عورت مارچ کے پس پردہ عزائم
کل فیس بک پہ ایک گائناکالوجسٹ اور ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کا انٹرویو چل رہا تھا۔موضوع گفتگو عورت کی صحت تھی۔بات کا آغاز بیٹی اور بیٹوں کے کھانے پینے میں فرق سے کیا گیا۔کہ ہمارے گھروں میں بیٹیوں کو اچھا کھانے کو نہیں ملتا۔جبکہ بیٹوں کو نسبتا زیادہ اچھا ملتا ہے۔جس کی وجہ سے عورت کی صحت نظر انداز ہو رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب ہر گھر میں ہو رہا؟۔اس کے بعد اصل۔موضوع شروع ہو گیا۔جی ہاں اگر آپ سمجھ گۓ ہیں تو خاصے ذہین ہیں۔میری مراد عورت مارچ ہے۔نیچے لوگ بیماریاں کمینٹ کر رہے تھے مگر وہ عورت صحت کی بجاۓ عورت مارچ پہ دلیلیں دینے لگ گیں۔کہ عورت مارچ کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ روڈ پہ ہیں تو کوئی آپ کی۔مرضی کے بغیر آپ کو چھیڑ نہیں سکتا۔جب کہ میں تو اس حق میں ہوں کہ اگر عورت کی مرضی ہو تب بھی اسے کوئی چھیڑ نہیں سکتا۔کیونکہ یہ جسم جس نے بنایا ہے اس نے پسند نہیں کیا کہ عورت کو اس کی مرضی سے یا اس کی مرضی کے بغیر کوئی تنگ کرے۔
اور بھی بہت سی غیر معیاری گفتگو جاری رہی۔۔۔میں نے بہت سوچا کہ ان عورتوں کا مقصد کیا تو سمجھ آیا کہ جب ان عورتوں اور انکے آقاؤں کی اصل نیت کا پردہ فاش ہو گیا۔اور معاشرے میں ان کے خلاف بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا تو یہ اب دلیلوں تاویلوں سے اپنے دفاع پہ اتر آئئ ہیں۔پر زن سے نازن بنے کا یہ عمل ان کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔
مگر میرا ان عورتوں سے سوال ہے جو عورت مارچ کی حامی ہیں۔خدارا یہ بھی بتائیں آپ کے عورت مارچ سے کتنی عورتوں کے اجڑے گھر بسے کتنی ماؤں کی بیٹیوں نے سکھ کے سانس لیے۔کتنی عورتوں کو مردوں نے عزت و احترام۔دینے کا وعدہ کیا۔اگر یہ تبدیلی آئی ہے تو مبارک ہو ہم ھی آپ کے ساتھ ہیں نہیں تو ہم اس بیہودہ مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔جو اسلام دشمنوں کا ایجنڈا ہے۔جس کا مقصد عورت کو گھر سے نکال کر پروڈکٹ بنانا ہے
یہ بھی پڑھیے
استحکام خاندان صرف عورت کی ذمہ داری؟
اس وقت پاکستان ان ممالک میں ہے جہاں گھرداری کا تصور موجود ہے۔الحمدللہ جبکہ مغرب میں یہ شعبہ زوال کا شکار ہے۔اسلام دشمن طاقتیں پاکستان کو زوال پزیر کرنا چاہتیؔ ہیں۔اس مقصد کے لیے وہ عورت کوسب سے پہلے بے گھر کرنا چاہتیں ہیں۔جب عورت بے گھر ہو جاۓ گی تو ایک ماں بیٹی بیوی تینوں اپنے مقام پہ نہیں رہیں گیں۔اور یہ بے مقام عورتیں بے لگام ہو کر سوسائٹی کا ناسور بن جائیں گی۔اور گھر کا شیرازہ بکھر جاۓ گا۔گھر ٹوٹے گا تو مرد ٹوٹے گا اور ٹوٹے ہوۓ مرد ٹخریب کار زیادہ زیادہ ہوتے۔رہ گۓ بچے تو نا وہ ادھر کے نا ادھر کے جذباتی طور پر پراگندہ بن کر ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو کر معاشرے کا بوجھ بنیں گے کارآمد اور توا نا شہری نہیں۔
تو حضور والا یہ ہے مغربی آقاؤں کا ایجنڈا۔۔۔۔میراتھن ریس کا جب پہلی بار آغاز ہوا تھا تو بہت شور مچا تھا۔اب سمجھ آیا میراتھن ریس عورت مارچ کا آغاز تھا۔اب عورت مارچ کے زریعے عورت کی عزت و عصمت کے پرخچے اڑاۓ جا رہے ہیں۔اللہ رحم ان عورتوں پر جو عورت مارچ کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔