپ کے لیے سچ کی تلاش بے معنی سفر ہے۔”
اس کے علاوہ ان کا ایک قول ہے کہ:
“کتاب کی عزت مصنف کے حوالے سے ہوتی ہے۔”
اللہ سے دعا ہے کہ آج کے ہر لکھاری کی لکھت ہر غرض سے بے نیاز اور ہمیشہ سچ کی آواز ہو؛ ہمارے لکھاریوں کی لکھت ہمارے ملک کیلئے باعث خیر و باعث شرف ہو۔ (آمین)
