25

مٹی کے رنگ

تحریر شئیر کریں

کیا تم نے کبھی مٹی کا رنگ غور سے دیکھا ہے؟

وہی مٹی جس پر ہم بے فکری سے قدم رکھتے ہیں، کبھی کسی کے گھر کی بنیاد ہوتی ہے، کبھی کسی بچے کا کھیل کا میدان، اور کبھی کسی ماں کی آخری پناہ گاہ۔

غزہ میں اب مٹی صرف مٹی نہیں رہی تھی۔

اس میں گھروں کی راکھ گھلی تھی، دیواروں کے ٹکڑے ملے تھے، دعاؤں کی نمی تھی اور ان لوگوں کے قدموں کے نشان تھے جو اپنے گھروں سے نکلے تو تھے، مگر انہیں خبر نہیں تھی کہ واپسی کے لیے گھر باقی بھی رہے گا یا نہیں۔

صبح ہوئی تو امِ یوسف نے اپنی آنکھیں کھولیں۔

خیمے کے باہر ابھی روشنی پوری طرح نہیں اتری تھی۔

اس نے سب سے پہلے اپنے تین بچوں کو دیکھا۔

چھوٹا یوسف اپنی بہن سے لپٹا سو رہا تھا۔ بڑی بیٹی مریم جاگ رہی تھی اور خاموشی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔

“امّی… آج کھانے کو کیا ہے؟”

امِ یوسف نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔

ماں کے پاس اکثر بچوں کے سوالوں کے جواب ہوتے ہیں۔

مگر بھوک کے سامنے ماں بھی کبھی کبھی بے زبان ہو جاتی ہے۔

اس نے مسکرا کر بیٹی کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔

“ان شاء اللہ کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔”

یہ وہ جملہ تھا جو وہ کئی دنوں سے بول رہی تھی۔

اور ہر بار اسے کہتے ہوئے اس کا دل پہلے سے زیادہ ڈوب جاتا تھا۔

خیمے کے باہر لوگوں کی قطار لگی تھی۔

کسی کے ہاتھ میں خالی برتن تھا، کسی کے ہاتھ میں پلاسٹک کا ڈبہ۔

کسی کی گود میں بچہ تھا اور کسی کے چہرے پر وہ خاموشی، جو مسلسل خوف سہنے والوں کے چہروں پر اتر آتی ہے۔

مریم بھی اپنی ماں کے ساتھ قطار میں کھڑی ہو گئی۔

اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا برتن تھا۔

وہ بار بار اسے دیکھتی۔

جیسے خالی برتن سے بھی امید وابستہ ہو۔

قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔

مگر راشن کم تھا۔

لوگ زیادہ تھے۔

اور بھوک کسی قطار کا انتظار نہیں کرتی۔

مریم نے دیکھا کہ اس کے سامنے ایک بوڑھا شخص کھڑا ہے۔

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

وہ اپنے خالی برتن کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھا۔

جب تقسیم کرنے والے نے اس کے برتن میں تھوڑا سا کھانا ڈالا تو بوڑھے نے فوراً اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

مریم نے حیرت سے دیکھا۔

بوڑھے نے کھانا کھایا نہیں۔

اس نے برتن میں سے آدھا کھانا نکالا اور اپنے پیچھے کھڑے ایک بچے کو دے دیا۔

مریم کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“بابا… آپ نے اپنا کھانا اسے کیوں دے دیا؟”

بوڑھے نے بچے کی طرف دیکھا۔

پھر مریم کی طرف۔

“بیٹی، بھوک کی کوئی قوم نہیں ہوتی۔”

مریم خاموش ہو گئی۔

بوڑھا آہستہ سے بولا:

“اور بھوک سے بڑا امتحان یہ ہے کہ انسان خود بھوکا ہو کر بھی کسی دوسرے کو بھوکا نہ دیکھ سکے۔”

دور کہیں دھماکے کی آواز آئی۔

لوگ سہم گئے۔

ماؤں نے اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیا۔

کچھ لمحوں کے لیے پوری قطار خاموش ہو گئی۔

پھر زندگی نے دوبارہ اپنی کمزور سی آواز نکالی۔

کسی بچے کے رونے کی آواز۔

کسی ماں کے تسلی دینے کی آواز۔

کسی بوڑھے کی دعا۔

اور کہیں بہت دور سے اذان کی آواز۔

امِ یوسف نے آسمان کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

“یا اللہ…”

بس اتنا ہی کہہ سکی۔

اس کے پاس شکوے بہت تھے۔

مگر دعا ایک ہی تھی۔

بچوں کے لیے امن۔

رات کو مریم نے ماں سے پوچھا:

“امّی، جنگ کا رنگ کیا ہوتا ہے؟”

امِ یوسف کچھ دیر خاموش رہی۔

پھر بولی:

“جنگ کا کوئی ایک رنگ نہیں ہوتا، بیٹی۔”

“تو پھر؟”

“کبھی یہ دھوئیں کی طرح سیاہ ہوتی ہے… کبھی خون کی طرح سرخ… کبھی ملبے کی طرح خاکستری۔”

وہ رک گئی۔

پھر بیٹی کو اپنے قریب کر لیا۔

“مگر یاد رکھنا، اللہ کی رحمت کا رنگ ان سب رنگوں سے زیادہ روشن ہے۔”

مریم نے پوچھا:

“رحمت کا رنگ کیسا ہوتا ہے؟”

ماں نے اس کے ماتھے کو چوما۔

“جب کوئی بھوکا ہو اور کوئی اپنا نوالہ اسے دے دے… وہ رحمت کا رنگ ہے۔”

“جب کوئی یتیم ہو اور کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھ دے… وہ رحمت کا رنگ ہے۔”

“جب دنیا خاموش ہو اور کوئی مظلوم کے لیے دعا کرے… وہ بھی رحمت کا رنگ ہے۔”

مریم کچھ دیر ماں کو دیکھتی رہی۔

پھر آہستہ سے بولی:

“امّی… کیا غزہ دوبارہ سبز ہو جائے گا؟”

امِ یوسف نے آسمان کی طرف دیکھا۔

رات بہت گہری تھی۔

مگر دور کہیں ایک ننھی سی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔

اس نے کہا:

“ان شاء اللہ۔”

“کیسے؟”

ماں مسکرائی۔

“کیونکہ مٹی میں ابھی دعائیں زندہ ہیں۔”

صبح ہوئی تو مریم خیمے کے باہر نکلی۔

رات کی ہوا نے ملبے کے قریب پڑی مٹی کو ہلکا سا ہٹایا تھا۔

وہاں ایک ننھا سا سبز پودا نکلا ہوا تھا۔

مریم جھک کر اسے دیکھنے لگی۔

اس نے اپنی چھوٹی انگلی سے مٹی صاف کی۔

پھر مسکرا دی۔

جنگ نے بہت کچھ چھین لیا تھا۔

گھر۔

کھلونے۔

کتابیں۔

محفوظ بچپن۔

مگر ایک چیز ابھی باقی تھی۔

امید۔

اور شاید دنیا کی ہر تباہی کے بعد سب سے پہلے یہی چیز دوبارہ جنم لیتی ہے۔

ایک ماں کی دعا میں۔

ایک بچے کی آنکھ میں۔

ایک بھوکے انسان کے بانٹے ہوئے نوالے میں۔

اور اس مٹی میں…

جس نے بے شمار آنسو پی کر بھی سبز ہونا نہیں چھوڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں