حرام چیزوں سے اجتناب
ایمان ویقین انسان کو جہاں بڑی بڑی بلاوں سے محفوظ رکھتا هے وهی یه ایمان هے که همارا رب سب سے بڑا هے وهی همیں هر مشکل اور بیماری سے محفوظ رکھے گا۔۔اللہ تعالی کا فرمان هے که میں بندے کے گمان کے مطابق معامله کرتا هوں۔وہ جیسا گمان رکھے گس ویسا ہی کروں گا۔یہ یقین دہانی مسلم امت کے لیے بہے بڑا ٹانک هے۔اس یقین کا اثر هے که مسلمانوں کے اندر خودکشی کا رجحان غیر مسلم قوموں کی نسبت کافی کم هے۔ایران میں کرونا وائرس سے متاثر بهت ضعیف جوڑا جو صحت یاب هوا هے ان سے جب پوچھا گیا تو انهوں نے الله پر یقین اور ایمان کو سب سے بڑی وجه بتایا۔چاوید چودھری کےمطابق اس وقت 2604 کھرب پتی ایسے هیں جو اس بیماری سے محفوظ هیں یه وه لوگ هیں جو زندگی میں کچھ نا کچھ کرتے رهتے هیں ۔۔اور کبھی مسائل کے سامنے ہار نہیں مانی۔ان کی اس خوبی سے ان کے اندر قوت مدافعت بڑھ گی۔جس کی وجہ سے وہ اب تک کرونا سے محفوظ هیں۔
آررگیںنک فوڈ۔۔۔ویسٹرن لوگوں کا طرز حیات مصنوعی هے وه فاسٹ فوڈ کھاتے هیں جبکه مسلمان ابھی بھی اپنی روایات پر باقی هیں۔۔خاندان کا اداره قائم ہونے سے تازه اور طیب کھانا میسر هے۔جبکہ ویسٹ میں یه سب بھولی بسری یاد بن چکا هے۔مسلمان حرام سے اجتناب کرتے هیں ۔شراب اور دیگر نشه آور چیزوں کے استعال سے ویسٹ میں امیون لیول متاثر هوا هے۔
پانی کا استعمال۔۔۔واش روم کے لیے پانی کا استعمال مسلمانوں کا خصوصی وصف هے همارے هاں اجڈ سے اجڈ بھی یه تصور نهیں کر سکتا که وہ ٹشو استعمال کرے۔۔۔یہ چیز بھی انسان کو روحانی طور پر مضبوط کرتی هے۔
عبادت۔۔۔مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتے هیں جس سے ان کا روحانی تعلق مضبوط هوتا هے اور پانچ وقت کے وضو سےانکا جسم کی قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے۔اور سائنس یہ بات تسلیم کر چکی ہے۔موجودہ دور میں سب سے ذهین اور قابل وه هے جو رو حانی طور پر مضبوط هے۔جب که غیر مسلم ان برکات سے محروم هیں۔
مسلمان لقمه حلال اور نطفه حلال پر یقین رکھتا هے۔۔یہ چیز اسے بیماریوں سے بچاتی هے چین سے شروع هونے والا کرونا سانپ سے انسانوں میں منتقل هوا۔۔اور چینی سانپ کا سوپ بهت شوق سے پیتے هیں۔
پردے کی اب سے پہلے دنیا بہت مخالف تھی مگر کرونا نے بتا دیا که ناک ڈھانپنے سے بهت سے وائرس انسان کے اندر نہیں جا پاتے۔۔اس سے پہلے بھی سکن سپیشلسٹ کهه چکے هیں که فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے چهرے کو ڈھانپ کر رکھیں۔مسلمان عورت کا مقام پہلہ ہی گھر اور چاردیواری ہوتا ہے اور جب باہر نکلتی ہے تو حجاب پهنتی هے۔۔اگر مسلم عورتیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا هوں تو کافی حد تک ان وائرس سے بچاو ممکن ہے۔
مغرب اپنے هی بچھاے هوے جال میں پھنس چکا هے۔بقول اقبال
تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک په آشیانه بنےگا نا پائیدار ہوگا