1772468733400 82

Netanyahu died: ایک ظالم کا انجام اور ہماری بے عملی کا نوحہ

تحریر شئیر کریں

آج کل ڈیجیٹل دنیا میں ایک ہی جملہ بار بار سرچ کیا جا رہا ہے: “Netanyahu died”۔ کوئی اسے خبر کے طور پر دیکھ رہا ہے تو کوئی اسے ایک خواہش کے طور پر۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ نیتن یاہو کی موت کی خبر سچی ہو یا جھوٹی، اس ٹرینڈ نے ایک ایسی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
مکافاتِ عمل: جو بویا ہے، وہی کاٹنا پڑے گا

کائنات کا ایک اٹل قانون ہے کہ آپ زمین میں زہر بو کر شہد کی امید نہیں رکھ سکتے۔ نیتن یاہو نے اپنی پوری زندگی نفرت، غصب اور انسانی لہو کی آبیاری میں گزاری ہے۔ ان کی مسلم دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں؛ غزہ کی گلیوں سے لے کر بیت المقدس کی دیواروں تک، ہر جگہ ان کے ظلم کے نشانات ثبت ہیں۔
* نفرت کی فصل: اگر آج دنیا کا ایک بڑا حصہ ان کی موت کی خبر پر سجدہِ شکر بجا لانے کو تیار ہے، تو یہ ان کی اپنی بوئی ہوئی نفرت کی فصل ہے۔ جب آپ معصوم بچوں کے خوابوں کو ملبے تلے دبا دیتے ہیں، تو پھر تاریخ آپ کو “ہیرو” نہیں بلکہ “عبرت کا نشان” بنا کر پیش کرتی ہے۔

* ظلم کی میعاد: یاد رکھیے، ظلم کی رسی دراز ضرور ہوتی ہے مگر ٹوٹتی ضرور ہے۔ چاہے کتنا ہی بڑا فرعون کیوں نہ ہو، اسے ایک دن مٹی کے نیچے جانا ہی ہے جہاں نہ اس کا “آئرن ڈوم” کام آئے گا اور نہ ہی عالمی طاقتوں کی پشت پناہی۔
ہماری حالتِ زار: صرف ‘ان شاء اللہ’ یا عمل بھی؟
اب ذرا اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیں۔ ایک طرف نیتن یاہو جیسا دشمن ہے جو اپنی باطل پالیسیوں پر پوری قوت سے عمل پیرا ہے، اور دوسری طرف ہم مسلمان ہیں۔

ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے ہر کام “ان شاء اللہ” پر چھوڑ دیا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی محنت اور جدوجہد کو فراموش کر دیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ آسمان سے ابابیل آئیں اور ہمارا کام کر دیں، جبکہ ہم خود سستی، اسکرین کی رنگینیوں اور گروہ بندیوں میں مگن رہیں۔

> حقیقت تو یہ ہے کہ: ہم دشمن کے مرنے کی دعائیں تو مانگتے ہیں، لیکن خود جینے کا ڈھنگ بھول چکے ہیں۔ اللہ کی مدد ان کے لیے آتی ہے جو میدانِ عمل میں پسینہ بہاتے ہیں، نہ کہ ان کے لیے جو صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر اپنا فرض پورا سمجھ لیتے ہیں۔
>

دنیاوی کامیابی اور آخرت کی سرخروئی صرف نعروں میں نہیں، بلکہ اپنے آپ کو بدلنے میں ہے۔ ہمیں اپنی Time Management ٹھیک کرنی ہوگی، اپنی نسلوں کو قلم اور کتاب سے جوڑنا ہوگا اور جذباتی ہونے کے بجائے “باعمل” بننا ہوگا۔
نیتن یاہو تو اپنے انجام کو پہنچ ہی جائے گا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے اگلے ظالم کو روکنے کی تیاری کی ہے؟ یا ہم صرف اگلے ٹرینڈ کا انتظار کریں گے؟

دنیاوی کامیابی اور آخرت کی سرخروئی صرف نعروں میں نہیں، بلکہ اپنے آپ کو بدلنے میں ہے۔ ہمیں اپنی Time Management ٹھیک کرنی ہوگی، اپنی نسلوں کو قلم اور کتاب سے جوڑنا ہوگا اور جذباتی ہونے کے بجائے “باعمل” بننا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں