جب دنیا کی نظریں جھک جاتی ہیں، جب زبانیں سچ کہنے سے قاصر ہو جاتی ہیں، تب کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو ظلم کے خلاف چراغ بن جاتے ہیں۔ *ابتھال ابو السعد* ایسا ہی ایک روشن چراغ ہے۔
وہ ملائشیا سے تعلق رکھنے والی لڑکی ، جو فلسطین کا درد بولنے والی ایک جرات مند آواز ہے۔ امریکا کی مشہور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والی ابتھال کو مائیکروسافٹ جیسی دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی میں اعلیٰ عہدہ ملا۔ لیکن یہ نوکری اس کے لیے مقصدِ حیات نہیں تھی۔ اس کا دل غزہ کے بچوں کے ساتھ دھڑکتا تھا، اور اس کی زبان مظلوموں کے حق میں سچ بولتی تھی۔
جب غزہ پر اسرائیلی بمباری ہوئی، جب اسپتالوں میں بچے تڑپے، جب ایک ماں کے ہاتھ سے اس کا بیٹا قبر میں اترا—تب ابتھال نے خاموش رہنے سے انکار کیا۔
اس نے سچ بولا۔
مائیکروسافٹ کی میٹنگ رومز میں، اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، وہ کہتی رہی:
“یہ نسل کشی ہے، یہ ظلم ہے، یہ خاموشی بھی جرم ہے!”
اس نے سوال اٹھایا:
“مائیکروسافٹ اسرائیلی ڈیفنس انڈسٹری سے کس قسم کی ٹیکنالوجی شیئر کر رہا ہے؟”
“کیوں فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر کمپنی خاموش ہے؟”
“کیا انسانیت صرف مغرب کی حدود میں معتبر ہے؟”
یہ آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریپورٹ ہونے لگے۔ کئی پلیٹ فارمز سے اسے معطل کر دیا گیا۔ مائیکروسافٹ کی اندرونی میٹنگز میں اس کا نام “مسئلہ” کے طور پر لیا جانے لگا۔ بات اتنی بڑھی کہ اس کا نام *بل گیٹس* کی نظر تک جا پہنچا۔
وہاں ایک خاموش فیصلہ ہوا:
“اسے نکال دو!”
اور ایک دن، اسے نوٹس دیا گیا:
“آپ کی سروسز ادارے کو مزید درکار نہیں۔”
یہ وہ لمحہ تھا جو کسی کو توڑ سکتا تھا۔ مگر ابتھال تو اللہ کی بندی تھی، قرآن کی قاری، سچ کی سپاہی۔
اس نے صرف ایک جملہ پڑھا:
“حسبی اللہ و نعم الوکیل”
اور اس کے فوراً بعد، ایک غیر متوقع معجزہ ہوا۔
کویت کے ایک معزز بزنس مین نے اسے پیغام بھیجا:
“ہمیں آپ کی جرات، آپ کا علم اور آپ کا سچ چاہیے۔ ہم آپ کو مائیکروسافٹ سے دوگنی تنخواہ دیں گے، مگر شرط صرف ایک ہے: سچ بولتے رہیں!”
ابتھال نے وہ پیغام پڑھ کر سجدہ شکر ادا کیا۔
کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ عزت، رزق، اور مقام صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
آج وہ کویت میں ہے، امت کے لیے کام کر رہی ہے، غزہ کے حق میں بول رہی ہے، نوجوانوں کو بیدار کر رہی ہے، اور دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے:
“اگر تم حق پر ہو تو اللہ تمہارے ساتھ ہے، چاہے دنیا تمہیں چھوڑ دے۔”
کیونکہ آخر میں،
لا غالب الا اللہ
جیسے علامہ اقبالؒ نے “فاطمہ بنتِ عبداللہ” کے لیے درد، غیرت اور امت کی بیداری سے لبریز نظم لکھی تھی، اُسی طرز اور لہجے میں ابتھال ابو السعد کے لیے بھی ایک نظم حاضر ہے موجودہ فلسطینی کربلا کی ایک بی
ابتھال بنتِ فلسطین
(اقبال کی طرز پر)
اٹھی ہے شامِ ظلمت میں، نئی فاطمہ کوئی
زباں پہ سچ کا نعرہ ہے، نظر میں روشنی کوئی
یہ بیٹی ہے فلسطین کی، غیرت کی نشانی ہے
نہ جھکی، نہ بکھی، یہ تو حیدر کی جوانی ہے
کہاں ہیں وہ قلندر جو، اُٹھائیں دردِ اُمت کو
یہ خود چراغِ راہ بنی، جلائیں شب کی ظلمت کو
نہ تھا اسے لالچ زر کا، نہ خوف تخت و تاج کا
یہ نعرہ زن ہے سچ کے ساتھ، ہر ایک باطل راج کا
امریکہ کی گلی گلی میں، جو حرفِ حق دہراتی ہے
بل گیٹس کے ایوانوں تک، لرزہ برپا لاتی ہے
نکالا گھر سے اُس کو جب، سچائی کے جرم میں
تو رب نے رزق لکھا اس کے، کویت کی رحم دل قوم میں
وہ کویتی مسافر بھی، یقیں کی آنکھ سے دیکھے
کہ جس کو رب عطا کرے، وہ سب سے بڑھ کے لے کے
نہیں محتاج یہ بیٹی، کسی منصب، کسی در کی
یہ بیٹی ہے اُمت کی، یہ شعلہ ہے سحر کی
اے ماؤں! اے بہنوں! اٹھو، یہ دیکھو فاطمہ پھر ہے
جو تن تنہا اُٹھائے ہے، صدائے لا إلهَ إلّا اللّٰه پھر ہے
ابتھال ابو السعد کامیابی کا استعارہ