تحریر بنت احمد ۔کراچی۔
ملک کی بنیاد میں علماء حق کا خون ہے۔
ملک کی مٹی میرے اسلاف کی مرہون ہے۔
پاکستان بننے میں علماء کرام کا کیا کردار ہے افسوس آج شاز و نادر ہی کوئ اس بارے میں جانتا ہے بلکہ یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ علماء کرام پاکستان بننے کے خلاف تھے ۔
یہ بلکل بے بنیاد بات ہے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ نے نہ صرف “مسلم لیگ”کی حمایت کی بلکہ وہیں مسلم لیگ کی مذہبی اصلاح کے لئے کئی وفود قائد اعظم محمد علی جناح رح کی خدمت میں بھیجے اور خطوط کے ذریعے بھی اپنے مشوروں سے نوازتے رہے اور خود قائد اعظم نے اسکا اعتراف کیا ہے ۔۔
اور ہر طبقہ فکر نے ہر اختلاف سے بالاتر ہو کر ملک کے لئے قربانی دی اور علماء کرام نے قدم قدم پر رہنمائی فرمائی اور ساتھ شامل رہے “مفتی” محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ” فرمائے تھے کہ میری عمر 12؛سال کی تھی اور ھم بھی نعرہ لگاتے سب کے ساتھ ملکر ۔
“بن کہ رہیگا پاکستان ”
بٹ کہ رہیگا ہندوستان”
“پاکستان کا مطلب کیا”
لا الہ الااللہ”
اور فرماتے تھے اپنی آنکھوں سے علماء کی اور ہزاورں لوگوں کی لاشیں دیکھی ہیں
10لاکھ شہیدوں کی قربانیوں سے یہ۔مملکت خداداد وجود میں آیا ہے بڑے بڑے علماء کرام اس آزادی کی جد وجہد میں شامل رہے۔
علامہ شبیر احمد، عثمانی ،مولانہ ظفر عثمانی ،مفتی شفیع عثمانی ، مولانا خیر محمد جالندھری شاہ عبدالغنی پھولپوری قاری محمد طیب صاحب وغیرہ اور اللہ تعالیٰ نے کیا ماہ مبارک کیا تاریخ 27″ویں شب جمتہ المبارک کا بابرکت دن چنا کیا یہ سب اتفاق سے ہو گیا نہیں محنت، قربانی،جوش،جذبہ،اور اللہ۔کی رحمت اخلاصِ نیت پر یہ پھل ملا۔
اور آج بھی پوری دنیا میں جتنا دین کا کام اللہ کی رحمت سے پاکستان میں ہو رہا ہے خود سعودی علماء کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان سے زیادہ دین کا کام کہیں نہیں ہو رہا ہے یہ دین کی محنت کی برکت ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایسے ہی نہیں لاوارث چھوڑ دیں گے ۔
اسمیں کوئ شک نہیں برائیاں ہیں باطل اپنی پوری محنت کر رہا ہے پوری دنیا کی نظریں بھیڑوں کی طرح پاکستان کو ہڑپ کرنا چاہتی ہیں دین اسلام نشانہ پر ہے مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے اسلام کو بے دردی سے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جارہا ہےاور علماء کرام کو بدنام کیا جا رہا ہے یہ بات ذہن میں رہے جس دن علماء نہ رہے بچا کچا دین بھی ختم ہو جائے گا کہ دشمن کی چال ہی اسلام کو مٹانا ہے مسلمان کو دین سے بد ظن کرنا ہے یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کفار پر جب بھی علماء کرام متحد ہوے ناممکن کو ممکن کر دیا اور یہ ڈر ان کی نیندیں حرام کر رہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام نہ اجایے کیونکہ یہ مدینہ کے بعد دوسری مملکت ہے جو اسلام کے
نام پر وجود میں آئ ۔
جب بھی علماء کرام ۔متفق ہوے اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیاب کیا چاہے وہ ختم نبوت کی تحریک ہو ،چاہے ناموس صحابہ کی حفاظت ہو،چاہےعورت مارچ کا فتنہ ہو چاہے اسلام کے خلاف کوئ بل پاس ہوسب جگہوں علماء کھڑے ہوئے ہر فرقے سے بالاتر ہو کر ۔
ایک ہوئے تو کامیابیوں نے قدم چومے ایک ہوے پاکستان بنا، ایک ہوئے 65″ میں دشمن کو پسپا کر دیا ،ایک ہوئے قادیانی کافر قرار دیے گئے آج اسی ایک ہونے کی ضرورت ہے۔
دشمن کی ہر چال کو ناکام کرنا ہے وطن کو بچانا ہے جس مقصد کے لئے ملک بنا اس اسلامی نظام کو نافذ کرنا ہے بے شک چالیں ہیں ہربے ہیں میر جعفر اور میر صادق ہر دور میں ہیں مگر فتح حق کی ہوئ ہے ھم متحد ہو جائیں جان جائے وطن۔محفوظ رہے اللہ تعالیٰ انبیاء کے وارثوں کی حفاظت فرمائے ارض پاکستان کی حفاظت فرمائے سرحدوں کی حفاظت فرمائے ایک ایک شہری کی جان ،مال ،آبرو کی حفاظت فرمائے اس ملک کو اسلام کا قلعہ بنا دے آمین ۔۔
میرے وطن میرے بس میں ہو تو تیری حفاظت کروں میں ایسے۔
خزاں سے تجھ کو بچا کہ رکھوں بہار تجھ پہ نثار کردوں ۔۔۔۔
پاکستان بننے میں علماء کا کرار