ہوم اسکولنگ بمقابلہ ریگولر اسکولنگ
بشری احمد
آج کل ہوم اسکولنگ کا نظریہ پوری دنیا میں کافی مقبول ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک اچھا آپشن ہے۔ خاص طور پر کرونا کے حوالے سے دیکھا جائے تو بہت سے لوگوں کے لئے یہ چوائس کے بجائے مجبوری بن چکا ہے۔ پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ جو جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں یا کسی ایسی کالونی میں مقیم ہیں جہاں سب بچے ریگولر اسکولز میں جارہے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ ان کے لیے باقی سب کی ڈگر سے ہٹ کر اس طریقہ تعلیم کو اپنانا آسان نہ ہو۔ خاص طور پر خاتون خانہ کے لئے تو بہت مشکل ہوگا کہ وہ اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں کے ساتھ بچوں کو پڑھانے کا کام بھی خود کریں اور پورے دن کا ایک ٹائم ٹیبل بنا کر اسے فالو کرسکیں۔ لیکن اگر آپ کی فیملی چھوٹی ہے، افراد خانہ معاون ہیں اور آپ کے اندر اتنی استعداد ہے کہ بچے کو خود پڑھاسکیں یا کم سے کم نگرانی کرسکیں تو ہوم اسکولنگ کا آپشن بہترین ہے۔
ہماری ایک دوست نے جو خود بھی ٹیچنگ پروفیشن سے وابستہ تھیں ۔ اپنے بچوں کو اسکولنگ گھر پر ہی کروائی ۔ انہوں نے گھر کا ایک کمرہ اس مقصد کےلئے تیار کر رکھا تھا۔ وہاں دیواروں پر انہوں نے خود پینٹنگ کی جیسی مونٹیسوری کلاس رومز میں کی جاتی ہے۔ ایسے کھلونے رکھے جو تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ وائٹ بورڈ رکھا اور باقاعدہ ٹائمنگ مقرر کرکے انہیں خود پڑھایا۔ میٹرک بچوں نے ریگولر پرائیویٹ اسکول سے کیا۔ انٹر گورنمنٹ کالج سے اور بہت اچھے گریڈ حاصل کیے۔ ماشا اللہ اب تو ان کے بچے پروفیشنل کالجز میں زیر تعلیم ہیں اور کردار اور عادات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اپنے ہم عمر بچوں سے بہت بہتر ہیں۔
میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ ان کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے اور رہائش دو بیڈروم کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ہے۔ اگر ان کا ہوم اسکولنگ کا تجربہ کامیاب ہوسکتا ہے تو ہمارا آپ کا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔ جبکہ اس میں وقت اور پیسے کی بھی ٹھیک ٹھاک بچت ہے۔
یہ بھی بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ اسکول بھیجنے سے بچوں کی سوشل اسکلز بہتر ہوتی ہیں۔ جہاں تک میں نے مشاہدہ کیا ہے۔ سوشل اسکلز خداداد عطیہ ہے۔ جسے انفرادی تربیت سے نکھارا جاسکتا ہے لیکن اکثر اسکولز میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہوتا جس کے تحت بچوں پر انفرادی توجہ دی جاسکے۔ جو بچے فطری طور پر تیز طرار ہوتے ہیں وہ اسکول کی ہر سرگرمی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ اساتذہ بھی انہی پر مہربان دکھائی دیتے ہیں جو ان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔ ان سب پر مستزاد اکثر اسکول کالجز میں ہوشیار بچوں کا ایک گروپ بن جاتا ہے جو سیدھے سادے اور کمزور بچوں کو بلاوجہ پریشان کرتا ہے جسے ہم عرف عام میں بلی کرنا (bullying) کہتے ہیں۔ بچے عموماً ایسے واقعات کا ذکر والدین سے نہیں کر پاتے اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں جو ساری عمر ان کے ساتھ چلتے ہیں۔
جدید تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ جتنی چھوٹی عمر ہوگی ذہن اتنا ہی جلد اور آسانی سے آس پاس کے ماحول کے اثرات قبول کرتاہے۔ ہمارے بچے جب چھوٹی سی عمر میں آدھا دن گھر سے باہر گزاریں گے تو لامحالہ گھر کے بجائے باہر کا اثر زیادہ قبول کریں گے اور ان کی جذباتی وابستگی بھی فیملی سے زیادہ دوستوں کے ساتھ ہوگی۔ آج کل تو ویسے بھی ماحول بہت خراب ہوچکا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کتنا بھی سمجھائیں وہ والدین کے بجائےاپنے ہم عمر دوستوں کی بات زیادہ سنتے اور سمجھتے ہیں۔ کئی بار تو وہ باہر کی بات گھر پر شئیر بھی نہیں کرتے اور والدین کو اصل صورت حال کا پتہ تب چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے حال ہی میں ہونے والے ڈاکٹر ماہا کیس میں دیکھا۔ جہاں ایک پڑھی لکھی لڑکی زیادتی کا شکار ہوتی رہی لیکن کسی سے کچھ نہ کہہ سکی۔ ایسے کئی کیسز دیگر تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ جس سے واضح اندازہ ہوتا ہے کہ چند ایک کے علاوہ بیشتر تعلیمی ادارے طلبا کی کردار سازی کے حوالے سے بالکل بھی اچھا کردار ادا نہیں کررہے اور جو ادارے اچھا کام کررہے ہیں ان کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام آدمی برداشت نہیں کرسکتا ۔
اس بات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ گھر سے پڑھنے والے بچے کسی بھی اعتبار سے اسکول جانے والے بچوں سے کم معیار کے حامل ہوں گے۔ یورپ میں کی جانے والی ریسرچز کے مطابق ہوم اسکولرز بچوں میں اعلیٰ تعلیم کا تناسب ریگولر اسٹڈیز کرنے والوں سے بہتر ہے۔ اب تو یوں بھی انٹرنیٹ کی وجہ سے ہوم اسکولنگ مزید آسان ہوچکی ہے۔ پاکستان میں فن لینڈ یا یورپ جیسا تعلیمی نظام تو ہے نہیں ۔ یہاں تو تعلیم کے نام پر بزنس ہورہا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت بھی بہت اچھی نہیں ہے لہٰذا سمجھدار والدین کو ہوم اسکولنگ کے آپشن پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ کم سے کم بچوں کو پرائمری تعلیم اپنی نگرانی میں گھر پر ہی دی جائے اور جب وہ اس قابل ہو جائیں کہ پریکٹیکل لائف کے چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں تب ہی انہیں عملی زندگی کے میدان میں اتارا جائے۔
ان شاء اللہ وہ ہماری آپ کی امیدوں پر پورا اتریں گے ۔
ہوم اسکولنگ بمقابلہ ریگولر اسکولنگ