یہ خبر واقعی دل دہلا دینے والی ہے۔ دستیاب تازہ خبر کے مطابق کوٹ ادو میں باراتیوں سے بھرا لوڈر رکشہ مظفرگڑھ کینال میں گرنے سے ہلاکتیں ہوئیں اور مزید لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔ تاہم 26 افراد، خواتین اور زیادہ تر بچوں والی مکمل تفصیل کی میں ابھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا، اس لیے کلام میں اسے قطعی عدد کے طور پر بیان نہیں کروں گا۔
اوراقِ احساس میں مقبول جان کے جذباتی اور درد بھرے رنگ سے متاثر ہوئے بغیر، اسی موضوع پر ایک اصل کلام یوں ہو سکتا ہے:
نہر میں صرف لوگ نہیں ڈوبے… ہمارا ضمیر بھی ڈوب گیا
مظفرگڑھ کی نہر میں
کچھ گھر ڈوب گئے ہیں…
کچھ ماؤں کی گودیں خالی ہو گئی ہیں،
کچھ بچوں کی آوازیں
ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہیں،
کچھ بہنوں کے بھائی،
کچھ بچوں کے باپ،
کچھ گھروں کے چراغ
پانی کی گہرائی میں کہیں کھو گئے ہیں۔
اور ہم؟
ہم نے موبائل اٹھایا،
خبر دیکھی،
ایک آہ بھری،
دو لفظ لکھے…
“افسوسناک واقعہ!”
اور پھر
اگلی ویڈیو کی طرف بڑھ گئے۔
کیا واقعی
اتنا ہی کافی تھا؟
کیا ایک انسان کی موت
صرف چند سیکنڈ کی خبر ہے؟
کیا ایک ماں کی اجڑی ہوئی گود
صرف ایک تصویر ہے؟
کیا ایک بچے کی لاش
صرف ایک عدد ہے؟
نہیں…
یہ عدد نہیں تھے۔
یہ کسی کے لال تھے۔
کسی کی بیٹی تھے۔
کسی کی ماں تھے۔
کسی کے بھائی تھے۔
کسی کی پوری دنیا تھے۔
اور سب سے بڑا سوال یہ نہیں
کہ نہر میں کون ڈوبا…
سوال یہ ہے کہ
ہماری انسانیت کہاں ڈوب گئی؟
ہم ہر روز بڑی بڑی بحثیں کرتے ہیں۔
کون جیتا؟
کون ہارا؟
کس نے کیا کہا؟
کس کی ویڈیو وائرل ہوئی؟
کس کا بیان زیادہ مقبول ہوا؟
لیکن جب غریب کے گھر کا چراغ بجھتا ہے
تو ہماری آواز کیوں مدھم پڑ جاتی ہے؟
جب کسی دور دراز علاقے میں
ایک ماں اپنے بچے کو آخری بار دیکھتی ہے
تو ہماری آنکھوں میں نمی کیوں نہیں آتی؟
شاید اس لیے کہ
درد بھی اب ہمارے لیے
ٹرینڈنگ ہونا ضروری ہو گیا ہے۔
جس سانحے پر لاکھوں لوگ بات کریں
وہ بڑا سانحہ ہے…
اور جس پر چند لوگ روئیں
وہ شاید ہماری نظروں میں
خبر ہی نہیں۔
اے میرے وطن!
تمہارے بچے پانی میں ڈوب رہے ہیں
اور ہم
اپنی اپنی اسکرینوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
کاش!
ہمیں سمجھ آ جائے
کہ حادثات صرف قسمت کا نام نہیں۔
کبھی حفاظتی انتظامات کی کمی بھی ہوتی ہے،
کبھی غفلت بھی،
کبھی ناقص نظام بھی،
اور کبھی وہ بے حسی بھی
جو حادثے کے بعد
ذمہ داری پوچھنے کے بجائے
خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
جس نے ایک جان کو بچایا
گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔
(المائدہ: 32)
تو آج سوال ہم سب سے ہے:
ہم نے کتنی جانیں بچانے کے لیے
اپنی آواز اٹھائی؟
کتنی نہروں کے کناروں پر
حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کیا؟
کتنے ایسے راستوں، پلوں اور گاڑیوں کے بارے میں
پوچھا جہاں ہر روز عام لوگ
اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرتے ہیں؟
ہمیں صرف لاشیں گننے والی قوم نہیں بننا…
ہمیں جانیں بچانے والی قوم بننا ہے۔
مظفرگڑھ کی نہر میں جو لوگ ڈوبے
اللہ ان کی مغفرت فرمائے،
ان کے درجات بلند فرمائے،
ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اور یا اللہ!
ہمیں ایسی بے حسی سے بچا
کہ کسی ماں کا لال جائے
اور ہمارے دل پر کوئی اثر نہ ہو۔
ہمیں ایسا معاشرہ بنا
جہاں غریب کی جان بھی
اتنی ہی قیمتی سمجھی جائے
جتنی امیر کی۔
جہاں بچے
صرف اعداد نہ ہوں…
انسان ہوں۔
اور جہاں کسی حادثے کے بعد
صرف تعزیت نہ ہو…
بلکہ یہ سوال بھی ہو:
“یہ دوبارہ نہ ہو، اس کے لیے ہم نے کیا کیا؟”
کیونکہ
کبھی کبھی
ایک سانحے پر خاموشی بھی
ایک اجتماعی گواہی بن جاتی ہے…
اور شاید
سب سے خطرناک بات یہ ہے
کہ لوگ پانی میں ڈوب کر مر جائیں
اور ہمارا ضمیر
خشک زمین پر کھڑا رہ کر بھی
نہ جاگے۔