1774889249445 90

Pakistan Army Chief Qamar Javed Bajwa

تحریر شئیر کریں

پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرا جس نے چھ سال تک ملک کے سب سے طاقتور عہدے پر فائز رہ کر گہرے نقوش چھوڑے۔ 29 نومبر 2016 کو کمان سنبھالنے والے جنرل باجوہ کا دورِ ملازمت کئی اہم واقعات، سیکیورٹی چیلنجز اور سیاسی تبدیلیوں سے بھرپور رہا۔

حالاتِ زندگی اور فوجی کیریئر

جنرل قمر جاوید باجوہ 11 نومبر 1960 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی اور بعد ازاں پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کاکول سے 62 ویں لانگ کورس میں پاس آؤٹ ہو کر بلوچ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔
ان کے کیریئر کے اہم سنگ میل درج ذیل ہیں:
کمانڈر ایکس کور (X Corps): انہوں نے راولپنڈی کور کی قیادت کی، جو لائن آف کنٹرول (LoC) کی نگرانی کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
تربیتی مہارت: وہ جی ایچ کیو میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
امن مشن: انہوں نے کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بریگیڈ کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

باجوہ ڈاکٹرائن اور اہم کامیابیاں

ان کے دور کو اکثر ‘باجوہ ڈاکٹرائن’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس ڈاکٹرائن کا محور داخلی استحکام، دہشت گردی کا خاتمہ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات تھے۔
آپریشن رد الفساد: ملک بھر سے دہشت گردی کے سہولت کاروں اور باقیات کے خاتمے کے لیے یہ جامع آپریشن شروع کیا گیا۔
کرتارپور راہداری: سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کھولنا ان کے دور کا ایک بڑا سفارتی اقدام سمجھا جاتا ہے۔
باڑ لگانا (Fencing): پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مشکل کام ان کے دور میں مکمل ہوا جس سے سرحد پار دراندازی میں کمی آئی۔

سیاسی تنازعات اور توسیعی مدت

جنرل باجوہ کا دورِ ملازمت صرف عسکری کامیابیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ شدید سیاسی بحث کا مرکز بھی رہے۔ 2019 میں ان کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع (Extension) دی گئی، جس پر قانونی اور سیاسی حلقوں میں کافی لے دے ہوئی۔ ان پر ‘ہائبرڈ نظام’ کے قیام اور سیاست میں مداخلت کے الزامات بھی لگتے رہے، جن کی انہوں نے اپنے الوداعی خطاب میں تردید کی اور تسلیم کیا کہ فوج ماضی میں سیاست میں مداخلت کرتی رہی ہے لیکن اب وہ غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

موجودہ صورتحال (2026)

نومبر 2022 میں ریٹائرمنٹ کے بعد سے جنرل باجوہ گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم، مارچ 2026 کے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں گردش کر رہی ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، وہ ایک گھریلو حادثے (گرنے) کے نتیجے میں سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج رہے ہیں۔ ان کی صحت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، مگر ابھی تک کسی سرکاری ذرائع یا ان کے خاندان کی جانب سے حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔
نتیجہ
جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورِ اقتدار پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ باب کی مانند ہے۔ جہاں انہوں نے دفاعی محاذ پر ملک کو مستحکم کیا، وہیں سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے ان کے فیصلوں پر بحث برسوں تک جاری رہے گی۔ تاریخ انہیں ایک ایسے سپہ سالار کے طور پر یاد رکھے گی جس نے بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں