98

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب سوم

تحریر شئیر کریں

باب سوم: شاہین کی پرواز اور ڈیجیٹل غلامی

پرانے دور میں غلامی کی زنجیریں لوہے کی ہوتی تھیں جو پاؤں میں ڈالی جاتی تھیں، مگر آج کے ‘ڈیجیٹل دور’ میں غلامی کی زنجیریں غیر مرئی ہیں جو براہِ راست انسانی اعصاب اور سوچ پر ڈالی گئی ہیں۔ آج کا صیاد کسی جنگل میں نہیں چھپا، بلکہ وہ ہماری جیب میں موجود سمارٹ فون کی سکرین کے پیچھے بیٹھا ہے۔
علامہ اقبال نے جب ‘شاہین’ کا تصور پیش کیا تھا، تو ان کا مقصد ایک ایسا بلند پرواز انسان تخلیق کرنا تھا جو زمین کی پستیوں سے اوپر اٹھ کر آسمانوں کی وسعتوں میں اپنا مقام پیدا کرے۔ مگر آج کی ٹیکنالوجی ہمیں ‘شاہین’ بنانے کے بجائے ‘پالتو پرندہ’ بنا رہی ہے جسے سکرین کے دانے ڈال کر ایک ہی جگہ ساکت کر دیا گیا ہے۔

1. شاہین کا تصور: بلندی، خودداری اور آزادی

اقبال کے نزدیک شاہین محض ایک پرندہ نہیں، بلکہ ایک روحانی صفت ہے۔ شاہین کی تین خصوصیات اسے باقی پرندوں سے ممتاز کرتی ہیں:
بلند پروازی: وہ دوسروں کے بنے بنائے راستوں پر نہیں اڑتا۔
خلوت پسندی: وہ ہجوم کا حصہ نہیں بنتا۔
تیز نگاہی: وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا جانتا ہے۔
اقبال فرماتے ہیں:

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہین کا جہاں اور

آج کی ‘ڈیجیٹل فضا’ میں ہمارا مقابلہ اسی ‘کرگس’ (گدھ) صفت ٹیکنالوجی سے ہے جو مردار یعنی فضول ڈیٹا اور بے معنی معلومات پر پلتی ہے، جبکہ شاہین کو ‘فکرِ تازہ’ کی تلاش ہوتی ہے۔

2. ڈیجیٹل غلامی: اعصاب کا کنٹرول

جدید سائنس بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا ایپس کے ‘نوٹیفیکیشنز’ اور ‘انفینٹ سکرولنگ’دراصل ہمارے دماغ کے اس حصے پر حملہ کرتے ہیں جو نشے کا مرکز ہے۔ اسے ‘بیہیویئرل انجینئرنگ’ کہا جاتا ہے۔مشہور ٹیکنالوجی ماہر ٹرسٹن ہیرس، جو گوگل کے سابق ڈیزائنر رہے ہیں، اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں:
“سوشل میڈیا ایپس کوئی اوزار نہیں ہیں جو آپ کے استعمال کے منتظر ہوں، بلکہ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو آپ کے دماغ کو ری-وائر کر رہی ہے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ وقت سکرین پر گزاریں۔ یہ آپ کی ‘توجہ’ کی چوری ہے تاکہ اسے اشتہارات کے عوض فروخت کیا جا سکے۔”

جب ہماری ‘توجہ’ چوری ہو جاتی ہے، تو ہماری ‘پرواز’ رک جاتی ہے۔ ہم شاہین کے بجائے وہ قیدی بن جاتے ہیں جو اپنے ہی پنجرے سے محبت کرنے لگتا ہے۔

3. ‘شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا’

ڈیجیٹل غلامی کا سب سے بڑا نقصان ‘ذہنی تھکن’ ہے۔ ہم پورا دن سکرین دیکھ کر جسمانی طور پر تو ساکت رہتے ہیں مگر ذہنی طور پر نڈھال ہو جاتے ہیں۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ حقیقی توانائی ‘ڈیٹا’ سے نہیں بلکہ ‘مقصد’ سے آتی ہے۔

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

آج کے دور میں ‘قصرِ سلطانی کا گنبد’ وہ پرآسائش ڈیجیٹل ایپس ہیں جو ہمیں آرام طلب بنا رہی ہیں۔ ‘پہاڑوں کی چٹانیں’ محنت، مطالعہ اور حقیقت پسندی کی علامت ہیں۔ شاہین بننے کے لیے ہمیں اس ڈیجیٹل آرام پسندی کو چھوڑنا ہوگا۔

4. ذہنی کنٹرول کا حل: ‘ضربِ کلیم’ کا پیغام

اقبال نے ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کے اس فتنے کو اپنی کتاب ‘ضربِ کلیم’ میں ‘جادو’ سے تعبیر کیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس جادو کو صرف ‘عصائے کلیم’ یعنی ایمانی قوت اور خود آگاہی سے توڑا جا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل غلامی سے آزادی کے تین مراحل:

ادراکِ زیاں:

سب سے پہلے یہ احساس کہ سکرین ہمارا وقت نہیں بلکہ ہماری ‘روح’ کھا رہی ہے۔

قطعِ تعلق:

شاہین کی طرح بلندی پر جانے کے لیے بوجھ گرانا ضروری ہے۔ غیر ضروری ایپس اور نوٹیفیکیشنز کی غلامی سے توبہ کریں۔

تخلیقِ نو: اپنی توجہ کو ‘صارف’ بننے کے بجائے ‘خالق’ بننے پر صرف کریں۔

5. مستقبل کا شاہین: ٹیکنالوجی کا حاکم، غلام نہیں
اس باب کا مقصد یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی کو چھوڑ دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ‘شاہین’ بن کر ٹیکنالوجی کے اوپر اڑیں۔ شاہین کو ہوا کی مخالفت نیچے نہیں گرتی بلکہ اسے مزید بلندی پر لے جاتی ہے۔ اسی طرح، ایک مومن ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصدِ جلیلہ کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ اس کے زیرِ اثر نہیں آتا۔
علامہ اقبال – جاوید نامہ میں لکھتے ہیں

“تو اگر اپنی خودی کو پہچان لے، تو یہ کائنات اور اس کی تمام قوتیں تیری خدمت گار بن جائیں گی۔”

غلامیِ افکار اور اقبال کی فریاد

علامہ اقبال نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مسلمانوں کو ذہنی اور فکری غلامی سے نکالنے میں صرف کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ مادی غلامی جسم کی قیدسے زیادہ خطرناک غلامیِ افکار (سوچ کی قید ہے، کیونکہ اس میں غلام کو اپنی غلامی کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے۔ آج کا ‘ڈیجیٹل غلام’ بالکل اسی کیفیت میں ہے:
وہی کلیجہ، وہی دل، وہی دماغ ہے اس کا

مگر ہے بندہِ مولا صفات، محکوم
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
آج ہماری ‘شمشیریں اور تدبیریں’ ہماری جدید ایپس اور تیز ترین انٹرنیٹ ہیں، لیکن اقبال فرماتے ہیں کہ جب تک ‘ذوقِ یقیں’ (اپنی خودی پر یقین) پیدا نہیں ہوگا، یہ ٹیکنالوجی ہمیں مزید غلام بناتی جائے گی۔
اقبال نے غلامی کی نفسیات کو ایک اور جگہ یوں بیان کیا:

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
کاش! عالمِ ہست و بود میں وہ دن بھی آئے
کہ اپنی ہی آنکھوں سے دیکھو اپنی ہی دنیا

آج ہماری آنکھیں ‘اپنی’ نہیں رہیں۔ ہم وہی دیکھ رہے ہیں جو ڈیجیٹل کمپنیاں ہمیں دکھانا چاہتی ہیں۔ ‘اپنی آنکھوں سے دنیا دیکھنے’ کا مطلب ہی ڈیجیٹل غلامی سے آزادی ہے۔

ڈیجیٹل قفس سے آزادی: ‘شاہین ایکٹیویٹی پلان’

، یہ ایک 21 روزہ تربیتی پروگرام ہے جو قاری کو ‘کرگس’ (ڈیجیٹل گدھ) کی سطح سے اٹھا کر ‘شاہین’ کی بلندی تک لے جائے گا۔
مرحلہ 1: ‘تیز نگاہی’ (پہلا ہفتہ – شعور کی بیداری)
پہچان : اپنے فون کی ‘Screen Time’ سیٹنگ میں جائیں اور دیکھیں کہ آپ کا کتنا وقت ‘بے مقصد’ سکرولنگ میں گزرا۔
شاہین کی نظر: ہر بار فون اٹھانے سے پہلے خود سے پوچھیں: “کیا میں شکار کرنے کچھ سیکھنے نکلا ہوں یا میں خود شکار ایڈز اور ٹائم ویسٹنگ ہونے جا رہا ہوں؟”
اشعار کا ورد: اس ہفتے اقبال کا یہ شعر اپنے پاس لکھ کر رکھیں:

پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے

مرحلہ 2: ‘خلوت پسندی’ دوسرا ہفتہ – ڈیجیٹل اعتکاف
نوٹیفیکیشن کی خاموشی: تمام غیر ضروری ایپس کے نوٹیفیکیشن بند کر دیں۔ یاد رکھیں، شاہین ہجوم کے شور میں نہیں، پہاڑوں کی خاموشی میں پلتا ہے۔
فجر کی بیداری: فجر کے بعد کا ایک گھنٹہ سکرین سے مکمل دوری اختیار کریں۔ اس وقت کو تدبر، تلاوت اور اقبال کی شاعری کے مطالعے کے لیے وقف کریں۔
عمل: دن میں کم از کم 30 منٹ کسی ایسی کتاب کا مطالعہ کریں جو آپ کو ‘سوچنے’ پر مجبور کرے۔
مرحلہ 3: ‘بلند پروازی’ تیسرا ہفتہ – تسخیرِ کائنات
صارف سے خالق تک: سکرین کو صرف ‘دیکھنے’ کے لیے نہیں، بلکہ کچھ ‘تخلیق’ کرنے کے لیے استعمال کریں۔ کوئی بلاگ لکھیں، کوئی نئی مہارت (Skill) سیکھیں، یا کسی کی مدد کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔
شاہین کا بسیرا: رات کو سونے سے 2 گھنٹے پہلے فون کو دوسرے کمرے میں رکھ دیں۔ یہ آپ کی ‘خودی’ کے تحفظ کے لیے آپ کی سب سے بڑی جنگ ہے۔
آخری عہد: اس یقین کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کریں:

تجھ کو شاہیں کیا ہے اللہ نے شہبازِ بلند
اے گرفتارِ شب و روز! ابھی اڑنا ہے تجھے

حرف آخر

غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں، یہ ایک کیفیت ہے جو تب پیدا ہوتی ہے جب شاہین اپنی پرواز بھول کر دوسروں کے ڈالے ہوئے دانوں پر گزارا کرنے لگے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں آپ کا ‘دانہ’ وہ ‘کونٹینٹ’ ہے جو آپ کی روح کو مردہ کر رہا ہے۔ اپنی پرواز کو پہچانیں، بلندیوں کی طرف لوٹیں اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔
ڈیجیٹل غلامی آپ کی آنکھیں چھین لیتی ہے تاکہ آپ صرف وہی دیکھیں جو دکھایا جائے۔ شاہین کی پرواز آپ کو وہ بصیرت دیتی ہے کہ آپ افق کے پار دیکھ سکیں۔ اپنی سکرین کو بند کریں، اپنے بازوؤں میں اقبال کی تڑپ پیدا کریں اور اس بلندی کی طرف لوٹ جائیں جس کے لیے آپ پیدا کیے گئے تھے۔

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب سوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں