920

دجال کہاں ہے؟

تحریر شئیر کریں

دجال کہاں ہے؟دجال کے فتنے سے کیسے بچا جا سکتا؟کیا وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔جانیے قلم۔کتاب پر

دجال دجل سے ہے۔جس کا مطلب ہے “بہت زیادہ دھوکہ”دجال چونکہ ایک دھوکہ باز اور فراڈیہ شخص ہے۔جو لوگوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرے گا۔وہ خود کو خدا کہے گا جب کہ حدیث کے مطابق “دجال کانا ہے”جبکہ اللہ رب العزت ایسا نہیں ہے۔لوگوں کی اکثریت جو کہ کمزور ایمان والے ہوں گے اس کی پیروی کریں گے۔لوگ اسے نعوذاباللہ خدا مانیں گے اور اس کے پاس دوزخ جنت اور روٹی کا پہاڑ ہوگا جو کہ اصل میں نہیں ہوگا۔اس کی جنت دوزخ ہوگی اور دوزخ جنت۔نبی کریم ﷺ نے اس فتنے سے پناہ کی تلقین کی ہے اور فرمایا جہاں تک ہو سکے اس سے دور رہو۔
سوال یہ ہے کہ دجال کہاں ہے؟کیا اس کے ظاہر ہونے کا وقت قریب ہے۔

صحیح مسلم کی متفق علیہ متواتر حدیث ہے۔ جس کا مفہوم اور لب لباب یہ ہے۔تمیم داری صحابی ہیں جو کہ تیس آدمیوں کے ساتھ بحری سفر پہ نکلے۔ایک ماہ وہ یونہی سفر پہ رہے۔پھر ایک جزیرے سے ان کا گزر ہوا۔جہاں ایک جانور نے انھیں ایک محل میں آدمی کا بتایا۔جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو وہاں ایک دیو قد شخص زنجیرو ں میں جکڑا ہوا خود کو آزاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔صحابی تمیم دارمی نے جب بات چیت شروع کی تو دجال نے ان سے تین جگہوں کے بارے میں دریافت کیا۔بیسان کے بآغ میں کھجورے کے باغ کا پوچھا کہ کیا اس میں کھجوریں اگتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاں آگتی ہیں۔دجال نے کہا کہ جلد ایسا زمانہ آے گا جب یہاں کھجور نہیں اگے گیں۔پھر بحیرہ طبریہ کے پانی کا پوچھا۔تو انھوں نے کہا کہو ہاں وافر مقدار میں پانی ہے۔دجال نے یہاں کے بارے میں بھی کہا کہ پانی غائب ہو جاۓ گا ۔پھر زغر کے چشمے کے بارے میں بھی یہی کہا یہاں تک کہ امیوں کے نبی کے بارے میں بتاو ۔۔۔انھوں نے بتادیا جو جو دجال پوچھتا رہا۔پھر اپنے بارے میں بتایا کہ مجھے عنقریب یہاں سے رہائی ملے گی پھر میں چالیس دنوں میں پوری دنیا گھوموں گا سواۓ مکہ مدینہ کے یہاں مجھے داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے

موجودہ دور کے فتنوں سے کیسے بچا جاۓ؟


جہاں تک سوال ہے کہ دجال کہاں ہے؟تو مسلم کی اس حدیث کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ آگاہ رہو کہ دجال شام یا یمن کی طرف ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔اس وقت ایران کا علاقہ اصفہان جس کی بستی یہودیہ ہے جہاں سے دجال نکلے گا اور ستر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہوں گے۔جنہوں نے سبز رنگ کے چولے پہنیں ہوں گے۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر سے یہودی ایران کے اس صوبے میں اکٹھے ہورہے ہیں۔اور حدیث کے مطا بق غرقد کا درخت جو یہودیوں کو پناہ دے گا وہ بھی دھڑا دھڑ لگا رہے ہیں۔لگتا اس کے ظہور کا وقت قریب ہے۔ہو سکتا کچھ سن گن ان شیطانی طاقتوں نے لگا بھی لی ہو کہ وہ کہاں ہو سکتا۔مگر چونکہ یہ شیطانی گروہ اس کے چیلے ہوں گے اس لیے باقی دنیا سے چھپاۓ بیٹھے ہوں۔مگر ہمارا ماننا تو یہ ہے کہ جب اللہ کا حکم ہوگا وہ ظاہر ہو جاۓ گا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ برمودا ٹرائی اینگل جہاں کوئی جا نہیں سکتا۔چلا بھی جاۓ تو کوئی واپس نہیں آسکتا۔کیونکہ وہاں پہ ہر چیز جا کر غائب ہو جاتی ہے۔برمودا ٹرائی اینگل کے حوالے سے بہت سے داستانیں مشہور ہیں۔سردست ہمارا موضوع نہیں ہے۔

حدیث کے مطابق لد کے مقام پر جہاں حضرت عیسی ؑ اسے قتل کریں گے وہاں ائیر پورٹ بنا کر دجال کو بھگانے کے لیے جدید طرز کا طیارہ بنا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔عجیب بات یہ کہ حدیث کے مطابق دجال کے ماتھے پہ ک ف ر لکھا ہو گا تو اس طیارے پہ بھی یہی الفاظ انگلش میں لکھے ہوۓ ہیں۔افسوس کی بات کہ شیطانی طاقتیں کتنی برق رفتاری سے تیاریوں میں مصروف ہیں مگر ہمیں فرصت ہی نہیں کہ ہم خود کو اس فتنے سے بچانے کے لیے کچھ کر سکیں۔وہ فتنہ جس کے لیے ہر نبی کو خبردار کیا جاتا رہا ہے اور نبی کریمﷺ نے اس سے پناہ مانگی ہے اور اس کی سنگینی کا بتا کر امت کو الرٹ جاری کیا ہے۔

ہم دجال سے کیسے بچ سکتے؟

اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ نے صرف اس فتنے سے خبردار ہی نہیں کیا بلکہ اس کے تدارک کا بھی بتایا ہے۔

یقین کامل

قوت ایمان اور یقین کامل وہ ہتھیار ہیں جو دجال کے سامنے نہیں چل سکیں گے۔ لہذا اپنے ایمان کو مضبوط بناو۔

سورہ کہف کی تلاوت

سورہ کہف کی ہر جمعہ تلاوت کو معمول بناو۔۔اور اس سورت کو سمجھ کر اس میں موجود چار فتنوں پہ غور کرو آج ہمیں یہی فتنے الجھاۓ ہوۓ ہیں۔اس سورت کی ابتدائی دس آیات اور آخری آیات کو زبانی یاد کر کے پڑھا کریں۔

مسنون دعا

کر۔نماز میں مسنون دعا کو التحیات کے بعد ضرور پڑھیں۔”اللھم انی اعوذبک من فتنہ المسیح الدجال”
نبی کریم ﷺ نے بتا دیا کہ جب دجال نکل آۓ تو اس دور رہنا۔کیونکہ بڑے بڑے دعویدار جن کو زعم ہوگا کہ دجال ان پہ حاوی نہیں ہو سکے گا۔اس فتنے کی زد میں آجائیں گے۔قوت یقین ایمان کامل سورہ کہف اور دعا کے ہتھیار سے دجال کی تیاری کریں۔اس یقین کے ساتھ کہ اللہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو اس فتنہ عظیم سے بچاۓ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں