اسلام نشاته ثانیه کا آغاز هونے کو هے۔بدلتے ہوے وقت کے تقاضے چیخ چیخ کر کهه رهے۔
2023 میں ایسا کیا ہونے جارہاہے۔کہ اہل مغرب پر بوکھلاہٹ طاری ہے اللہ کے حکم سے امت مسلمہ کی نشاة ثانيةکا آغاز ہوا چاہتا ہے-
دنیا کے اندر اس وقت ایک افراتفری کا عالم یے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما هے۔مسلمانوں کا خون پانی سے بھی سستاهے۔مسلمان ہر محاذ پر پس رهے هیں۔کشمیر ہو یا فلسطین ہرجگہ ظلم و بربریت کی کی نئی تاریخ لکھی جا رهی هے۔خون مسلم کی یه رایئگانی ایک نئی داستاں لکھنے کو هے۔کہتے ہیں ظلم جب حدسے بڑھ جاۓ تو ختم هو جاتا هے۔اللہ کا اپنا نظام هے۔وہ ظالم کو ڈھیل دیتا هے ۔یہاں تک که وه اپنے هی بنے هوۓ جال میں پھنس جاتا هے۔مکاریاں اور چالاکیاں ختم هو کر ره جاتیں هیں۔تایخ نے یه مناظر بارها دیکھے۔۔۔اللہ کا اپنا فرمان ہے یہ کافر چالیں چلتے هیں اور میں سب سے بڑی چال چلنے والا هوں۔اور وہ وقت اب زیادہ دور نہیں۔۔حالات و شواھد کا تقاضا هے که نیا سورج طلوع هو جوسسکتی هوئی انسانیت کے لیے امن کا پیامبر ہو۔۔سیانے کهتے هیں که عالمی جںنگ کا آغاز ترک سے هوگا۔لگتا ارطغرل ڈرامه مسلمانوں کے مرده ضمیروں په ترک قوم کی طرف سے ایک دستک هے۔بیدار ہو جاؤ کہ یہ وقت بیداری ہے۔قوموں سے قوم بننے کی التجا هے۔اہل ایمان کو مومن بننے کی پکارہے۔۔وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔۔۔اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کے لیے جاگ جائیے۔اس سے پہلے کہ زمانہ ایک اور چال چلے۔۔۔بازی پلٹنے کو هے۔تاریخ میں اپنا نام لکھوانا هے تو قوم بننا هوگا۔۔اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنا هوگا۔۔قائی قبیلے کے چند نوجوان اپنے ایمان اور بھروسے سے اپنے وقت کی سرکش قوموں کو شکست دے سکتے هیں ۔تو آج کیوں نهیں؟ہم اور آپ کیوں نهیں؟