لوگوں کے دیے ہوئے زخموں سے کیسے بچیں؟
آج کل سب سے زیادہ سننے والا لفظ ٹاکسک ہے جسے عام لفظوں میں زہریلا کہتے ہیں اور ہم اسے اب لوگوں کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں۔ کہ فلاں شخص ٹاکسک ہے فلاں کی باتیں ٹاکسک ہے۔ مگر اس چیز پر ہم بلکل دھیان نہیں دیتے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ لوگوں کی زبان ان کے الفاظ بہت کڑوے ہوتے ہیں وہ اپنی زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہم ایسا کیا کریں کہ ان تکلیفوں سے بھی بچیں اور دوسروں کو بھی ہم اذیت دینے سے بچیں۔
اپنی زبان پر قابو رکھنا
اگر ہم سنت نبوی دیکھیں تو ہمیں نبی ؐ کی زندگی سے یہی سبق ملتا ہے کہ صرف محبت اور عزت دینے سے ہی ہم دشمنی اور نفرت سے نمٹ سکتے ہیں۔ ہمارے نبی کفار کے سامنے محبت سے پیش آتے ان کی گالیوں کا جواب بھی انہوں نے گالی سے نہیں دیا۔ اس لئے سب سے پہلے ہم اپنی زبان پر قابو رکھنا سیکھیں کیونکہ یہ وہ پہلا قدم ہوگا جہاں ہم دوسروں کو بھی اس اذیت سے بچا سکتے ہیں اور خود بھی بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ زبان ہی ہے جو ہر فساد کی جڑ ہے۔
خاموشی میں نجات
اس لئے جب ہم سے کوئی بحث کرے کوئی لڑے یا باتیں سنانے کی کوشش کرے تو ہمیں چاہئے کہ خاموش ہوجائیں۔ اگر ہم بھی ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع ہوجائیں گے تو بات مزید بڑھتی جائے گی۔ اس لئے خاموش رہیں دوسرا انسان بھی آخر چپ ہوجائے گا جب اسے لگے گا کہ آپ جواب نہیں دے رہے تو وہ مزید کچھ نہیں کہے گا۔
نفرت کا جواب محبت سے دیں
سب سے بڑا ہتھیار محبت ہے اگر ہمیں محبت بانٹنے کا طریقہ آجائے محبتوں کو سمیٹنا آجائے تو بڑی سے بڑی دشمنی دوستی میں بدل سکتی ہے۔ اگر چہ یہ مشکل ہے کہ کوئی آپ کو گالی دے مگر آپ اسے بدلے کے بجائے محبت سے مسکرادیں اور اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں مگر اللہ کی رضا کے لئے کریں گے تو یہ آسان ہوجائے گا۔ جب کوئی آپ پر غصہ کرے نفرت کا اظہار کرے پہلے آپ خاموش رہیں پھر آپ اسے کوئی تحفہ دے دیں۔
مصیبت کے وقت اس کی مدد کردیں ۔ ایک حل یہ بھی ہے کہ جب کوئی آپ سے کچھ کہے آپ بدلے میں میٹھے بول بولیں وہ شخص کبھی آپ تک اپنا زہر منتقل نہیں کرے گا بلکہ وہ شرمندہ ہو کر آپ سے دوستی کرنا چاہےگا۔ اپنی زندگی میں صرف محبت بھر دیں نفرت خود آپ سے دور ہوجائے گی۔