327

اپنی زندگی تبدیل کیسے کریں؟

تحریر شئیر کریں

اپنی زندگی تبدیل کیسے کریں؟

آج کل ہم یہ توچاہتے ہیں کہ ہمیں کامیابی ملے ہم زندگی میں کچھ کریں مگر اس کے لئے ہم کچھ کرنے کو تیار نہیں صرف سوچتے ہی رہتے ہیں۔ اور اپنا وقت اپنی خواہشوں کے آگے ضائع کردیتے ہیں۔ جیسے کہ آج کل ہر کوئی اپنا وقت سوشل میڈیا ایپس کے ساتھ گزار رہا ہے۔ اور اپنے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر آسائش کے ساتھ خوش ہے جبکہ کچھ دنوں بعد اسے عملی زندگی میں معلوم ہوگا کہ اس نے خود کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔

ایک سچا واقعہ ہے کہ کسی زمانے میں ایک ملک میں یہ رواج عام تھا کہ وہاں کوئی بھی بادشاہ بنایا جاتا تو اس کی مدت صرف پانچ سال ہوتی اور پھر اسے ویران جنگل میں بھیج دیا جاتا جہاں کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آپاتا۔ ایسے ہی وینس نام کے شخص کو بادشاہ بنایا گیا جو بن تو گیا مگر اسے پانچ سال کے بعد کا خوف تھا جس کے لئے اس نے دانش مند لوگوں سے مشورہ لیا ایک بزرگ نے اسے کہا کہ تم اس کل کے لئے آج سے کام کرو تاکہ تمہارا آگے کا وقت اچھا گزرے۔

بادشاہ نے پھر سب سے پہلے سپاہیوں کے زریعے اس جگہ کا پتا لگوایا جہاں باقی کے بادشاہ کو بھیجا گیا تھا۔ سپاہیوں نے بتایا وہ ویران جنگل ہے جہاں جنگلی جانور ہے اور کو ئی پھل کے درخت نہیں اور گندے پانی کا تالاب ہے کچھ انسانی ڈھانچے بھی ملے جو ہوسکتا ہے پہلے کے بادشاہ کے ہو۔ یہ سن کر بادشاہ نے پھر کچھ محنت کش غریب لوگوں کو جمع کیا انہیں بہت سارے پیسے دئے جو ان کے لئے بہت تھے

اور انہیں اس جنگل میں جنگلی درختوں کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ پھر کچھ لوگوں کو حکم دیا وہاں کے جنگلی جانور کو پکڑ کر بند کردیا جائے۔ گندے پانی کی جگہ نہریں بنوائیں۔ اور پھل کے درخت لگوائیں ۔ پان سال ختم ہونے تک وہ ایک چھوٹا سا گاؤں بن چکا تھا۔ بادشاہ کے پان سال گزرنے کے بعد لوگوں نے اسے اسی علاقے میں جانے کا حکم دیا اور وہ بلکل پریشان نہیں ہوا۔ کیونکہ اس نے اپنے مستقبل کی تیاری پہلے سے کی تھی۔

وہ اس علاقے میں خوشی خوشی رہنے لگا۔ جن لوگوں کو ا س نے کام کے لئے پیسے دئے تھے وہ اس کی عزت کرتے تھے اور وہ ان کے ساتھ ہی اس علاقے میں رہنے لگا۔ باقی کے بادشاہ نے مستقبل کی فکر نہیں کی اور پانچ سال عیاشی میں گزاردئے۔ جیسے ہم سب کر رہے ہیں۔

ایٹمک ہیبٹ ایک کتاب ہے جس میں لکھاری کہتے ہیں اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی اچھی چیزوں کو عادت بنائیں تو ہماری زندگی بہترین ہوسکتی ہے۔ جیسے ہم غیر اردای طور پر موبائل لیتے ہی سوشل ایپس کھول لیتے ہیں ایسے ہی ان بری عادتوں کو اچھی عادتوں میں تبدیل کریں۔ جیسے کہ روز اپنے وقت میں سے آدھا گھنٹہ کچھ سکل سیکھنے میں صرف کریں۔ اور چاہے کچھ بھی ہوجائے اس آدھے گھنٹے کو ضائع نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں