کالم نگار:روبینہ شاہین
یہ جملہ نواب اکبر بگٹی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا، اور آج بھی یہ بلوچستان کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ دو دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ آج بھی بلوچستان کے پہاڑ معدنیات سے بھرے ہوئے ہیں، سمندر وسائل سے مالامال ہے، مگر عام بلوچ آج بھی غربت اور محرومی کا شکار ہے۔
پرویز مشرف کے دور میں اکبر بگٹی کو باغی قرار دے کر مارا گیا، لیکن کیا اس سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہوا؟ آج بھی وہی سوال موجود ہے۔ بلوچستان میں گیس پیدا ہوتی ہے، مگر یہاں کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے کیوں ہیں؟ سونا، تانبہ، اور دیگر معدنیات نکالی جاتی ہیں، مگر یہاں کے نوجوان روزگار سے محروم کیوں ہیں؟ سی پیک جیسے میگا پروجیکٹس بنتے ہیں، مگر مقامی آبادی اس کے فوائد سے محروم کیوں ہے؟
بلوچستان آج بھی شورش زدہ ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو یا احساسِ محرومی، ہر طرف بےچینی ہے۔ وسائل پر اختیار کی جنگ جاری ہے اور عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے۔ گوادر کی سڑکوں پر مچھلی فروش آج بھی سوال کرتے ہیں کہ ترقی صرف بڑے منصوبوں میں کیوں ہے؟ مقامی ماہی گیر کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟
بلوچستان کے مسائل کا حل صرف فوجی آپریشن یا سخت پالیسیوں میں نہیں، بلکہ عوام کو ان کے حقوق دینے میں ہے۔ ترقی کے منصوبے مقامی افراد کو فائدہ پہنچائیں، نوجوانوں کو روزگار ملے، اور بلوچستان کو ایک برابر کے شہری کا درجہ دیا جائے۔ ورنہ ہر چند سال بعد کوئی نیا اکبر بگٹی اسی نعرے کے ساتھ کھڑا ہوگا: “یہاں مسائل کیوں ہیں؟ کیونکہ یہاں وسائل ہیں!”
“یہاں مسائل کیوں ہیں؟ کیونکہ یہاں وسائل ہیں!”