372

حوریہ سے ام الیتامہ تک:

تحریر شئیر کریں

حوریہ الجزائر کی رہنے والی ایک باہمت خاتون تھی۔ کالج کے دنوں میں، اسے اپنے ایک ہم جماعت سے محبت ہوئی اور دونوں نے نکاح کرلیا۔ شادی کے بعد ان کی زندگی کا آغاز خوشیوں سے ہوا، لیکن وقت نے انہیں ایک کڑی آزمائش میں ڈال دیا۔

پندرہ سال کے دوران، حوریہ کے آٹھ بچے پیدا ہوئے، لیکن قسمت نے ہر بار ایک نیا زخم دیا۔ کوئی بچہ چھ ماہ زندہ رہتا، تو کوئی دو سال میں دنیا چھوڑ دیتا۔ ان کی گود بار بار بھرتی، اور بار بار اجڑ جاتی۔ زندگی کے یہ زخم ابھی تازہ تھے کہ حوریہ کا شوہر بھی دنیا سے رخصت ہوگیا۔

یہ دکھوں سے بھری کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ شوہر کے انتقال کے کچھ عرصے بعد، حوریہ کو ایک اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑا—کینسر۔ اب وہ ایک ایسی زندگی گزار رہی تھی جس میں نہ ماضی خوشگوار تھا، نہ مستقبل روشن۔

زندگی کا نیا رخ

اسپتال کے بستر پر لیٹی حوریہ کے دل میں ایک سوال ابھرا:
*”اگر میں کینسر کو ہرا بھی دوں، تو کس کے لیے زندہ رہوں؟”*

اس سوال نے اس کے اندر مایوسی بھر دی۔ لیکن پھر اچانک، ایک نیا خیال اس کے ذہن میں آیا۔ وہ اسپتال سے نکلی اور گھر پہنچ کر خود کو مصروف کرلیا۔ اس نے صفائی کی، بستروں اور کمبلوں کا انتظام کیا، اور پھر خود سے کہا:”اب میں دوسروں کے لیے جیوں گی!ی

افسانہ روشنی کی رات

تیموں کی ماں

حوریہ نے اپنے گھر کو *”دارالایتامی میں تبدیل کردیا۔ وہ یتیم بچوں کو سنبھالنے لگی، ان کی پرورش کرنے لگی۔ وہ بچوں کے ساتھ ہنستی، کھیلتی، ان کے لیے کھلونے خریدتی، ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خود کو شامل کرلیتی۔

وقت گزرتا گیا، اور اللہ کی مدد سے حوریہ نے نہ صرف کینسر کو شکست دے دی بلکہ اپنے نیک مشن کو بھی مزید آگے بڑھایا۔ جلد ہی پورے الجزائر میں اسے *”ام الایتام”* یعنی *”یتیموں کی ماں”* کے نام سے پہچانا جانے لگا۔

حکومت نے بھی اس کی خدمات کا اعتراف کیا، اور آج، اس کے زیر انتظام درجنوں یتیم خانے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ وہ صرف یتیموں کی ماں نہیں بنی بلکہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے۔

زندگی کا اصل راز

زندگی ہمیں بعض اوقات ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ختم ہوچکا ہے، لیکن درحقیقت وہیں سے ایک نئی شروعات ممکن ہوتی ہے۔ حوریہ کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم دوسروں کی خوشیوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں، تو غم بھی خوشبو بن جاتے ہیں۔

دکھوں کے باوجود جینا سیکھیں، زندگی کا مقصد طے کریں، اور یاد رکھیں—پھول اگانے والے ہمیشہ خوشبو میں رہتے ہیں!

حوریہ سے ام الیتامہ تک:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں