665

نبی کریم ﷺ بطور ایماندار تاجر

تحریر شئیر کریں

نبی کریم ﷺ بطور ایماندار تاجر

تحریر : روبینہ شاہین
نبی کریم ﷺ بطور ایک ایماندار تاجر کیسے انھوں نے اپنے وقت کے بڑے بڑے تاجروں کو پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑے اور ایماندار تاجر کے طور پر خود کو منوایا۔
۔۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے سب سے عمدہ راستے کا تعین کرتی ہے۔آپ ﷺ کی ذات گرامی اس امت کے لیے بہترین نمونہ اور وہ جوہر بے بہا ہے جس پر دنیاو آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔
۔۔۔۔۔
مسلمانوں کے زوال کی تاریخ کا یہ نقط عروج ہے۔اس وقت کم وبیش مسلمان ہر شعبے میں زوال کا شکار ہیں۔کاروبار زندگی سے لیکر حکومت تک ہر جگہ مار کھا رہے ہیں۔مسلمانوں کی اس زبوں حالی کی وجہ سنت نبویﷺ کو ترک کر دینے میں ہے۔
آپ ﷺ ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر نمایاں ہیں۔آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ سے شادی سے پہلے انکا سامان تجارت دیگر ممالک لے کے جایا کرتے تھے۔اور دوگنا تگنا منافع لے کر لوٹا کرتے تھے۔انکی اس کامیابی کے پیچھے آپ ﷺ کے عمدہ اخلاق پوشیدہ ہیں ۔جو کسی بھی کاروبار کو عروج پر۔پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ذیل میں ان اوصاف کا تزکرہ کیا جاۓ جن سے آپ ایک کامیاب بزنس مین بن کر دنیا میں ترقی کر سکتے ہیں۔اسلام وہ واحد دین ہے جس میں کامیاب بزنس مین بننے کے بھر پور مواقع موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
تجارت ایک منافع بخش کاروبار
آپ ﷺ کے متعدد اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ تجارت میں ملازمت کی نسبت ستر گناہ زہادہ منافع ہے۔علملا دیکھا جاۓ تو ایک نوکری کرنے والا عمر بھر ایک لگی بندھی آمدن کا پابند رہتا ہے۔جبک جتنی رقم ایک ملازمت والا مہینے میں کماتا ہے بزنس مین ایک دن میں کما لیتا ہے۔لہذا بزنس میں ترقی کے مواقع بہت بڑھ جاتے ہیں۔جو لوگ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں ترقی کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ملازمت کی بجاۓ کاروبار کریں۔آپ ﷺ کو تجارت میں شروع سے ہی دلچسپی تھی۔اسی لیے اسے اپنایا۔حضرت خدیجہ کے علاوہ سائب بن مخزومی کے ساتھ بھی تجارت کی ۔بلکہ اسی نے آپ ﷺ کو تاجرآمین کا لقب دیا۔کاروبار تجارت میں کامیابی کے دو ہی اصول سچائی اور امانت داری۔انہی دو اصولوں کو اپنا کر آپ ﷺ اپنے وقت کے کامیاب بزنس مین کہلاۓ۔
۔۔۔۔
اصول تجارت اور سنت نبویﷺ
۔۔۔۔۔
آپ ﷺ نے جو اصول تجارت خو د اپناۓ اور امت کو دیے وہ قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہیں۔ذیل میں مختصرا ان اصولوں کے بارے میں بات کی جاۓ گی جو اسلام نے تجارت کے لیے ضروری قرار دیے۔اصول تجارت اور سنت نبویﷺ عصر حاضر کا ایک اہم موضوع ہے۔جو کاروباری دنیا میں کے لیے ایک بہترین سٹریٹجی متعین کرتا ہے۔
۔۔۔۔
کسی پر ظلم نا کرو
۔۔۔۔
آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے نا کوئی ظلم کرے اور نا کسی پر ظلم کیا جاۓ۔دونوں ممنوع ہے۔اس حدیث کی رو سے کاروبار میں ہر طرح کی زیادتی حرام ہے۔نبی کریم ﷺ بطور ایماندار تاجر کے اس آصول پر مکمل عمل کرتے تھے۔
۔۔۔
مال ہاتھ میں لینے سے پہلے سودا نا کیا جاۓ۔
۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا “جب تک مال ہاتھ میں نا آ جاۓ معاہدہ پکا نا سمجھا جاۓ۔اس کے پیچھے حکمت بھی یہی ہے کہ معاملات صاف شفاف رہیں۔اور دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی کسی پر ظلم نا کرے۔آجبکل آن لائن تجارت کا رجحان زوروں پر ہے۔عموما جب آن لائن شاپنگ ہوتی ہے تو مال ہاتھ میں آنے سے پہلے سودا طے پاتا ہے جو کہ شرعا غلط ہے۔
۔۔۔۔۔
سود کی حرمت
۔۔۔
اسلام میں سود کی ہر شکل حرام ہے۔سود لینے اور دینے والا دونوں گہنگار ہیں۔اس کی حکمت یہ کہ پیسہ ایک ہاتھ میں جمع نا ہو بلکہ گردش کرتا رہے۔
۔۔۔۔۔۔
نقص بتا کر مال فروخت کرنا۔
۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ نے نقص بتا کر مال فروخت کرنے کی تلقین کی۔ہوتا یہ ہے جب آپ کو پتا ہو کہ نقص بتا نا ہے تو آپ کبھی بھی خراب چیز نہیں بیچے گے۔جس سے ساکھ خراب ہوتی ہے۔ساکھ ہی کاروبار کی جان ہے۔
۔۔۔۔
خریدار کا حق ہے کہ چیز واپس کرے۔
۔۔۔
نبی کریمﷺ کی تعلیمات ہیں کہ اگر خریدار چیز واپس کرنا چاہے تو دوکاندار بخوشی قبول کر لے تو ایسے شخص کے لیے گناہوں سے معافی کا علان ہے۔یی چیز آپ کی ساکھ کو بڑھاتی ہے۔لوگ دس دوکانیں چھوڑ کر آپ کے پاس آتے ہیں کیونکہ انکو یقین ہوتا ہے کہ یہاں پہ چیز واپس ہو سکتی ہے۔پاکستان میں رواج ہے کہ ہر کسی نے لکھ کے لگایا ہوتا ہے کہ چیز واپس نہیں کی جا سکتی۔جبکہ یہ پہلا حق ہے خریدار کا۔اور آپ کا فرض ۔۔امام غزالی کہتے ہیں کہ دوکاندار کو چاہیے کہ چیز واپس لے یقینا اس چیز میں کوئی گڑ بڑ ہے جبھی وہ واپس کرنا چاہ رہا۔
اس کے علاوہ ظلم زیادتی،دھوکہ ، ملاوٹ ،رشوت،سفارش سب حرام ہیں۔ان سے اجتناب ہی آپ کو ترقی دلوا سکتا۔

نبی کریم ﷺ بطور ایماندار تاجر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں