کیا قرآن کی تصویریں دیکھی جا سکے گیں؟جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟
قرآن خود کہتا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہر چیز بیان کر دی گئ ہے
قرآن ہر دور میں عقلوں کو حیران کرکے رکھ دیا یہ ہر دور کے عقل مندوں کے لیے متحیر رہی ہے کیونکہ یہ۔معجزہ ہے نبی کریم کو ایک ہی معجزہ عطا ،کتاب حکمت جو حکمت اور دانائی کا منبع ہے اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا
اور وہ قرآن ہے عقلوں کو حیران کر دینے والا
دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں قرآن اس کے بھی قریب ہے یہ قرآن کا ایجاز ہے قرآن میں تین سو ستتر آیات ہیں جن میں اشارہ ہے “کہ کیا تم نے نہیں دیکھا؟
کیا آواز کو sound pictureمیں تبدیل کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
جدید ٹیکنالوجی اب ماضی کی آوازوں کو اکٹھا کرنے سننے اور پھر اس سے بھی آگے ان آوازوں کو پکچر کوالٹی میں بدلنے پہ کام کر رہی ہے کیونکہ جو بھی ہم بولتے ہیں وہ فضا میں سیو ہو جاتا ہے غائب نہیں ہوتا اس کی بہترین مثال ٹیلی فون ہے جو آواز کو فضا سے capture کر کے میلوں دور بیٹھے شخص تک پہنچا دیتا ہے پھر اسی آواز کو پکچر کے ساتھ دیکھا جانے لگا تو ممکن ہے سائنس آوازوں کے ساتھ اس کی تصویریں بھی دیکھ سکے۔
اگر سائنس اس میں کامیاب ہو جائے تو پھر جب قرآن پڑھا جائے گا تو کیا دکھے گا؟
تری تم دیکھو گے والی آیات اسی کی طرف اشارہ ہیں جو مستقبل میں نظر آئیگے۔اللہ اکبر
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ قرآن کے معجزے کبھی ختم نہیں ہوں گے ؟؟اور یہ ایسا سچ ہے جو ہمیں مجسم ہو کر نظر آتا رہے گا۔
سورہ نبا ارشاد باری تعالی ہے وکل شیء احصینہ کتبااس کتاب میں ہر چیز کا احاطہ کیا گیا ہے

کیا قرآن کی تصویریں دیکھی جا سکے گیں؟