باتھ روم استعمال کی حفاظتی تدابیر حوالے سے اہم تحریر پڑھیے قلم کتاب پر
کیا زمانے تھے جب باتھ روم گھروں سے باہر چھت پہ یا پھر گھر کے آخری حصے میں بناۓ جاتے تھے۔اس کے پیچھے بڑی حمکت کارفرما تھی۔باتھ روم وہ جگہ ہے جہاں نجس اور ناپاک چیزیں رہتیں ہیں۔اس حوالے سے اس جگہ کا استعمال جتنا ضروری ہے اتنا ہی اس کے استعمال کی حفاظتی تدابیر کا جاننا بھی ضروری ہے تاکہ ہم ان منفی شعاعوں سے بچ سکیں جو ہمیں روحانی طور پر کمزور کرتی ہیں۔
باتھ روم استعمال کی حفاظتی تدابیر کے سلسللے مین باتھ روم جانے کی دعا کے مطالب پہ غور کیجیے۔اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبائث”اے اللہ میں تجھ سے باپاک جنوں اور جننیوں سے پناہ میں آتی ہوں”اس دعا کے مطالب سے ظاہر ہوتا ہے کہ باتھ روم میں جن وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی نجس اور ناپاک جن۔۔۔۔یہ چیزیں انسان کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتیں۔اس لیے باتھ روم میں جانے سے پہلے دعا پڑھنے کا حکم ہے۔تاکہ ہم اللہ کی پناہ میں آسکیں۔
باتھ روم کی صفائی ستھرائی پہ کبھی بھی سمجھوتہ مت کریں۔رات سو نے سے پہلے باتھ روم کی اچھی طرح صفائی کرکے سوئیں۔
یہ بھی پڑھیے
دوسری اہم بات باتھ روم جاتے ہوۓ ننگے سر نہیں جانا چاہیے۔یہ چیز بھی خواتین کو روحانی طور پر کمزور کرتی ہے۔باتھ روم داخل ہوتے وقت بایاں پاؤں اندر رکھنا اور باہر آتے وقت دایاں پاؤں باہر نکالنا چاہیے ۔تاکہ ہم روحانی طور پر مضبوط ہو سکیں۔
تیسری اہم بات باتھ روم میں کبھی بھی کپڑے مت لٹکائیں ڈاکٹر شیخ عائض القرنی اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ “باتھ روم میں ایک رات تک لٹکے رہنے والے کپڑوں میں جتنی نیگٹو شعاعیں بھر جاتی ہیں۔اس کا خاتمہ تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔اس کا اگر ازالہ کرنا بھی چاہیں تو کم ازکم بہتر گھنٹوں تک ان کپڑوں کو دھوپ میں رکھیں۔اس لیے میلے کپڑوں کو کبھی بھی باتھ روم میں مت رکھیے۔ان کو باتھ روم سے باہر ٹوکری وغیرہ میں رکھیں۔
چوتھی اہم بات باتھ روم کا دروازہ کھلا رکھنے سے متعلق ہے۔ڈاکٹر عائض نے اس کے نقصانات پہ مفصل بحث کی ہے۔اور یہ انسان کے حفاظتی امور میں سے ہے کہ وہ باتھ روم کا دروازہ بند رکھیں۔کبھی بھی کھلا مت چھوڑیں۔باتھ روم سے منفی شعاعیں اور ناپاک جن اور جننیوں کو باہر آنے کا موقع ملتا ہے اور یہ پورے گھر میں پھیل کر بیماری نحوست اور ڈپریشن پھیلاتی ہیں۔
پانچویں اہم بات باتھ روم میں کبھی بھی جا کر روئیں مت۔۔۔رونے کی حالت میں انسان جذباتی طور پر کمزور ہوتا ہے۔اور اسی حالت جب آپ ہوں بھی باتھ روم میں تو جنات وغیرہ کو آپکے جسم میں داخل ہونے کا بھر پور موقع مل جاتا ہے۔عموما نوجوان نسل اپنے کسی بریک اپ کے بعد باتھ روم جا کر دل کا غبار نکالتے ہیں جو کہ انتہائی مضر ہے۔باتھ روم جا کر گفتگو کرنا یا رونا شادی کی تاخیر اور رزق کی تنگی کا باعث بنتا ہے۔مشکلات مستقل طور پر ڈیرہ ڈال دیتی ہیں۔اس عمل سے تشنج اور مرگی جیسی بیماریاں تک حملہ آور ہوتی ہیں۔
باتھ روم روم استعمال کی حفاظتی تدابیر میں سے ہے کہ اس میں کبھی بھی خوشبوئیں عطرات وغیرہ نا رکھیے۔اور نا ہی ان چیزوں کا استعمال باتھ روم میں کیجیے۔
حفاظتی تدابیر
اپنے گھر میں وقتا فوقتا کھڑکیاں کھول کر کلونجی کی دھونی دیجیے۔ہر دوسرے تیسرے دن سورہ بقرہ کی تلاوت لگائیے۔اس عمل سے آپ اپنے اندر ایک مثبت توانائی اور بہتری محسوس کریں گے۔کلونجی کی دھونی سے شیاطین اور جن بھاگ جاتے ہیں۔(حدیث نبوی)
گھر میں زیادہ آئینے لٹکانا بھی روحانی طور پر درست عمل۔نہیں ہے۔اسی طرح جس جگہ سے کوئی اٹھ کر گیا ہو اس جگہ پہ بیٹھنے سے گریز کریں۔صبح وشام کی دعاؤں کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں۔عورتیں اپنے بالوں کو کبھی بھی کاٹے بغیر اور بسم اللہ پڑھے بغیر مت پھینکیں۔آج بھی گاؤں وغیرہ میں عورتیں اپنے بال سرعام نہیں پھینکتیں بلکہ مٹی میں دباتی ہیں۔ان بالوں پہ شیاطین جادو وغیرہ کر کے نقصان پہنچاتے ہیں۔
رات کو دعائیں آیت الکرسی سے پہلے سورہ ملک پڑھنے کی عادت ڈالیے۔یہ نا صرف عذاب قبر سے نجات کا سبب ہے بلکہ انسان کے لیے قیامت کے دن سفارشی بن کر آۓ گی اور اسے بخشوا کر چھوڑے گی۔
گھر میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ پڑھ کر داخل ہوں۔اس سے شیاطین گھر میں داخل نہیں ہوتے۔یہ باتھ روم استعمال کی حفاظتی تدابیر ہیں جو علماء و سلف صالحین نے بتائی ہیں۔ان پر عمل پیرا ہونے سے ڈپرہشن بیماری نحوست اور روحانی کمزوری سے بچا جا سکتا ہے۔
باتھ روم جانے کی حفاظتی تدابیر اپنے پیاروں سے شئیر کیجیے۔