قسط وار کہانی
آستین کا سانپ
از قلم ساجدہ بتول
قسط 1
بادشاہ سلامت کی قتل کی خواہش عجیب تھی تو چور کو اندر داخل ہونے کا وقت دینے کی بات عجیب تر تھی
پورے دربار میں یہاں سے وہاں تک پریشانی کی لہر دوڑ چکی تھی ۔ یر شخص پریشان تھا ۔ کیونکہ بادشاہ سلامت کی ایک ہیروں والی تھیلی گم ہو گٸی تھی ۔۔۔۔ آج صبح سویرے ہی بادشاہ سلامت نے دربار لگایا اور اس تھیلی کی گمشدگی کا اعلان کیا تھا ۔ پھر اس کے بعد ایک عجیب بات کہی تھی ۔
”ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس تھیلی کے چور کو قتل کر دیں ۔“
پورے دربار میں سناٹا چھا گیا ۔ خوف کے ساتھ حیرت بھی ہر ایک کے دماغ پہ چھا گٸی تھی
”بادشاہ سلامت! چور کو قتل کرنا تو سمجھ میں آتا ہے مگر قتل آپ کی خواہش ہے! یہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اور آپ اس کو داخلے کا وقت بھی دے چکے ہیں ، اس طرح وہ کیسے آٸے گا ؟؟ “
بالآخر ایک وزیر نے زبان کھولی ۔
”ہاں! ہمیں یاد ہے کہ ہم نے آج تک کسی کو بے وجہ سزا نہیں دی ۔ قتل سے تو ہماری اپنی جان نکلتی تھی ۔ معاف کر دینا ہمارا شیوہ ہے ۔۔ مگر اب ایک انسان کو قتل کر دینا ہماری خواہش بن چکی ہے ۔ خواہ وہ کوٸی بھی ہو ۔ تو پھر چور کو ہی کیوں نہ قتل کر دیں! کہ اس سے غلطی تو سر زد ہوٸی ہی ہے ، تو قتل اسی کی سزا بن جاٸے ۔ بس وہ چور کسی طرح ہمارے سامنے آ جاٸے ۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اس کی گردن پہ چھری چلا کر اپنے شوق کو تسکین پہنچاٸیں گے ۔ رہا یہ سوال کہ وہ کیسے آٸے گا ؟ وہ آٸے گا اور ضرور آٸے گا ۔“ بادشاہ سلامت کا لہجہ آخر پہ معنی خیز سا ہو گیا ۔ دربار میں یہاں سے وہاں تک خوف کی لہر دوڑ گٸی ۔ ہر شخص کو اپنا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوا ۔ مگر اس وقت وہاں ایک چہرہ ایسا بھی تھا جس پہ چمک آ گٸی تھی ۔ خوشی سے اس کی آنکھیں دمکنے لگی تھیں ۔ اس نے سوچا تھا ، وہ اس موقع سے فاٸدہ اٹھاٸے گا ۔۔۔ وہ اٹھا ، محل سے نکلا اور لوہار کی دوکان کی طرف بڑھ گیا ۔ اسے چھرا خریدنا تھا ۔۔ تیز دھار چھرا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”بس بس ۔ اپنی دانش اپنے پاس رکھو ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے ، اسے سر عام ذلیل کرواٶں گا ۔ “ ابرار اپنی ضد پہ پکا تھا ۔
”تو آپ وہاں جھوٹ بولیں گے! کیونکہ سانپ کو آپ نے یہ کب سکھا دیا کہ وہ چور کو ڈسے! “ بیگم نے ایک اور دہاٸی دی ۔
”اپنی چونچ بند رکھنا “ اس نے بیگم کی طرف انگلی اٹھاٸی ۔ ”یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو کہ یہ سانپ چور کو ڈستا ہے اور بس ۔ “
”تو آپ نے اس لیے اس سانپ کو یہ تربیت دی کہ اس کی آڑ لے کر آپ اس موقع سے فاٸدہ اٹھاٸیں ؟ جو بادشاہ سلامت اب آپ کو خود دے چکے ۔“
”زیادہ میری تفتیش میں مت لگو ۔ آٸی سمجھ! “ اتنا کہہ کر اس نے سانپ کو پٹاری میں بند کیا اور اور گھر سے نکل آیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابرار نے اس سانپ کو سدھانے پہ پانچ سال لگاٸے تھے ۔ اس سانپ کو تربیت یہ دی تھی کہ سانپ جہاں موجود ہو ، وہاں کی اونچی جگہ پہ بیٹھنے والے کی محبت وہاں موجود لوگوں میں سے جس شخص کے دل میں سب سے زیادہ ہو ، سانپ بس اس کو ڈس لے ۔ اس کے اندازے کے مطابق بادشاہ سلامت سے سب سے زیادہ محبت آصف کو تھی ۔ اور آج اس کو بادشاہ سلامت کی نظروں سے گرانے کا وقت آ چکا تھا
ملک کے نامور حکیم کی اس نے دو سال خدمت صرف اس لیے کی تھی کہ وہ ایسی جڑی بوٹی کا نام اس کو بتا دے ، جو سانپ کو کھلا دی جاتی تو اس کے اندر اس محبت کو جاننے کی حس اور پھر اسے ڈسنے کا خیال پیدا ہو جاتا ۔ آخر اس کا مقصد پورا ہوا اور حکیم نے یہ راز کھول دیا تھا ۔ ایک سال تک برابر وہ جنگل سے متعلقہ بوٹی لا کر سانپ کو کھلاتا رہا تھا ۔ اب تک کٸی بلیوں کو وہ راہی عدم کروا چکا تھا ۔ اس طرح کہ ایک بلونگڑے کو اونچی جگہ پہ بٹھا کے اس کی ماں بلی کو اس کے قریب بٹھاتا ۔ کچھ اور بلیوں کو بھی بٹھاتا اور سانپ ابرار کا اشارہ پا کر اس ماں بلی کو ڈس لیتا ۔
(جاری ہے)