شوگر کے مریضوں کے لیے روزه کس طرح سے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
تحریر : لبنٰی جمشید
ہمارے یہاں عموماََ یہ تاثر قائم ہے کہ شوگر کے مریض کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے لیکن بشمول پاکستان 13 ممالک کے ماہرین کی ٹیمز نے اس پر ریسرچ کی جسے ”ایپڈیالوجی آف ڈائیبیٹس اینڈ رمضان“
کا نام دیا گیا۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے شوگر میں مبتلا مریض اپنے ڈاکٹر کے مشورے اور احتياطی تدابیر اپناتے ہوۓ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں کیونکہ جس گروپ پر تجربہ کیا گیا ان میں سے ایک وسیع تعداد نے تسلیم کیا کہ شوگر کی مقدار کی کمی یا زیادتی کا روزے سے تعلق نہیں محسوس ہوا۔ عام دنوں کی طرح ہی اس کی مقدار رہی ہے۔ باوجود اس کے علما۶ کے نزدیک شوگر کے مریض کو روزے میں رعایت حاصل ہے۔ روزے سے شوگر کے مریضوں کی صحت کو چار طرح کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں.
بلڈ میں شوگر کی کمی
بلڈ میں ہائیپو گلائیسیمیا (شکر کی مقدار) میں کمی کی صورت صحت کے پیچیدہ مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر خوراک کا مناسب استعمال کیا جاۓ اور پابندی سے رات کا کھانا اور سحری کی جاۓ۔ مشقت سے گریز کیا جاۓ تو روزے کے دوران شکر کی مقدار نارمل ہی رہتی ہے۔
بلڈ میں شوگر کی زیادتی
خون میں شکر کی مقدار کے بڑھنے کو ”ہائیپر گلائیسیمیا “ کہتے ہیں۔ اگر اس کی مقدار چند دن تک بڑھتی ہی رہے تو مریض کومے میں بھی جا سکتا ہے۔ یہ ایک خطرناک قسم ہے۔ اس کنڈیشن کے آثار نظر آتےہی روزہ چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
پانی کی کمی
پیچیدگی کی اس قسم کاتعلق موسمی اثرات سے ہے۔ ہم گرمیوں میں پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں باوجود اس کے گرمی اور پسینے سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ شوگر کے مرض میں یہ کمی عام فرد کی نسبت تیزی سے واقع ہوتی ہے۔ اس لیے ذیابيطس کے مریض اگر روزہ رکھنے کے خواہشمند ہیں تو افطاری سے سحری تک کے درمیان مختلف مشروبات, جوس , پانی اور ایسی سبزیاں اور فروٹ جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو وہ استعمال کریں۔
خون کے لوتھڑے بننا
پانی اور ورزش کی کمی سے عموماََ شوگر کے مریض کے جسم میں لوتھڑے سے بن جاتے ہیں جو شریانوں میں جم کر دل ک امراض کا باعث بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر کسی جگہ خون کی متواتر گردش نہ ہو پاۓ تو گینگرین جیسےموزی مرض کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔ اس کا بہترین حل خون پتلا کرنے والی ادوایات کا رمضان سے قبل ہی استعمال شروع کرنا ہے۔ یہ خاص طور پر ڈاکٹر کے مشورے پر ہی لینی چاہیے۔
خوراک سحری
شوگر کے مریضوں کو سحری میں ذیادہ آئیلی اور تلا ہوا پراٹھا کھانے سے گریز کرنی چاہیے۔ ایسی خوراک کھائیں جس میں کاربوہائیڈریٹ اور نشاستہ موجود ہوں تا کہ خوراک دیر تک ہضم ہو اورمسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گندم یا جو کی روٹی بہترین غذاۓ سحری ہے ۔ الائچی کا قہوہ بھی پیاس کم کرتا ہے اور ہاں ادویات لینا بالکل نہیں بھولیں
خوراک افطاری اور ڈنر
ذیابيطس کے مریض کو دو سے ذائد کجھوریں نہیں کھانی چاہئیں ۔ اس کے علاوہ سلاد اور رائیتہ کا استعمال کریں وہ غذا کھائیں جس میں شکر کم سے کم موجود ہو۔
ان تمام احتیاطی تدابير اپناتے ہوۓ رمضان کریم کے روزے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اللہ پاک اپنا کرم فرماۓ اور رحمتیں و برکتیں سمیٹنے کی توفیق ہر مسلمان کو نصیب ہو۔ آمین