غسل میں ایسی کون سی غلطی جس سےغسل نہیں ہوگا۔جانیے۔قلم کتاب پر
طہارت آدھآ ایمان ہے۔اس بات میں کسی شک وشبے کی گنجائش نہیں ہے ۔یہ ہادی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔۔ بدقسمتی یہ ہے کہ۔صفائی کو جتنی ویلیو اسلام نے دی ہے مسلمانوں۔نے اتنا ہی۔اس سبق کو فراموش کیا ہے ۔یورپ والے اس کی اہمیت جان چکے ہیں۔جبکہ ہم میں سے اکثر کو ابھی شرعی غسل کا صحیح طریقہ بھی نہیں آتا ۔شرعی غسل کےنام پر ایسی ایسی گپیں ملے گیں کہ الامان۔۔
صحیح غسل کا طریقہ صحیح حدیث کے مطابق
غسل سے پہلے وضو کرنا
پورے پر تین بار پانی بہانا کہ
کوئی جگہ بھی خشک نا رہے
بس اتنا۔سا۔کام ہے نا کوئی مٹی ملنی اور نا ہی کلمےپڑھنے۔۔نہاتے ہوئے جب بولنا ہی ممنوع ہے تو پھر کلمے پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
ایسی کیا غلطی جس کے ہونے سے غسل نہیں ہوگا ۔اور نے سرے سے غسل کرنا پڑے گا ۔
نہاتے ہوے اگر آپ کے ہاتھ شرم گاہ سے ٹچ کر جائیں تو غسل فاسد ہو جائے گا کیونکہ حدیث کے مطابق اگر شرم گاہ کو ہاتھ لگ جانے توو ضو ناقص ہوجاتا ہے اور وضو ختم ہونے سے غسل بھی نہیں ہو گا ۔لہذا شرم گاہ کووضو سے قبل اچھی طرح سے دھو لیا جائے تاکہ بعد میں ہاتھ نا لگانا پڑے۔یہ وہ غلطی ہے جس کے ہونے سے غسل نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں
باتھ روم استعمال کی حفاظتی تدابیر
کچھ لوگ سادہ نہانے کو ہی غسل سمجھ لیتے ہیں۔غسل کے لیے وضو شرط ہے۔اور وضو کبھی بھی اٹیچ واش روم میں مت کریں۔باہر سے کر کے جائیں ۔اسی طرح واش روم میں پڑی رہنے والی چیزوں کے بارے میں بھی واضح رہے کہ چاہے وہ صابن ہویاپانی۔۔۔وہ ناپاک ہوتا ہے۔وہ پانی جو کسی بالٹی میں بھر کر رکھا ہوا ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باتھ روم کو شیطان کا گھر کہا ہے۔جو چیز شیطان کے ساتھ رات گزارے وہ پاک کیسے کر سکتی وہ تو خود ناپاک ہے۔لہذا صابن باہر سے لے کر جائیں اور پانی ٹیب کا استعمال کریں۔
غسل میں ایسی کون سی غلطی جس سےغسل نہیں ہوگا
غسل واجب ہے۔اس کے بغیر پاک نہیں ہوا جاسکتا ۔اتنا علم ضرور حاصل کریں کہ پاک رھنا سیکھ سکیں وگرنہ عبادت بھی کسی کام کی