رات کے پچھلے پہر کا وقت تھا۔ وہ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا، چہرے پر الجھن کے آثار نمایاں تھے۔
“میں ہی سب کچھ کرتا ہوں، کماتا میں ہوں، اگر میں نہ کماؤں تو یہ سب کہاں سے کھائیں گے، پیئں گے؟”
یہ سوچ ہر اس شخص کے ذہن میں کبھی نہ کبھی آتی ہے جو اپنے گھر کی ذمہ داریاں اٹھا رہا ہوتا ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہے، انسان تو صرف ایک وسیلہ ہے۔
اللہ رازق ہے – رزق کا فکر مند ہونا کیسا؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِى الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّـٰهِ رِزْقُـهَا۔۔۔
“زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔” (سورہ ہود 6)
یہ سوچ کہ “میرے بغیر سب بھوکے مر جائیں گے” نہ صرف حقیقت سے دور ہے بلکہ یہ اللہ کی قدرت پر شک کرنے کے مترادف ہے۔
ذمہ داری بوجھ نہیں، عبادت ہے!
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (صحیح بخاری 5200)
خاوند اپنے اہلِ خانہ کا محافظ ہے۔
عورت اپنے گھر کی ذمہ دار ہے۔
ہر فرد اپنی ذمہ داری کے بارے میں جواب دہ ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ذہنی دباؤ میں آ جائیں، شکوے کریں یا اپنی محنت کو احسان سمجھیں۔
اللہ ہر تنگی کے بعد آسانی دیتا ہے
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ ۖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٝ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتَاهُ اللّـٰهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللّـٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا
“کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور جس پر تنگی ہے وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرے۔ اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی قدر جو اسے دے رکھا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا۔” (سورہ الطلاق – 7)
مشکل وقت شکوے شکایت کا نہیں، حالات کو بہتر بنانے اور اللہ پر بھروسہ رکھنے کا وقت ہوتا ہے۔
رمضان: خود کو بدلنے کا بہترین موقع
رمضان ہمیں صبر، شکر اور تعلقات کی مضبوطی سکھاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔” (سنن ترمذی 3895)
یہ وقت ہے خود کو جانچنے کا:
کیا ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ احسان والا برتاؤ کرتے ہیں؟
کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو بوجھ سمجھ رہے ہیں یا عبادت؟
کیا ہم رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں یا خود کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں؟
آج ایک فیصلہ کریں
اپنے اہلِ خانہ سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں۔
اپنے مالی معاملات میں تدبیر کریں، لیکن بے جا فکروں سے آزاد ہوں۔
رمضان کو مثبت سوچ، صبر اور تعلقات کی مضبوطی کا ذریعہ بنائیں۔
اللہ ہمیں اپنے گھروں میں خیر و برکت عطا کرے اور ہمیں بہترین اخلاق والا بنا دے۔ آمین۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
کیا ہم اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، یا بے جا فکروں میں الجھ کر خود کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں!
کیا میں ہی سب کچھ کر رہا ہوں؟ ایک سوچ جو بدلنے کی ضرورت ہے!