عظمی ندیم سڈنی اسٹریلیا
الحمداللہ عید الاضحی میں دو دن ہی باقی ہیں اور عید کی تیاری ہے کہ مکمل ہونے کو نہیں آ رہی۔ ظہر پڑھ کر بازار کو نکلی تو کوشش یہ تھی کہ بچوں کے سکول سے آنے سے پہلے گھر پہنچ جاؤں گی لیکن گھر پہنچی تو بچے آ چکے تھے۔مجھے ڈھیروں bags اٹھائے دیکھ کر سب کی خوشی دینی تھی۔ Thank you اماں جان٫ جزاک اللہ خیرا اماں جان ٫سب خوش تھے۔
دیارِ غیر میں عید پاکستان سے کچھ مختلف طریقے سے منائی جاتی ہے۔ specially عید الاضحی۔نہ تو سجے ہوئے جانور نظر آتے ہیں اور نہ ہی کوئی قربانی ہوتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔لوگ قعاب کو قربانی کا آرڈر دے دیتے ہیں اور عید کے دن گوشت receive کر لیتے ہیں۔Covid-19 کی وجہ سے رمضان اور عید الفطر بھی گھر میں گزرے۔ مشکل کے ساتھ آسانی اور شر کے ساتھ خیر جڑا ہوا ہے۔ہمارے گھر مسجدیں بن گے تھے گھروں میں پانچ وقت اذان اور نماز با جماعت ادا ہوتی۔والدین اور بچوں میں جو دوریاں تھیں وہ ختم ہوئیں ۔ رب سے تعلق میں بہتری آئی۔
الحمداللہ مسجدیں نمازیوں کے لیے کھول دی گئی ہیں ۔ اب عید الحضیٰ کی نماز مسجد میں ادا کریں گے اور کچھ فیملیز کے ساتھ ملکر کسی پارک میں ون ڈش بھی کریں گے۔
دیار غیر میں عیدوں کا یہی حسن ہوتا ہے وہاں ملتان یا گجرانوالہ سے نہیں مسلم کمیونٹی کی شناخت ہیں سارے مسلمان ۔۔۔۔۔سوڈانی ہوں یا ترکی سب ایک ہی عالم اور کیفیت میں ہوتے ہیں ۔۔۔کرونا کی وجہ سے وہاں بھی عید تو متاثر ہوگی مگر کوی ٹینشن نہیں ۔۔سب ون ڈش کے بعد اکھٹے نماز ادا کریں گے دعا مانگیں گے اور میری دعاوں میں امت مسلمہ ہلے نمبر پر اور اپنی ذات بچے دوسرے نمبر پر ۔۔۔کیونکہ امت مسلمہ ہے تو میں ہوں ۔۔ورنہ کس کا رہا ہے نام زمانے میں#