تحریر : لبنٰی جمشید
کیرئیر پلاننگ کسے کہتے ہیں؟
ایک اچھی اور پر آسائش زندگی گزارنے کے لیے بہترین حکمت عملی اپنانے کو کیرئیر پلاننگ کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں پیشے کا انتخاب اہم کڑی ہے۔ کیرئیر کا انتخاب مستقل بنیادوں پر کیا جاتا ہے تاکہ روزگار کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پاۓ۔ بعض ماہرین کے نزدیک کیرئیر کی تعریف کچھ یوں ہے
1 کسی فردکے کام اور کاروبار کے بارے میں تجربات
2 تا عمر حیات ملازمت یا کاروبار کا سلسلہ
3 پیشے کا انتخاب جیسے قانون ، طب ، فوج انجینئر وغیرہ وغیرہ جس میں ترقی کے مواقع موجود ہوں۔
فرد کی دلچسبی کا دائرہ کار
کیرئیر کے اہم نکات میں سب سے پہلے انسان کی دلچسبی کا محور ڈھونڈا جاتا ہے۔ وہ کن چیزوں سے خوش ہوتا ہے کون سی چیز فرد یا پیشہ اس کی توجہ کا مرکز ہے۔ کون سی ایسی چیز ہے جو اسے تفریح کا سامان مہیا کرتی ہے۔ وہ کونسا ذاتی انداز یا خوبی ہے جس کی بناہ پر آپ پسند کیے جاتے ہو۔۔ کم از کم انسان کو اپنی پسندیدگی کے پانچ نکات ضرور ڈسکور کرنے چاہیں۔ ممتاز مفتی نے اس بارے میں خوب کہا ہے کہ اگر پیشن ہی پروفیشن بن جاۓ تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔
شخصیت کا کمزور اور مضبوط پہلو
قاسم علی شاہ ایک مشہور موٹیویٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ مکمل ایمانداری کے ساتھ اپنی شخصیت کا جائزہ لینا اور مثبت کے ساتھ منفی پہلوں کو بھی کیرئیرکی پلاننگ کے سلسلے میں نظر انداز نہ کرنا ایک بہترین کیرئیر کی ضمانت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف انسان کو اپنے پازیٹیو پہلوؤں پر دیان دینا چاہیے بلکہ خود کو ایک ناقد کی نظر سے دیکھنا کتنا ضروری ہے۔
خود کو ڈسکور کرنا
بہتر پلاننگ کے لیے خود کو جاننا انتہائی ضروری ہے۔ اپنی ذاتی دلچسبیاں شوق, مہارت و ہنر, اخلاقی اقدار جذباتی و نفسیاتی کمزوریاں, ان کی ایک لسٹ تیار کریں اور اپنے قریبی افراد سے تبادلہ خیال کریں کہ آپ میں یہ چیزیں کیا اصل میں موجود ہیں جو آپ نے خود میں ڈسکور کی ہیں۔
پیشوں کے بارے میں معلومات
جو پیشہ ہم اختیار کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں مکمل معلومات کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ بالفرض آپ قانون دان بننا چاہتے ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی پڑھائی میں کن مضامین کو اختیار کرناضروری ہے۔ اس میں بیچلرز کی ڈگری کے بعد چار سالہ ایل ایل بی کی ڈگری لینا ہوتی ہے اگر مذید اس شعبے میں ایکسپرٹ ہونا ہے تو بار ایٹ لاء اور مختلف قانون کے شعبوں کے ریلیٹڈ ڈگری لینا لازمی ہوتا ہے اس کے علاوہ پی ایچ ڈی کی سطح تک اس شعبے میں تعلیم دی جاتی ہے۔ مختلف وکیلوں اور جسٹسس سے تبادلہ خیال بھی اہم جزو ہے۔
تربیت کی اہمیت
تعلیم کے ساتھ ساتھ منتخب شعبہ زندگی میں عملی تربیت و مہارت بھی کیرئیر پلاننگ کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ٹریننگ کورسز معاون ثابت ہوتے ہیں جس میں سکھانے کے ساتھ عملی طور بر کر کے بتای جاتا ہے۔ انٹرن شپ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
اپنےاہداف سیٹ کریں
آئین سٹائن کا کہنا ہے کہ کامیابی حاصل کرو مگر پیسے کے لیے نہیں اپنی پہچان بنانے کے لیے۔ اس کے لیے زندگی میں ایک گول سیٹ کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ یہ ہمارا وہ ہدف ہے جس کو پانے کی خاطر راستے کی تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل کیاجاسکتا ہے۔
مشکلات کا مستقل مزاجی سےمقابلہ
بقول ارسطو مشکلات سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ستارے ہمیشہ اندھیرے میں ہی چمکتے ہیں۔
جب بھی کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو ابتدا میں اس کے دوران بہت سی رکاوٹيں حائل ہو جاتی ہیں۔ یہ وقتی رکاوٹیں ہوتیں ہیں جو ناتجربہ کاری کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں ایک قول ہے انسان مشکلات سے ہی سیکھتا ہے اگر اس پر عمل کرتے ہوۓ ہم ان کامقابلہ خوش دلی مستقل مزاجی اور مناسب حکمت عملی سے کریں تو کیرئیر پلاننگ کا اہم نقطہ ثابت ہوگا۔
.