668

میوزک اسلام اور جدید سائنس

تحریر شئیر کریں

میوزک اسلام اور جدیدسائنس عصر حاضر کا ایک اہم موضوع ہے۔جانیے اس بارے میں وہ معلومات و حقائق جن سے آپ اب تک ناواقف تھے۔

اس مردہ خاتون کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا۔میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں دیکھ کر۔۔۔۔مرنے والی عورت کا چہرہ بہت عجیب سا تھا۔۔۔مجھے دھچکا لگا۔تھوڑا غور کیا سب نین نقش ویسے تھے پر جیسے تھے ویسے دکھ نہیں رہے تھے۔کچھ کیفیات کو بیان کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔میرا بھی اس وقت یہی حال ہے۔میں لکھ نہیں پا رہی اس کیفیت کو،جو اس لمحے میں نے محسوس کی۔۔۔۔تھوڑا غور کیا کہ ان کا چہرہ ایسا کیوں ہوا وہ تو بڑی نرم دل خاتون تھیں۔یکدم چھناکا ہوا۔نبی کریم ﷺ کا قول یاد آیا “منافقوں کے چہرے بدل جائیں گےوہ خاتون میری ایک قریبی عزیز تھی۔بچپن سے جانتی تھی کہ وہ موسقی کی شوقین تھیں۔شادی بیاہ پہ بڑے ذوق شوق سے گانے گایا کرتی تھی اور گانا نفاق کی علامت ہے۔۔ان کی یہ عادت بڑھاپے تک ساتھ رہی۔تھوڑا اور غور کیا تو پتہ چلا جو چیز اتنی پسند ہو کہ آپ کے خون میں رچ بس جاۓ تو پھر بہت کم ہوتا ہے کہ ایسی چیز سے توبہ کی جاۓ۔کیونکہ توبہ اسی کام سے ہوتی جسے ہم برا سمجھتے ہوں۔جب برا ہی نہیں سمجھیں گے تو توبہ کیسی؟ان خاتون کا بھی غالبا یہی معاملہ تھا۔
قرآن کی سورہ لقمان میں لھو لعب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔آئمہ اکرام کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد گاان بجانا ہے۔حدیث میں گانے بجانے کو نفاق کی علامت کہا گیا ہے۔اور منافقوں کی موت اہسے ہوگی کہ ان کے چہرے سیاہ اور تاریک ہوجائیں گے۔یہی کیفیت میں نے مذکورہ عورت کے چہرے پہ محسوس کی تھی۔

گانا بھی اور بجانا بھی اب ہمارے کلچر میں اتنا عام ہو گیا ہے کہ لوگ اسے گناہ نہیں سمجھتے۔سمجھتے بھی ہیں تو بہت کم۔جبکہ اسے نفاق کی علامت کہا گیا ہے۔اور منافق کی جگہ جہنم کا سب سے نچلا حصہ ہے اور یہ لوگ کافروں سے بھی بدتر ہوں گے۔

موبائل نے جہاں سوشل ڈسٹنس پیدا کیا ہے وہی گانے بجانے کو بھی فروغ دیا ہے۔میوزک نا بھی سنے تب بھی ٹیونز کی صورت آپ کے کانوں میں یہ سیسہ انڈیلا جا رہا ہوتا ہے۔اور نا محسوس طریقے سے اس کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔کچھ گناہ ایسے ہیں کہ ان کی یاد دہانی خود کو کرواتے رہنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم ان کے عادی نا ہو جائیں۔کہیں توبہ کیے بغیر ہی رخصت نا وہ جائیں۔

اپنے بچوں کو بچپن سے بتائیں کہ موسیقی اور گانا بجانا اسلام میں حرام ہے۔انھیں بتائیں کہ گانا شیطان کی اذان ہے۔نہیں سنتے تو بھی بتائیں۔چپ نہ رہیں حکمت سے ان کو تلقین کرتے رہیں اور دعا بھی انشاء اللہ بچپن کی یہ تربیت بڑے ہوکر اثر ضرور کرے گی۔انشاء اللہ

موسیقی کے حق میں دلائل دینے کی بجاۓ اس پہ ریسرچ کریں۔جانیں کہ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔حضرت داودؑ کی آواز اور خوش الحانی سے زبور پڑھنے کو موسیقی کے جائز ہونے کی دلیل مت بنائیں۔خدارا شریعت کو توڑ مروڑ کر پیش نا کریں یہ کام یہود نے کیا تھا۔

کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے مدینے آنے پر بچیوں کے دف بجانے پر ان کے اس عمل کو بھی جواز بناتے ہیں اور ڈھولک کو جائز قرار دیتے ہیں۔اس پہ بھی تحقیق کی ضرورت ہے۔

موسیقی ترتیب دینے سے لے کر گانے تک ایسی ایسی تحقیقات سامنے آ چکی ہیں کہ سنیں تو دنگ رہ جائیں۔کچھ واقعات اس ضمن میں پڑھے ہیں۔کہا جاتا ہے موسیقی کا ر جب دھن ترتیب دیتے ہیں تو اس کے نو سٹیپس ہوتے ہیں۔تب جا کر ایک راگ پورا ہوتا ہے۔جب ان راگوں کو ترتیب دیا جاتا ہے تو ان کے اندر ایسے شیطانی فقرے ڈی کوڈ کر کے ڈالے جاتے ہیں ۔جیسے آئی لو شیطان۔۔نعوذ باللہ اس اس طرح کے فقرے الٹے کر کے ڈالے جاتے جنہیں ہمارا لا شعور سمجھ رہا ہوتا ہے مگر شعور نہیں۔اس طرح کے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ میوزک اسلام اور جدید سائنس کو نوجوان نسل تک پہنچانا کتنا ضروری ۔

اسی طرح ایک واقعہ پڑھا کہ موسیقی سے نکلنے والی ریز انسان کے اوپر کس طرح اثر انداز ہوتیں ہیں۔واقعہ ملاحظ کیجیے
“ایک میوزک کنسرٹ کے شروع ہونے سے پہلے سٹیج کے نیچے کچھ انڈے رکھے گۓ۔جب دو گھنٹے بعد دیکھا تو وہ بوائل ہو چکے تھے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ویوز کتنی گرم اور دماغ کو کس قدر سٹیمولیٹ کرتیں ہیں۔کہ انسان کے لیے زنا کی طرف مائل ہونا کس قدر آسان ہو جاتا ہے جو شخص میوزک کا رسیا ہوتا ہے۔
جدید سائنس نے میوزک کو نشے کی طرح انسانی دماغ پہ اثرا نداز ہونے سے تشبہیہ دی ہے۔اس۔مقصد کے لیے چوہوں پہ تجربہ گیا۔اور انھیں میوزک سنوایا گیا میوزک سننے کے بعد چوہوں کے لیے اپنی بھول بھلیوں میں راستہ تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔حالت موسیقی میں انسان کا دماغ ماوف اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں متاثر ہوتیں ہیں۔انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔کوئی بھی چیز جو اس کی عقل۔پہ غالب اۓ حرام ہے چاہے وہ مسیقی ہو یا شراب۔میوزک اسلام اور جدید سائنس کا

یہ بھی پڑھیے

موبائل بانجھ پن کا باعث بن سکتا

علم انسان کو اصل حقائق سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔

افلاطون نے آج سے صدیوں پہلے گا نے کے بارے می کہا تھا کہ گانے کوعوام الناس سے دور کیا جاۓ اس سے معاشرے پہ تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
شیخ فضل بن عیاض روحانی فلاسفر ہیں ا ن کا کہنا ہے کہ گانا زنا کا ابتدائیہ ہے۔غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ گانے اور میوزک کے زریعے انسان کے دماغ کے سامنے والے حصے کو Lambic۔جو جذبات اور سیکس کو کنٹرول کرتا اور ابھارتا ہے کو متحرک کیا جاتا ہے۔نوجوان نسل کو میوزک سے اتنالگاؤ کیوں ہوتا ہے؟کیونکہ وہ انکے سفلی جذبات کو ابھارتا ہے۔اور رفتہ رفتہ یہ عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے۔کہ گناہ کا احساس تک مٹا دیتی ہے۔اور آج کل کے بچوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو پیدا ہوتے ہء میوزک سنتے ہیں۔کیا بڑے ہو کر وہ یہ بات مانیں گے کہ میوزک حرام ہے؟
کچھ حالات موسیقاروں اور گلوکاروں کا بھی سن لیجیے
مایہ ناز پاپ سنگر مائیکل جیکسن کو کون نہیں جانتا ان کی زندگی کے آخری سال کا احوال پڑھ لیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ موصوف اس خبط میں مبتلا تھے کہ میں ہزاروں سال جیو ں اور موت بھی میرا کچھ نا بیگاڑ سکیں۔اپنی کمائی کا بڑا حصہ ڈاکٹروں اور پرہیزی کھا وں پہ استعمال کرتے اور تو اور اکسیجن ٹینٹ میں سوتے۔۔۔ان کے اس وہم اور صفائی سے خبط نے انھیں جوانی میں ہی موت کے منہ میں پہنچا دیا تھا۔
ملکہ ترنم نورجہاں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت توہم پرست تھی۔کئ کئ ہفتے نہاتی نہیں تھی۔اپنے گھر میں قبر کھود رکھی تھی جسکے ساتھ انکی توہمات وابستہ تھیں۔اس سے پتہ چلا کہ میوزک انسانی عقل کو ماوف کر انھیں حواس باختہ کردیتا ہے۔

میوزک اسلام اور جدید سائنس وہ موضوع جو ہر دین پہ چلنے والے کا موضوع ہونا چاہیے۔اس کے بارے مین جاننا اورمعلومات حاصل کرنا آج کے مسلمان پہ لازم ہے۔ان معلومات کو جانیے اور آگے پہنچائیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں