انسان کی آنکھیں تب کھلتی هے جب همیشه کے لیے بند هوجاتی۔
عرفان خاں انڈین ایکٹر جو کینسر میں مبتلا تھے۔۔چل بسے۔۔۔انهوں نے اپنی بیماری کے دوران اپنے دوست کو خط لکھا جو انڈین نیوز پیپرز میں پبلش بھی هوا۔۔اس خط میں انهوں نے اپنی فیلنگز بیان کی هیں وه لکھتے هیں که دنیا ایک غیر یقینی سی جگه هے جهاں کسی بھی لمحےکچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ان کے یہ الفاظ انسان په بهت کچھ واشگاف کرتے هیں۔ دنیا ایک بہت بڑی حقیقت هے تو موت اس سے بھی بڑی حقیقت۔۔جسے ہم کتاب مںی موجود ایک باب کی طرح سمجھتے هیں ۔۔۔پڑھ لیا تو ٹھیک نهیں تو پھر کبھی بڑھاپے میں وقت ملا تو پڑھ لیں گے۔۔۔۔اور پھر پته تب چلتا هے جب وهی باب زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بن کر آن کھڑا هوتا هے۔۔انسان اپنی کامیابیوں کے نشے میں چلتا جلا جا ۔۔رها هوتا هے که حکم واپسی کا سندیسہ سنا دیا جاتا ہے
موت اینڈ نهیں هے سرکار موت تو ایک جهاں سے دوسرے جهاں میں شفٹنگ کا نام هے۔یہ تو ایک نی دنیا کی ابتداء ہے۔یہ کس نے بہکا دیا کہ دنیا اینڈ هے۔جب چلے تھے تو طے پاہا تھا کہ میری ہی طرف لوٹوگے پھر کس چیز نے بھلا دیا۔ہماری تہذیب،روایات اور ہمارا طرز زندگی سب کچھ اس طرح سے پلانٹ کیا گیا که موت جیسی حقیقت کی تیاری کرنا تو کجا یاد کرنے کو بھی وقت نهیں ملتا۔۔اور ایسے میں کهیں یه الفاظ سننے کو مل بھی جائیں تو هاے هاے۔۔اللہ نا کرے۔۔کسی باتیں کر رهے هو۔۔ابھی تو بڑی عمر پڑی هے۔۔اسطرح کے جملے سماعتوں کی نظر هوتے هیں۔
عرفان کی جاندار اداکاری کا راز انکی بولتی آنکھوں میں پوشیده تھا۔اور وہ آنکھیں اب بند هوچکی هیں۔ وہ آنکھیں جن کے بارے میں سیانے کهتے هیں کہ انسان کی آنکھ تب کھلتی هے جب همیشه کے لیے بند هو جاتی هے۔۔اقبال کہہ گے
دیدہ بینا بھی کر خدا سے طلب
که آنکھ کا نور دل کا نور نهیں هے