494

عید الاضحی اور ہماری یادیں

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔
تحریر :فائزہ ظفر

سنت ابر اھیمی ،حضر ت اسماعیل کی عظیم قربا نی کی یا د دلاتی ہے جو رھتی دنیا تک قا ئم رھے گی انشا اللہ ۔
بقرہ عید ، جسے بڑ ی عید بھی کہا جاتا ہے، کی تیاری ذوالحج کے مبا رک مہینے سے ھی شر و ع ھو جا تی ہے، گھر کے بڑے قر با نی کے جا نو ر ڈسکس کر تے ، اور ھم مہندی چو ڑ یا ں عید کے کپڑ ے ،پھر عید کی صبح ،ابو ،دادا ابو عید کی نما ز پڑھ کے آتے ، آ کے پیا ر کرتے ، عید ی دیتے،آہ ان کی شفقت ،پھر دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ،گھر کی عو ر تیں کچن میں مصر وف ، نئے نئے پکوان بناتیں اور مسکراتے چہروں کے ساتھ سب کو خوش آمدید کہتیں ہیں۔
پھر وقت نے اڑان بھری اور ہم ایسی بہت سی خو بصورت عیدوں کی یا د یں لے کر میکے سے سسر ال آ ن پہنچے،یہاں بھی عید اپنے سبھی خوبصورت رنگوں کےساتھ منائی جاتی۔پہلے ہی دن قریبی عزیزوں کی دعوت عید کو چار چاند لگا دیتی۔خوب مزے ہوتے۔وقت اسی طرح گزر رہا تھا۔کہ اچانک وقت نے پلٹا کھایا ۔کرونا وائرس کی وبا آزمائش بن کر پوری دنیا پر ٹوٹ پڑی۔وقت کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ہر کوئی پریشان پریشان سا وقت کی اس بساط پر حیران و پریشان۔
پھر رمضان آیا پھر عیدالفطر بھی اسی پریشانی کی نظر ہوگئ۔بہت سوں نے اپنوں کو کھویا اور بہت سے تندرست ہو کر گھر وں کو پلٹے تو اپنوں کی جان میں جان آئی۔موت ہر وقت سرہانے ہوتی یہ ہمہ وقت حقیقت ہے پر اس حقیقت کو عملی طور پر کرونا نے محسوس کروایا۔
ایک اور دکھ بھی باقی دکھوں میں شامل ہوا۔جس کا کرب وہی جانتے جو حج پہ جانے والے تھے پر جا نا سکے۔کیونکہ احتیاط ضروری ہے۔ اپنوں سے محبت اپنی جگہ ، لیکن اپنوں کی زندگیاں بھی تو بہت عز یز ھیں ، اللہ پا ک اس آز ما ئش کو جلد ی ختم کر ے ، پھر سے وہی رو نقیں بحا ل ھوں ، گلے مل کے عید مبا رک کہیں ۔اپنی نبی ﷺ کی پیا ری سنتو ں کو تا ز ہ کریں ۔
کررونا کی وجہ سے معیشت بھی بہت متاثر ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں اپنوں کا بوجھ بانٹا جاۓ۔ ان کی چپکے سے مدد کی جاۓ۔ تا کہ سب عید کی خو شیاں منا سکیں ، وقت اور حا لات کبھی ایک سے نہیں رہتے ، انشا اللہ عید کی وھی رونقیں ھو ں گی ، اللہ ھما ر ے ملک کو سلامت رکھے ، آپ سب کو شاد آبا د رکھے ، فی امان اللہ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں