دعا مکمل تھیراپی کیسے بن سکتی ہے؟جانیے قلم کتاب پر
دعا ایک مکمل تھیراہی ہے۔جو اللہ نے اپنے بندے حضرت آدم ؑ کو خود سکھائی۔جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔آپ ﷺ نے دعا مانگنے کی تعلیم دی ہے۔دعا عبادت کا مغز ہے۔دعا وہ خوبصورت رسی ہے جو بندے کو اللہ سے جوڑ کے رکھتی ہے۔
دعا قبول کیوں نہیں ہوتی؟
دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک اہم رکاوٹ یکسوئی کا نا ہونا ہے۔یکسوئی کیا ہے؟پورا جسم دل و دماغ سمیت ایک نکتے پہ مرکوز ہو جانا۔کسی نے پوچھا ایک نکتے پہ مرکوز کیسے ہوا جاتا ہے؟کہا گیا کہ کسی ایسی ماں کو دیکھا جس کا بچہ گم گیا ہو۔اب اس کے جسم و روح کی ساری کیفیات ایک ہی نکتے پہ مرکوز ہو کر دعا بن جاۓ گی۔اسے کہتے ہیں یکسوئی فوکسڈ۔۔۔آپ کی دعا میں جتنا فوکس ہو گا اتنی ہی دعا کی قبولیت کے چانس بڑھ جائیں گے۔
مائنڈ سائنسز کے ماہرین کہتے ہیں کہ جب انسان یکسو اور فوکس ہو کر کوئی کام کرتا ہے تو یہ پیغام لاشعور میں چلا جاتا ہے جو دماغ کی اصل میموری ہے۔اس میں فیڈ ہونے کے بعد دماغ اپنی پروگرامنگ شروع کر دیتا ہے۔یعنی اس کام کے حصول کی تگ ودو شروع کر دیتا ہے۔دماغ میں اتنی پاور ہوتی ہے کہ یہ چیز پہ ایمان لے آتا ہے۔اس کو کرنے کے ہزاروں طریقے ڈھونڈ ڈھونڈ کے آپ کے سامنے لے آتا ہے۔لہذا فوکس ہوۓ بغیر دعا مانگنا ایک لگی بندھی روٹین کے تحت،ایک روٹین ہوتی ہے دعا ہر گز نہین۔ہم کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتی اس کے مقابلے میں اگر دیکھیں کہ بہت سی دوسری دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں۔اس کی وجہ یہ کہ کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کے لیے کی جانے والی دعائیں روٹین کے تحت مانگتے ہیں۔ٹیپ چل رہی ہوتی۔دماغ کو پتہ ہی نہیں چلتا۔اس لیے بے دھیانی سے مانگی گئ دعائیں پوری نہیں ہوتیں۔
دعا مانگنے کا طریقہ
دعا کے لیے مکمل یکسو ئی اختیار کریں۔فوکسڈ ہو جائیں۔
اللہ کی حمد وثناء بیان کریں۔جو دعا مانگنے جا رہے اس کے پورا ہونے کے بعد کا امیج بنائیں۔تصور کریں کہ آپ اپنے گھر میں پر سکون زندگی گزاریں ۔اب اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی والا ایک امیج بنائیں۔دعا کےالیے اٹھے ہاتھوں سے زرا اوپر تین باکس بنائیں۔امیج والے بوکس کو سب سے اوپر رکھیں۔اس کے بعد والے بوکس میں آپ نے عملی اقدامات کی لسٹ رکھنی ہے۔جی ہاں اللہ کہتے ہیں کہ کچھ ہلو جلو قدم اٹھا ؤ تاکہ کچھ حاصل ہو۔
یہ بھی پڑھیے
آپ نے دعا مانگی گھر کے سکون کی۔۔اب غور کریں کہ آپ کے گھر کے سکون میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں۔ان رکاوٹوں میں سے کون سی رکاوٹیں حل طلب ہیں۔ان کو الگ کر لیں۔کسی سے معافی مانگنی ہے۔اپنی روٹین بہتر کرنی ہے۔بچوں کو وقت دینا ہے۔بچوں کی گرومنگ کے لیے پیرنٹنگ سیکھنی ہے۔خاوند کو خوش کرنے کے لیے نئ ڈشز سیکھنی ہیں۔وغیرہ جیسے اقدامات درمیان میں رکھیں گے۔سب سے نچلے بوکس میں دعا اور یقین ہوں گے۔یقین اس بات کا کہ دعا قبول ہو چکی ہے۔بس مانگنے کی دیر ہے اور چیز آپ کے حوالے کر دی جائی گی۔یا پینڈنگ میں ڈال دی جاۓ گی یا پھر آخرت کے لیے بچا کر رکھ دی جاۓ گی اور اللہ پہ یقین اور بھروسہ رکھتے ہوۓ دعا کے تینوں درجات میں سے کسی ایک درجے پہ آپ کی دعا ضرور رکھی جاۓ گی۔اور اسی میں ہی آپ کی بہتری ہے۔اس بات پہ یقین کہ دیر کا مطلب انکار ہرگز نہیں ہے ۔اور جو دعا قبول نہیں ہوئی اس کے متبادل عطا کر دیا جاۓ گا۔دینے والا خوب جانتا ہے کب اور کس وقت کیا دینا ہے؟یہ صرف وہی جانتا کہ اس کے بندے کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے۔5
اس طریقے سے مانگی ہوئی دعا ضرور قبول ہوگی۔دعا مکمل تھیراپی اسی صورت میں بن سکتی جب خالی الفاظ ادا کر کے اپنی ذمہ داری سے فارغ نا ہوا جاۓ۔اپنے حصے کا کام بھی کیا جاۓ۔اور اس مقصد کے لیے امیج کے زریعے دماغ کی پروگرامنگ بھی کی جاۓ۔تاکہ دماغ اس چیز کے حصول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات شروع کر دے۔