854

لکھاری کے لیے کن باتوں کا جاننا ضروری هے؟

تحریر شئیر کریں

لکھاری کے لیے کن باتوں کا جاننا ضروری ہے؟جانیے قلم کتاب پر

قلم اٹھانے سے پہلے لکھاری کو جن چیزوں کا خود کو عادی بنانا چاہیے وہ درج ذیل ہیں:
(1) مطالعہ
(2) مشاہدہ
(3) مکالمہ
(4) سماعت
(5) تحریک

لکھاری کے لیے کن باتوں کا جاننا ضروری هے؟

(1: مطالعہ)


کہتے ہیں کہ پڑھے بغیر لکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ جادو سے،  بغیر بیج کی گندم کا کھیت اگاؤ۔ یعنی جس طرح ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، اسی طرح مطالعے کے بغیر اچھا لکھنا ممکن نہیں۔
کتابوں کے مطالعے سے نت نئے خیالات اور نکات سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات لکھنے والے نے جو بات سوچی بھی نہ ہوگی، وہ قاری کی سمجھ میں آجاتی ہے اور ایک نئے موضوع پہ لکھنے کی بنیاد بن جاتی ہے۔
لیکن ایسا بھی ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی بھی کتاب ہاتھ لگی اور پڑھ ڈالی۔ تھرڈ کلاس ناولز کبھی مت پڑھیے۔ سوشل میڈیا پہ چھپنے والے وہ ناول جو ادبی اعتبار سے بہت دور ہیں وہ مت پڑھیے ورنہ آپ کی ناؤ بھی ڈوب جائے گی۔
دینی اور ادبی کتب کا مطالعہ کیجیے۔فلسفہ اور تصوف پڑھیے۔کلاسیک ادب کا مطالعہ ضرور کیجیے،آپ کی اردو بہتر ہوگی۔ نامورلکھاریوں کی کہانیاں پڑھیے اور ان کے انداز تحریر پہ غور کیجیے ۔اخبارات اور کالم پڑھیے۔غیر ملکی ادب بھی پڑھا کیجیے۔


آپ کو مطالعہ کے ذریعے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملے گا اور لکھنے کو بھی،  اس کے علاوہ آپ کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوگا اور جملوں کی بناوٹ کا درست طریقہ آپ کو ذہن نشین ہوتا رہے گا۔
جب بھی کوئی کتاب پڑھیں، کتاب کے مقدمے، تقاریظ اور پیش لفظ کو سب سے پہلے ضرور پڑھیں۔
مطالعے کے لیے بہتر ہے کہ نظام الاوقات بنایا جائے تاکہ روزانہ پابندی سے مطالعہ کیا جا سکے۔

(2: مشاہدہ)


اس دنیا کی ہر چیز، فطرت کا ہر رنگ، اور کائنات کے کینوس پر بکھری ہرتصویر ،انسان سے کچھ نہ کچھ کہتی ہے۔اس پیغام کو مشاہدہ کے ذریعے سنا جاسکتا ہے۔مشاہدہ سے مراد ہے اپنے ماحول اور حالات کا جائزہ لیتے رہنا،  جہاں  نت نئی تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے باعث جو نتائج سامنے آرہے ہیں ان سے زندگی کس قدر متاثر ہورہی ہے۔
ایک لکھاری کے لیے ماحول اور حالات و واقعات سے واقفیت حاصل کرنا، اس کی قوت تخیل میں ہلچل پیدا کردیتا ہے۔ جس سے تصورات کے نئے در وا ہوتے ہیں اور نئے موضوعات سامنے آتے ہیں۔


یاد رکھیے!  جو کہانیاں ہمیں ہمارا ماحول سناتا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں پڑھنے کو نہیں ملتیں۔اس لیے مشاہدہ کے ذریعے اپنے ماحول کی کہانیاں پڑھیں، سمجھیں اور انہیں لکھنے کی کوشش کریں۔
روس کے بہت سے ادیب ایسے ہیں جنہوں نے صرف اپنے گاؤں کے ماحول کی کہانیاں لکھ کر ادب میں بڑا نام بنایا۔ منشایاد کی کہانیاں ہمارے معاشرے کی کہانیاں ہیں۔ان کی کہانیاں پڑھیں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ یہ تو میرے ماحول کی کہانی ہے۔ سو، اپنے آس پاس کے لوگوں کا، ان کے جذبات و احساسات، ان کی خواہشات، رویوں، مشکلات اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کریں اور لکھیں۔

سید مودوی اردو ادب کا درخشندہ ستارہ

(3: مکالمہ)


مکالمہ سے مراد بات چیت یا گفتگو ہے۔ اچھی تحریر لکھنے کے لیے اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لکھاری کو اُن لوگوں سے گفتگو کرکے، جن سے متعلقہ موضوع سے متعلق معلومات دستیاب ہوسکتی ہیں، معلومات جمع کرنے کا فن آتا ہو۔ طلبہ،  اساتذہ، والدین اور دیگر لوگوں سے بات چیت اور سوالات کرکے درپیش مسائل، اور مسائل کے حل کے متعلق بہت سی معلومات مہیا ہوسکتی ہیں۔ پھر تحریر لکھتے وقت یہ معلومات آپ کے ذہن میں ہوں گی تو آپ ایک اچھی اور معلوماتی تحریر لکھ پائیں گے۔

(4: سماعت)


اگر آپ ایک اچھے سامع ہیں تو یقین جانیے، آپ اچھا لکھنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ آپ اہل علم و ادب کی صحبت تلاش کریں۔ ان کی گفتگو غور سے سنیے۔اہل علم لوگ باتوں باتوں میں بہت کچھ سکھا بھی دیتے ہیں اور ایسے موتی بھی بکھیر دیتے ہیں سننے والے کے لیے کچھ نیا لکھنے کا سبب بن جاتے ہیں۔


اس کے علاوہ لوگوں کے مسائل سننے کا موقع ملے تو سننے سے گھبرایے نہیں، توجہ سے سنیے، ان کا حل سوچیے، اور اس پہ تحریر لکھ ڈالیے۔ایسی تحاریر پڑھنے والوں کے بہت کام آتی ہیں۔ان کے لیے ایسی تحریر پڑھ کر مثبت فیصلے کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

(5: تحریک)


اچھا اور مسلسل لکھنے کے لیے تحریک ملنا بہت ضروری ہے۔اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ کو واقعی لکھنے کا شوق ہے تو اپنے شوق کے متعلق نامور لکھاریوں کو ضرور بتائیں، ان سے مشورہ لیں۔ ان کی باتوں سے آپ کو ضرور تحریک ملے گی۔
کسی موضوع پہ قلم اٹھانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ آپ کی تحریر کتنے، بہت سے لوگ پڑھیں گے، اور ان کے کام آئے گی انہیں راہ نمائی ملے گی۔یہ سوچ تحریک کا باعث بنے گی۔


جب بھی آپ کی کوئی تحریر کہانی، مضمون یا خط، کسی بھی شکل میں شائع ہو، آپ سینئر لکھاریوں کو دکھائیں۔ان کی حوصلہ افزائی تحریک کا باعث بنے گی اور آپ دوبارہ قلم اٹھا لیں گے۔
اس کے علاوہ لکھنے کے لیے ایسے ماحول اور جگہ کا انتخاب کریں جہاں بیٹھ کر آپ تسلسل سے لکھ سکیں، سوچ سکیں، کہانی بُن سکیں، اور یہ ارتکاز ٹوٹ نہ سکے۔
لکھاریوں اور کالم نگاروں کے انٹرویو بھی پڑھا کیجیے۔

لکھاری کے لیے کن باتوں کا جاننا ضروری هے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں