کرونا وبا بدترین نہیں بلکہ بدترین وباؤں کی لیےدنیا کو تیار کر رہی ہے۔ترک سائنس دان کا انکشاف
انقرہ رپورٹ کے مطابق ترک سائنس دان ڈاکڑ شاہین جو کہ کرونا وائرس کی ویکسین کی موجد بھی ہیں نے ریسرچ کے بعد اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کرونا وائرس بدترین وبا نہیں ہے بلکہ بدترین وبائیں جو آگے آنے والی ان کے لیے پیشگی تیاری کا الٹی میٹم ہے۔
ڈاکٹر عور شاہین نے عالمی ادارہ صحت کے اس موقف کی حمایت کرتے ہوۓ کہا کہ مستقبل کی عام وبائیں زیاد خطرناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہیں اگر ان وباؤں کے حوالے سے موثر حکمت عملی سے روک تھام نا ہو سکا تو یہ وبائیں دنیا کا نقشہ دل سکتیں ہیں۔لہذا اس وقت کرونا سے ہٹ کر بھی ہمیں ان بیماریوں سے لڑنا ہوگا۔
ڈاکٹر شاہین نے کرونا ویکسین کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوۓ کہا کہ کرونا ویکسین تین ماہ کے اندر لازما لگ جانی چاہیے۔اس وقت کرو نا سے متاثرہ مریض لاکھوں کے عدد سے عبور کر چکے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس وائرس سے نبٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پھول اگانے والا کرونا ماسک تیار
ڈاکٹر عور شاہین اور اقوام متحدہ کا بیان حقیقت پر مبنی ہے۔اس وقت دنیا کو کینسر شوگر بلڈ پریشر دل کے امراض کے ساتھ ساتھ ڈپریشن جو دنیا کی بڑی بیماریوں میں شامل ہونے جا رہی اور تمام بیماریوں کی جڑ بھی ہے کا سامنا ہے۔ للائف سٹائل مینجمینٹ سیکھ کر ڈپریشن پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔جب انسان سادہ اور پرسکون زندگی کی طرف آۓ گا تو یہ بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گیں۔
کرونا وبا بدترین نہیں