240

خالدہ ضیا: سیاست عروج و زوال

تحریر شئیر کریں

خالدہ ضیا: سیاست عروج و زوال
Ye be parhey
Google Trends Update: کراچی کا موسم، شان مسعود، خالدہ ضیا اور سال 2026 کا استقبال

بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک باب جو کئی دہائیوں تک اقتدار اور مزاحمت کی علامت رہا، اب تاریخ کے اوراق میں گم ہو رہا ہے۔ خالدہ ضیا (Khaleda Zia) صرف ایک سیاستدان کا نام نہیں، بلکہ بنگلہ دیش کی سیاسی کشمکش، قید و بند کی صعوبتوں اور عوامی مقبولیت کی ایک طویل داستان ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ وقت ایک ایسا مسافر ہے جو کسی کے لیے نہیں رکتا، اور اقتدار کی ناپائیداری انسان کے لیے سب سے بڑا درس ہے۔

ابتدائی زندگی اور سیاست میں آمد

خالدہ ضیا 1945 میں پیدا ہوئیں۔ ان کی زندگی میں اصل موڑ تب آیا جب ان کے شوہر، صدر ضیاء الرحمن کو ایک فوجی بغاوت میں شہید کر دیا گیا۔ ایک گھریلو خاتون سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی سربراہ بننے تک کا سفر ہمت اور استقامت کی مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے شوہر کی سیاسی میراث کو سنبھالا بلکہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن کر تاریخ رقم کی۔ ان کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ جب مقصد بڑا ہو تو تقدیر خود راستے بناتی ہے۔

اقتدار کا ہما اور عوامی مقبولیت

خالدہ ضیا تین بار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں تعلیم، خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور دیہی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کو آج بھی سراہا جاتا ہے۔ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ ‘بنگلہ دیشی قوم پرستی’ رہا۔ یہی وہ دور تھا جب ان کا مقابلہ حسینہ واجد سے شروع ہوا، جسے عالمی میڈیا نے “Battle of the Begums” کا نام دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عوامی تائید ہی اصل طاقت ہے، مگر اس طاقت کو سنبھالنا ایک بھاری ذمہ داری ہے۔

سیاسی عروج و زوال اور قید و بند

تاریخ کا سبق ہے کہ اقتدار کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔ خالدہ ضیا کے سیاسی کیریئر میں جہاں عروج تھا، وہیں زوال کے سائے بھی گہرے رہے۔ 2000 کی دہائی کے بعد ان پر کرپشن کے مختلف الزامات لگے، جنہیں ان کی پارٹی نے ہمیشہ ‘سیاسی انتقام’ اور مخالفین کی سازش قرار دیا۔ کئی سال قید اور پھر طویل نظر بندی نے نہ صرف ان کی سیاست بلکہ ان کی صحت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں سے ان کی زندگی کا ایک نیا اور مشکل ترین باب شروع ہوا۔

جدیدیت، لبرل ازم اور سیاسی منافقت

یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ غور ہے جس کا تذکرہ ہماری ویب سائٹ ‘حرفِ معتبر’ ہمیشہ کرتی ہے۔ مغربی دنیا اور لبرل طبقہ جو انسانی حقوق اور جمہوریت کا راگ الاپتا ہے، خالدہ ضیا کے معاملے میں اکثر خاموش یا جان بوجھ کر بے حس نظر آیا۔ جب سیاسی مخالفت کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کو دبایا گیا، تو لبرل حلقوں نے اپنے مفادات کی خاطر خاموشی اختیار کی۔ یہ وہی دوہرا معیار اور منافقت ہے جو ہمیں عالمی سیاست کے ہر موڑ پر نظر آتی ہے، جہاں انصاف صرف پسند ناپسند کی بنیاد پر تولا جاتا ہے۔

اسلامی اقدار اور نظریاتی تشخص

خالدہ ضیا نے اپنی سیاست میں ہمیشہ اسلامی تشخص اور اقدار کو اہمیت دی۔ انہوں نے بنگلہ دیش کو ایک ایسی پہچان دینے کی کوشش کی جو اس کے نظریاتی اثاثوں اور مذہبی بنیادوں سے جڑی ہو۔ آج کی نوجوان نسل کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست صرف کرسی کا نام نہیں، بلکہ اپنی اقدار کی حفاظت اور عوام کی بے لوث خدمت کا نام ہے۔ حیا اور اخلاقیات جب سیاست کا حصہ بنتی ہیں تو وہ معاشرے میں دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔

اصلاحِ احوال اور آخرت کی فکر

خالدہ ضیا کی زندگی کا یہ طویل سفر ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے: “کلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ” (ہر چیز جو زمین پر ہے، فنا ہونے والی ہے)۔ دنیاوی جاہ و جلال، پروٹوکول اور اختیارات سب ایک دن مٹی میں مل جانے ہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جو انسان اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو کر حاصل کرے۔ اقتدار کی امانت کا حساب ہر صاحبِ اختیار کو دینا ہے۔
اختتام: ضمیر کی دستک
خالدہ ضیا کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ دنیاوی منصب عارضی اور امتحان ہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جو انسان کے ضمیر کو مطمئن رکھے اور اسے آخرت کی کامیابی کی طرف لے جائے۔ آئیے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ کیا ہم اپنی زندگیوں میں وہی غیرت اور ایمانی جذبہ پیدا کر پائے ہیں جس کا تقاضا ہمارا دین کرتا ہے۔

خالدہ ضیا: سیاست عروج و زوال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں