397

سرکاری اداروں میں قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلا آباد۔۔پاکستان کے سرکاری اداروں میں قرآن مجید ترجمہ لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاۓ گا۔وزیر مملکت علی محمد خاں نے قرارداد پیش کی۔جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔
۔۔۔
قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنا ایک مسلمان کو حقیقی معنوں میں مسلمان بنانے میں مدد دے گا انشاء اللہ
۔۔۔۔۔۔
قرآن مجید انسانوں کے نام اللہ کا آخری پیغام یعنی خط ہے۔اور کتنے افسوس کی بات ہے عمریں گزر جاتیں ہیں مگر ہم اس خط کی عبارت کو پڑھتے رہتے ہیں۔اس کے مفہوم سے آشنا ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔
۔۔۔۔
بحثیت مسلمان ہم جتنا بھی پڑھ لکھ جائیں۔علم کے انبار لگا دیں۔اگر قرآن نهیں پڑھا تو کچھ بھی نهیں پڑھا۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
تم خوار ہوۓ تارک قرآں ہو کر

ہر نبی کو کوئی نا کوئی معجزہ دیا گیا مگر نبی کرہم ﷺ کو قرآن دیا گیا۔یہی اس امت کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔دل و دماغ کو حیران اور عاجز کر دینے والی اس کتاب کا موضوع کائنات کی بھول بھلیاں نہیں بلکہ صرف اور صرف انسان ہے۔خود قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے”جو سراسر خیر اور بھلائی ہے۔جس کا پیغام ہدایت ہے۔جو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف لے جانے والی کتاب ہے۔جو دلوں کے زنگ دور کرتی ہے دل و دماغ کے قفل کھول کر ان کو ایمان اور یقین سے منور کر دیتی ہے۔
قرآن مجید کے بارے حدیث ہے کہ” اس سے علماء کبھی سیر نہیں ہوں گے اور اس کے معجزات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔”
غرض یہ وہ کتاب ہے جو الکتاب ہے جس کے آنے کے بعد دنیا ویسی نہیں رہی جیسی پہلے تھی۔اس کو سمجھ کے پڑھنے والوں کے دل بھی بدل جایا کرتے ہیں۔پہلے جیسے نہیں رہتے۔تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجے۔عمر کو عمر فاروق بنانے والی کوئی چیز ہے تو وہ قرآن ہے۔
یہ وہ کتاب ہے جس کے آنے کے بعد اللہ نے خود فرمایا الرحمن علم القرآن
رحمن وہ ہے جس نے قرآن سکھایا۔۔۔مختصر یہ کہ سید مودودی اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے زمانے کے علوم پڑھے لائبریریاں کنگھال ڈالیں مگر جب قرآن پڑھا تو پتہ چلا یہ شاہ کلید ہے۔یہ ماسٹر کی ہے جس چیز پر بھی لگاؤ گے کھل جاۓ گی۔
۔۔۔آئیے اس ماسٹر کی کو جانیے یہ کیا ہے۔قرآن کہتا کیا ہے؟پڑھ کر تو دیکھیے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں