میری زندگی میں حجاب کی اہمیت
فاتحہ مبین
آج میں آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں اپنی دوست کی کہانی جس نے مجھے سیدھا رستہ دکھایا.
ایک سال پہلے کی بات ہے.
فاطمہ کو آرمی(پائلٹ) میں جانے کا بہت شوق تھا. وہ تو اپنے یونیفارم پر اپنا نام لکھتی تھی. اور میڈم سے ڈانٹ کھاتی تھی اس پر کوئی اثر نہ ہوتا.
لیکن حجاب کی پابند تھی. اکثر کہتی تھی کہ
“بے حیائی کی ٹھنڈک سے پردے کی گرمائش بہتر ہے. “. مگر مجھے سمجھ نہیں آتی.
پائلٹ کے شعبے میں جانا اس کا جنون تھا. وہ اس کے لیے اپنا سب کچھ لگا رہی تھی تن من دھن. سکول یا کالج کے ہر تقریب میں جو وطن یا شہداء کے بارے میں ہوتا اس کی پر جوش تقاریر ہوتی یا کوئی ملی نغمہ، ہمیشہ کی طرح اول پوزیشن ہوتی.
اچھا یہ تو تعارف تھا.
اب آگے سنے.
اس نے ٹیسٹ دیا. پاس ہوئی. انٹرویو کے لیے بلایا. حجاب میں گئ. اس نے پورے اعتماد اور پر جوش ہو کر سوالات کے جواب دیے.
ایک آفیسر نے اس سے کہا کہ :آرمی کے لیے آپ کو حجاب چھوڑنا ہو گا. وہ اپنے حجاب کے معاملے میں بہت سنجیدہ تھی.
وہ آفیسر کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہا کہ: میں اپنا خواب چھوڑ دوں گی مگر حجاب نہیں.
حجاب میرا ایمان ہے، میرا تحفظ ہے، میرا فخر ہے. اس کو میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گی.
یہ کہہ کر وہ وہاں سے آ گئ. وہ کیا شعر ہے :
میرا حجاب، میرا فخر، میری حرمت، میرا تحفظ.
میری عقیدت، میری عزت، میرا مذہب، میری چاہت.
ادھر آفیسرز یہ سوچ رہے تھے کہ جو اپنے حجاب کو نہیں چھوڑ سکتی تو وہ اپنے خواب کےلیے کتنی سنجیدہ ہو گی.
میں نے اسے کال کی اور اس سے انڑویو کے بارے میں پوچھا تو اس نے روداد سنائی.
میں اس سے بہت ناراض ہوئی اور یہ کر کال کاٹ دی کہ گھر آکر پوچھوں گی.
میں اگلے دن اس کے گھر آئی اور بہت خفا ہوئی کہ اپنے بچپن کے خواب کے لیے اس نے ایسا کیوں کیا. اپنے حجاب کو اپنے خواب پر ترجیح دی.
تو اس کی باتیں سن کر میں بہت متاثر ہوئی اور میں نے بھی حجاب شروع کر دیا. اس کی باتیں آج بھی میرے ذہن نشین ہیں. ویسے بھی ہمیں سمجھاتی رہتی لیکن ہم نے نظر انداز کرتے. آج اس نے زبردستی مجھے بیٹھا کر سمجھایا اور وہ بھی اپنی لائبریری میں. میں اس کی لائبریری دیکھ کر دنگ رہ گئی.
” حجاب کے معنی اچھی اور خوبصورت چیزوں کے درمیان کوئی ایسی حائل ہونے والی چیز کے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے اوجھل ہو جائیں.
مثلاً : دیکھو ایک ہیرا کا پتھر ہے، قیمتی ہے. خاص ہے اس کو کیسے لے کر جائیں گے، اس کو رکھا کیسے جاتا ہے؟
میں نے کہا : ظاہر ہے پوری سیکورٹی کے ساتھ سنبھال کر یا پھر کسی ایک شخص کے ذریعے چھپا کر. اس کو لوکر میں بند کر کے.
فاطمہ : بلکل ایسے ہی. اللہ نے بھی ہمیں ہیرا بنایا ہے. جس کو ہمارے والدین سنبھال کر رکھتے ہیں. ہم ان کے ہیرے سے بھی بڑھ کر ہیں.
اچھا اب یہ پردے کا حکم سنو. یہ نہ صرف ہمارے لیے ہے بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی ہے.
اور ہماری ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں کو بھی حکم تھا.
پھر اس نے قرآن مجید کی آیت سنائی.
ترجمہ : “نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور اس کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے”.
سری لنکا میں حجاب اور اسلامی سکولوں پر پابندی
اس آیت کو آیت حجاب کہا جاتا ہے. اس آیت کے نازل ہوتے ہی ازواج مطہرات نے اپنے گھروں کے آگے پردے لٹکا لیے.
” اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بتایا ہوا حیا اور حجاب کا راستہ پاکیزگی کا راستہ ہے.”
ہر نیک کام کرنے سے شیطان روکتا ہے. اس نے بے حیائی کو اپنا ہتھیار بنا لیا. بے حیائی، بے حجابی شیطان کی چال تھی. جس کی وجہ سے معاشرتی زندگی میں مسائل بڑھتے چلے گئے.
مسلمانوں میں زوال آ گیا.
کہتی کہ : تمہیں کیا لگتا ہے کہ مسلمان کیوں اتنی ذلت کا شکار ہے.
کیونکہ قرآن کے احکامات سے روگردانی کی گئی.
غیروں کی باتوں میں آ جاتے ہیں. اسی وجہ سے ہمارے اندر بےحیائی پھیل چکی ہے
.ایک شعر یاد آگیا
“جستجو ہے گناہوں کی وہ ثواب سے ڈرتی ہے.
افسوس آج بنت حوا حجاب سے ڈرتی ہے.”
اس کی باتیں سن کر میں دنگ رہ گئی اور ایسا اثر ہوا کہ میں اس کے گھر سے حجاب میں نکلی.
اگلے دن اس نے مجھے کال کی وہ بہت خوش تھی.
فارعہ : اسلام علیکم
کیا حال ہے؟
کیا ہوا؟
یہ خوشی کیسی؟
فاطمہ : فارعہ، وعلیکم السلام
،میں آرمی (پائلٹ) کے لیے منتخب ہو گئ ہوں.
اس کی بات سن کر میں نے حجاب کی اہمیت کو اور جان لیا.
کہ
حجاب آپ کی خواہشوں کے آگے نہیں آتا بلکہ خواہشیں حجاب کے آڑے آتی ہیں.
میری زندگی میں حجاب کی اہمیت