Pims hospital hads 14

شمعیں بجھ گئیں، سوال باقی ہیں

تحریر شئیر کریں

Pims hospital hads

26 اگست کی سیاہ رات پمز اسلام آباد کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ سے اٹھنے والے دھوئیں نے صرف ایک عمارت کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا، بلکہ قوم کے اجتماعی ضمیر اور ممتا کی آغوش کو جھلس کر رکھ دیا۔ وہ این آئی سی یو (NICU) جہاں نرسری کے شیشوں میں بند ننھی سانسوں کو زندگی کی امید دی جاتی ہے، چند ہی لمحات میں ایک بے رحم تنور بن گیا۔ وہ 14 نومولود بچے، جنہوں نے ابھی دنیا کی ہوا میں پہلی بار کھل کر سانس بھی نہیں لی تھی، آکسیجن کے سلنڈروں کی لپیٹ میں آنے والی آگ کا رزق بن گئے۔
یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ان ان گنت خوابوں کا قتلِ عام ہے جو ان بچوں کے والدین نے برسوں کی دعاؤں کے بعد سجے تھے۔ ذرا اس ماں کا تصور کیجیے جس کے ہاتھوں میں خوشبو کی جگہ راکھ کا ڈھیر آ گیا ہو، اور اس باپ کی حالت کا اندازہ لگائیے جو چند لمحے پہلے پھول سے بچے کے لیے دودھ کی بوتل لینے باہر گیا تھا اور واپسی پر اسے بتایا گیا کہ اس کا جگر گوشہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ یہ وہ کرب ہے جسے الفاظ میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔
ابتدائی رپورٹوں میں آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ اور آکسیجن لائنوں کی موجودگی بتائی گئی ہے، اور روایت کے مطابق تحقیقاتی کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تحقیقاتی کمیٹیوں کا کاغذ پر لکھا قلمی بیان ان مائوں کی گود بھر سکتا ہے؟ ہمارے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتباہی نظام (Fire Alarm Systems) اور ہنگامی اخراج کے راستے اکثر صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود کیوں ہوتے ہیں؟ جب بات ایمرجنسی اور آئی سی یو کی ہو، تو وہاں غفلت کا ایک لمحہ یا تکنیکی خامی براہِ راست موت کا پروانہ بن جاتی ہے۔
اس سانحے کو محض تقدیر کا لکھا یا دشمن کی سازش قرار دے کر ذمہ داری سے پلڑا جھاڑنا سب سے بڑا ظلم ہوگا۔ جب تک ہم اپنی نااہلی، ناقص انفراسٹرکچر اور دیکھ بھال کی کمی کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ اگر ہم واقعی ان معصوم روحوں کی قربانی کا احترام کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں تعزیت کے کھوکھلے الفاظ سے آگے بڑھ کر احتساب کرنا ہوگا—ان کا بھی جنہوں نے اس نظام کو اس حد تک گلنے سڑنے دیا۔
ان 14 معصوم بچوں کی بوجھل خاموشی ہم سے صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے: کیا ہماری غفلت یوں ہی ہمارے بچوں کے مستقبل اور سانسوں کو نگلتی رہے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں