346

رمضان المبارک 2025 کی منی کہانیاں

تحریر شئیر کریں

منی کہانیاں ادب کی جدید اصطلاح ہے جس میں مختصر الفاظ میں کہانیاں کو اسلوب میں ڈھالا جاتا ہے رمضان المبارک 2025 کی منی کہانیاں

1. افطار کی برکت

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حسنہ بی بی کا دستر خوان ہر سال وسیع ہو جاتا تھا۔ محلے کے غریب اور مسافر ان کے گھر افطار کرنے آتے تھے۔ مگر اس سال مہنگائی کی وجہ سے ان کے شوہر نے خرچ کم کرنے کا کہا۔ حسنہ بی بی کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، لیکن پھر بھی انہوں نے افطار میں صرف گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔

ایک دن دروازے پر دستک ہوئی، ایک غریب مزدور نے ہاتھ جوڑ کر کہا، **”بی بی جی، روزہ ہے، کچھ کھانے کو دے دیں۔”** حسنہ بی بی نے ہچکچاتے ہوئے پلیٹ میں کھانے کا کچھ حصہ نکال کر دے دیا۔ وہ شخص دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔

اسی شام ان کے شوہر حیران رہ گئے جب ایک پرانے دوست نے انہیں رمضان کے صدقے کاروبار میں بڑی سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی۔ حسنہ بی بی نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا، **”اللہ اپنے مہمانوں کو کھلانے والوں کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔”**

2. غصے کا بدلہ دعا سے

احمد ایک غصے والا لڑکا تھا۔ رمضان میں بھی وہ ہر بات پر چیخنے چلانے لگتا، روزے کے دوران برداشت کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔ اس کی والدہ ہمیشہ اسے سمجھاتیں، **”بیٹا، روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں، صبر اور تحمل سیکھنے کا موقع بھی ہے۔”

ایک دن بازار میں احمد کا کسی شخص سے جھگڑا ہو گیا۔ وہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا اور چیخنے ہی والا تھا کہ اچانک اسے نبی کریمﷺ کی حدیث یاد آ گئی، **”اگر کوئی تمہیں گالی دے یا جھگڑا کرے تو کہو، میں روزے سے ہوں۔”

احمد نے اپنا غصہ ضبط کیا اور نرمی سے کہا”بھائی، اللہ آپ کو خوش رکھے، میں روزے سے ہوں۔”** وہ شخص حیران رہ گیا اور معذرت کرنے لگا۔ اس دن احمد کو حقیقت میں صبر اور روزے کا اصل مقصد سمجھ آیا۔

3. عید کے نئے کپڑے

آمنہ اور اس کی بہنیں عید کے نئے کپڑوں کے لیے بہت خوش تھیں، لیکن ان کی پڑوسن رضیہ بی بی کی بیٹی چھوٹی زینب خاموش تھی۔ اس کے والد بے روزگار تھے، اور اس سال وہ نئے کپڑے نہیں خرید سکتی تھی۔

آمنہ کی ماں نے بیٹیوں کو سمجھایا”بیٹا، خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ اگر ہم اپنی چیزوں میں سے کچھ حصہ کسی ضرورت مند کو دیں تو اللہ ہمیں اور زیادہ عطا کرے گا۔”

آمنہ اور اس کی بہنوں نے دل پر جبر کر کے اپنی عید کے کچھ نئے کپڑے زینب کے لیے دے دیے۔ عید کے دن جب زینب خوشی سے نئے کپڑے پہن کر آئی، تو آمنہ اور اس کی بہنوں کے دل میں ایک انوکھی خوشی تھی، جو کسی بھی نئے لباس سے زیادہ قیمتی تھی۔

“یہی رمضان 2025 کا درس ہے، دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھنا!”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں