علامہ یوسف القرضاوی انتقال فرما گئے
دنیا ِے اسلام کے سب سے بڑے مجدد ،مجتہد اور عالم دین علامہ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے،آن کی عمر پچانوے سال تھی ان کی تمام زندگی اسلام کی خدمت میں گزری ہے وہ ایک سچے اور کھرے انسان تھے انھوں نے کبھی منافقت سے کام نہیں لیا ان کی اسی خوبی کی وجہ سے انھیں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں یہاں تک کہ کئ سالوں سے مصر سے نکالے جانے پر قطر میں زندگی گزار رہے تھے ان کو قطری حکومت کی طرف سے قطری شہریت دے دی گئ تھی۔
ابتدائی زندگی
آپ 1926 ء میں پیدا ہوئے اور مصر سے ہی تعلیمی مدارج طے کیے آپ مصر کی اسلامی تنظیم جس کے بانی حسن البناء شہید تھے سے منسلک رہے جس کے جرم میں جیل بھی جانا پڑا،
مصر سے قطر روانگی
علامہ یوسف القرضاوی مصر سے قطر شفٹ ہو گئے یہ ساٹھ کی دہائی تھی تب سے لے کر وفات کے دن تک وہی پہ مقیم رہے قطر میں آپ قطر یونیورسٹی میں ڈین کؐے فرائض سرانجام دیتے رہے
فرقہ واریت سے بالاتر انسان
آپ ایک باصلاحیت انسان تھے ان کے مداح پوری دنیا میں موجود ہیں ان کی وفات پر پورے عالم اسلام میں سوگ کی کیفیت ہے علم و عمل سے وابستہ لوگ ہی ان کی قدر ومنزلت کو پہچانتے ہیں کہ وہ کس پائے کے انسان سے محروم ہو گئے ہیں وہ فرقہ واریت سے بالاتر تھے یہی وجہ ہے کہ ہر فرقے میں ان کے چاہنے والے موجود ہیں۔
عالم کی موت
سچ ہے کہ ایک عالم کی موت ایک عالم کی موت ہے اس قحط الرجال میں جہاں انسانوں کا ملنا مشکل ہے وہاں ایک ایسا عالم مجتہد اور مجدد نامور مصنف اپنی جداگانہ رائے رکھنے والا جدید علوم سے مزین عالم دین کا چلے جانا ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔اللہ ان کی کوششیں قبول فرمائے اور انھیں جنت میں جگہ دے۔۔آمین