ایک ایسی کہانی جو جسے پڑھ کر آپ بھی پکار اٹھیں گے کہ قربانی دینا سیکھ لیا
تحریر مہوش کرن
برش کو زور سے دراز کے اندر پٹخا، پرفیوم کی بوتل کا ڈھکن زوردار آواز کے ساتھ بند کیا، گیلا تولیہ دروازے کے اوپر ڈالا، یہی نہیں دروازہ بھی دھڑام سے بند کیا اور چائے کی ٹرے بھی اس زور سے بیڈ سائیڈ پر رکھی کہ چائے بھی چھلک گئی۔
قہر آلود نگاہوں سے حسن کو گھورتی ہوئی یہ سب کام کرتی وہ نہایت ہی عجیب لگ رہی تھی۔ اچھی بھلی صورت، جس پر وہ جان دیتا تھا، کو حُسنہ نے غصے سے پھلائے رکھا تھا۔
”نوکرانیوں کی طرح سارے کام میں کروں لیکن جب مرضی کی بات آئے تو وہ آپ کی چلے گی ،،،
آخر آپ سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو؟“
”کچھ بھی تو نہیں بس مظلوم شوہر۔۔۔“
”ہونہہ، مظلوم ! ایسے ہوتے ہیں ،،،
ہر بات میں آپ ہی صحیح اور بس میں ہی غلط،
کوئی حد ہوتی ہے زیادتی کرنے کی بھی،
کاش میں کبھی آپ سے برابری سے بدلہ لے سکوں۔“
”لے تو سکتی تھی لیکن پھر بھی، عرض کیا ہے کہ ؎
ایک کی بجائے چائے بنائی ہے دو کپ۔۔۔
اس کا مطلب ہے تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو۔“
”واہ وا،، آپ کی بے تکی شاعری پر تو ہنسی ہی آجاتی ہے۔“
”ہائے صرف ہنسی نہیں
شرم بھی میری گلنارو!
بیکار میں اُس وقت سے غصہ اور اٹھا پٹخ کر کر کے اپنا اور ساری چیزوں کا جغرافیہ بگاڑ رہی تھی ،،،
اتنی پیاری شکل اللّٰہ نے میرے لیے ہی دی ہے نا تو میرے سامنے ہی خراب کر کے بیٹھ جانا میرے اوپر ظلم ہے یا نہیں؟“
”اچھا اگر ہے تو سہیں یہ ظلم، آخر آپ بھی تو ظلم کر رہے ہیں میرے اور بچوں کے اوپر۔“
”دیکھو حُسنہ بچے تو وہی سوچیں گے جو تم سوچو گی یا جو سوچ تم اُن کے اندر پروان چڑھاؤ گی۔“
”کیا بات کرتے ہیں حسن۔ لڑکے ہیں، وہ بھی دو عدد، باہر نکلتے ہیں، انہیں روک تھوڑی سکتی ہوں؟ ہر چیز دیکھتے ہیں، بولتے ہیں، دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، آپ کو کیا پتا؟ آپ تو صبح کے گئے سرِ شام واپس آتے ہیں۔“
”تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو، لیکن اگر وہ کریں گے تو ہم بھی تو اپنا کام کریں گے نا، یا انہیں سمجھانے کے بجائے بچوں کے ساتھ بچے بن جائیں گے؟
اور اب وہ دونوں اتنے چھوٹے بھی نہیں، ہر بات سمجھ سکتے ہیں، اچھی بھلی عمریں ہیں، چودہ اور بارہ سال کے بچے ہوتے ہیں؟
ہاں یہ الگ بات ہے کہ تم کہیں سے اتنے بڑے لڑکوں کی ماں نہیں لگتی، وہی نزاکت، ادائیں بس یہ غصہ اتنا نہ آئے تو سب ٹھیک رہے۔“
چیخوف روسی ادب کا تابندہ ستارہ
”پھر وہی مسکا، لگاتے رہیں شوق سے لیکن بکرا تو آپ کو لانا ہی پڑے گا، بس یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔“
”تو جناب، آپ بھی غور سے سن لیجیے کہ بکرا تو نہیں آسکتا کیونکہ میری اتنی استطاعت نہیں ہے۔ البتہ ان شاء اللّٰہ ہمیشہ کی طرح گائے میں ایک حصہ لے رہا ہوں اور مسجد میں نام لکھوا کر ایڈوانس بھی جمع کروا دیا ہے اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔“
”ٹھیک ہے میں اپنا کوئی سا زیور بیچ کر بکرا خود ہی خرید لیتی ہوں۔“
”کچھ تو خوفِ خدا کرو، جب پچھلے سال میرے پاس تمھارے زیور کی زکوٰۃ نکالنے کے لیے پیسے نہیں تھے تب تو تمھیں خیال نہیں آیا کہ تم کوئی زیور بیچ کر زکوٰۃ ادا کردو۔ اب بکرا خریدنے میں تمھارا کوئی سیٹ نہیں ٹوٹے گا ؟؟؟
حد ہوتی ہے بیوقوفانہ شوق کی بھی اور وہ بھی جو صرف و صرف دکھاوا کرنے کے لیے ہو۔ اپنی بھابی، دوست، پڑوسن، سسرال والوں وغیرہ وغیرہ پر شو مارنے اور دکھاوے کے لیے۔ جس میں دور دور تک قربانی کی سنت پوری کرنے کا کوئی جذبہ ہی نہیں ہے۔ اب دینے کے لیے زیور نکل آیا لیکن زکوٰۃ جو اتنے زیور پر فرض ہے، تب زیور نہیں نکلا حالانکہ کیا فائدہ ایسے ڈھیر زیور کا جو بینک میں پڑا رہے اور پہننے میں نہ آئے۔ اور اوپر سے زکوٰۃ دیے بغیر اسے آخرت کے لیے عذاب بنائے جاؤ۔“
”یہ کیا بات ہوئی، میرے زیور کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ کون سا آپ نے دیا ہے، سب کچھ میرے میکے سے ملا ہے۔“
”بالکل بالکل،، سب کچھ میکے ہی سے ملا ہے، دے دو غریبی کا طعنہ کیونکہ شادی میں تمھیں زیور نہیں دے سکا۔ لیکن سنت زیور دینا نہیں بلکہ نکاح کرنا، ولیمہ کرنا اور اس کے بعد عزت و محبت دینا، تحفظ دینا، کفالت کرنا ۔۔۔ یہ سب ہے۔
اس کے لیے تمھیں روز میکے جانا پڑتا ہے یا سب اسی گھر سے مل جاتا ہے ؟؟؟
عید الاضحٰی پر قربانی کرنا سنت ہے وہ بھی استطاعت کے مطابق جو کہ ہم ایک عظیم قربانی کی یاد میں کرتے ہیں اور حقیقتاً نادار لوگوں میں گوشت بانٹنے کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جو شاید سال میں صرف ایک بار ہی گوشت کھا پاتے ہیں وہ بھی اگر ہم انہیں دیں، نا کہ اپنے ہی فریزر بھر لیں ،،، جبکہ زکوٰۃ فرض ہے اور جس زیور پر زکوٰۃ نہ دی جائے وہ قیامت کے روز سانپ بن کر جسم پر لپٹے ہوں گے۔ اسی خوف سے میں کچھ بھی کرکے اپنا آپ لگا کر، اوور ٹائم کر کر کے تمھاری طرف سے زکوٰۃ ادا کرتا ہوں تب تمھارے میکے والے کہاں ہوتے ہیں؟“
یہی محبتیں نچھاور کرنے والا حسن حق بات پر کوئی کوتاہی یا کمزوری برداشت نہیں کرتا تھا۔ رشتے ایک طرف، اور دینی فرائض ایک طرف۔
”اچھا بس بھی کریں، آئی ایم سوری، میں نے کب کہا کہ آپ کچھ نہیں کرتے، سب کچھ آپ ہی کرتے ہیں، چلیں چھوڑیں یہ باتیں۔۔۔ چائے پئیں۔۔۔
اوہ یہ تو ٹھنڈی ہوگئی، میں گرم کرکے لاتی ہوں،
بلکہ اب تو یہ دونوں لڑکے بھی کرکٹ کھیل کر واپس آرہے ہوں گے۔
”ہوں، تو پھر ساتھ کچھ کھانے کو بھی لیتی آنا۔“
کھانا، چائے، نماز سب کام نمٹ گئے لیکن حُسنہ کے دماغ میں جو بکرا چمٹ گیا تھا وہ جوں کا توں ہی رہا۔
••••••••••••••
اگلے دن یہ جاننے کی بے چینی لاحق تھی کہ آخر کہاں بکرا آرہا ہے، کہاں نہیں اور کہاں کیا قربانی ہورہی ہے۔
”فون پر پتا کرتی ہوں کہ سب کے گھر کیا چل رہا ہے۔“
سب سے پہلے جیٹھانی کو فون ملایا،
”کیسی ہیں بھابھی! کیا ہورہا ہے، گھر میں رونق ہوگی جانور کی وجہ سے؟“
”صرف رونق، بھئی خوب رونق اور جانور نہیں جانوروں کی وجہ سے، تمھیں تو پتا ہے کہ تمھارے بھائی جان اور بچے بچیاں رکتے تو ہیں نہیں، بس جس نے جس پر ہاتھ رکھ دیا وہ جانور خریدتے جاتے ہیں۔“
”بس کریں بھابھی! اب ایسا بھی نہیں، کیا پوری منڈی اٹھا لائے ہیں؟“
”بھئی ایک بیل، ایک بچھیا ہے، دو بکرے، ایک دنبہ،،، اور ابھی دیکھو کیا بھروسہ کچھ اور پکڑ لائیں۔“
”اچھا اتنا کچھ !!! پھر بھی اور۔۔۔“ حسنہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔
”ہاں تم تو جانتی ہو کہ۔۔۔خیر تمھیں کیا پتا، تمھارے گھر تو حسن نے وہی گھسا پٹا حصہ ڈال دیا ہوگا۔“
”جی بھابھی بس! وہ ،،،“
”کتنی بار تمھارے بھائی جان نے حسن کو کہا ہے کہ بار بار نماز کے لیے دکان بند کر کے مت جایا کرو۔ لیکن نہیں، اِدھر اذان ہوئی، اُدھر حسن نے شٹر گرا دیا اور جا موجود ہوئے مسجد میں، بھئی بعد میں نماز پڑھ لینا یا اگر اتنا ہی سب کو دکھانا ہے تو چلو وہیں دکان پر پڑھ لو۔ اچھا بھلا کمپیوٹر کے دکاندار ہو کر بھی مسجدوں کی ہی خاک چھاننی تھی تو کیا فائدہ؟ اس سے بہتر تو تمھارے بھائی جان ہی رہے جو عام سا پڑھ کر بھی لاکھوں کما رہے ہیں۔“
”بھابھی پہلی بات تو یہ ہے کہ حسن دکھاوے کے لیے نہیں، اللّٰہ کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور باجماعت نماز اکیلے نماز پڑھنے سے بہت زیادہ افضل ہے۔ دوسرے وہ سوفٹ وئیر انجینئر ہیں اور ایک باعزت کام کر رہے ہیں. رزقِ حلال تو جس طرح بھی کمایا جائے وہ جائز ہے۔
آخر آپ کے بھائی بھی تو حلیم کا ٹھیلا لگاتے تھے، انہوں نے کتنی ترقی کی اور آج اپنا ہوٹل کھول لیا،
وہ بھی تو باقاعدہ باجماعت نمازی ہیں۔“
”ہاں تو بھئی ان کی قسمت ہے، ہر کوئی میرے بھائی اور تمھارے بھائی جان کی طرح قسمت کا دھنی تھوڑی ہوتا ہے۔
خیر چھوڑو یہ سب، تم لوگ بچوں کو لے کر جانور دیکھنے ادھر آنا، پورے علاقے میں سب سے تگڑے جانور ہمارے ہی ہیں۔“
”جی کوشش کروں گی، ویسے تو مصروفیت رہتی ہے روزوں کی وجہ سے، اب تو بچے بھی رکھتے ہیں، ماشاءاللہ۔“
”ہاں بھئی تم فارغ لوگ ہو، یہی سب کرو گے۔ یہاں تو سر کھجانے کی فرصت نہیں، بچوں کی تو شکل دیکھنے کو نہیں ملتی، سارا وقت باہر جانوروں کے ساتھ ہوتے ہیں، نہ ڈھنگ سے کھانا پینا اور نہ سونا، اسکول سے آئے بستہ پھینک باہر۔۔۔“
”اچھا بھابھی، پھر بات کروں گی. ابھی سب کام پڑے ہیں پہلے ذرا وہ سمیٹ لوں۔“
اففف !!! کچھ لوگ کبھی نہیں بدل سکتے اپنی باتوں اور حرکتوں سے دوسروں کو اذیت دینا کبھی نہیں چھوڑتے۔
اللّٰہ اکبر !!! اتنا دکھاوا اور بناوٹ، جبکہ اللّٰہ کو تو صرف بندے کا تقویٰ درکار ہے !!!
اب راحیلہ سے بات کر کے دیکھتی ہوں، کئی مہینے ہوگئے اُسے پوچھے ہوئے۔
•••••••••••••••••
”راحیلہ کیسی ہو؟ اور سناؤ کیا چل رہا ہے، وہ تمھاری طرف قربانی کا جانور آگیا؟“
”نہیں حُسنہ، تمھیں تو پتا ہے کہ چند ماہ سے میرے شوہر کی نوکری نہیں ہے۔ اب ایسے میں روز مرہ کے کام ہی عزت سے پورے ہوجائیں، سفید پوشی کا بھرم رہ جائے اور کسی سے مانگنا نہ پڑے یہی بہت ہے۔
میں نے تم سے کہا تھا کہ اِن کی نوکری کے لیے حسن بھائی سے بات کرنا، بات چلے تو کوئی سبیل بنے، کوئی نیک انسان وسیلہ بن جائے، اصل کام بنانے والی ذات تو اللّٰہ کی ہے۔
تو بس ذوالحج کی عبادات پر توجہ ہے، روزے، صدقہ و خیرات، ذکر و تسبیحات، تکبیرات، دعائیں۔۔۔ان سب چیزوں کی آگاہی سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوگی بھلا، حالات تو میرے اختیار میں نہیں لیکن عبادات تو ہیں۔“
”واقعی تم سب کچھ کتنا ٹھیک کہہ رہی ہو، حالات کا رونا کسی بھی طرح سود مند نہیں، نظر اپنے عمل پر رہنی چاہیے۔
اور ہاں، تم نے جاب کا کہا تھا مگر میں بالکل بھول گئی۔ سوری ڈئیر راحیلہ میں آج ہی بات کرتی ہوں۔
عابد بھائی تو ماشاء اللّٰہ لائق ہیں اور تم بہت باہمت ہو، بس یہ حالات کا چکر ہے۔ اللّٰہ تعالٰی ضرور کوئی سبب بنائیں گے، ان شاء اللّٰہ۔“
افف میں کتنی بری دوست ہوں، اتنے قریب رہتے ہوئے بھی اپنی بچپن کی سہیلی کو اس برے وقت میں تنہا چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے لیے کچھ نہیں کیا، اس کے تو دو بچے اسکول جاتے ہیں اور دو چھوٹے دودھ پیتے بچے ہیں، اوپر سے مہنگائی اور بِلوں کا یہ حال ہے کہ اچھے اچھوں کی حالت پتلی ہے۔
قربانی دینا سیکھ لیا آپ پڑھ رہے ہیں
اور میں نے کیسی بے معنی فکریں پال رکھی ہیں،
اللّٰہ کی شکر گزار بننے کے بجائے منافقت اور دکھاوے کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔
اللّہ کو تقویٰ درکار ہے !
سوچتے سوچتے کام کرتی جارہی تھی. کچھ کرنے کا جوش سوار تھا کہ اچانک گذشتہ رات ٹی وی پر چلنے والی خبروں کی آواز دماغ میں گونجنے لگی۔
”مویشی منڈی میں مشہور ماڈلز کی جانوروں کے ساتھ کیٹ واک۔۔۔
ہر ماڈل گائے اور بیل کی رسی پکڑے، ناز و انداز سے چلتی ہوئی ریمپ پر آنا جانا کر رہی ہے ۔۔۔
ڈی جے بھی موجود ،،، جو کہ موقع کی مناسبت سے موسیقی بھی مہیا کر رہے ہیں۔۔۔”
اففف کیا وقت آگیا ہے! واقعی فتنے بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ ہم کیونکر اس عظیم قربانی کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں جب ہمیں ان ناچ گانوں سے ہی فرصت نہیں۔
”تھر کا علاقہ،،، پیدائش کے وقت بچوں اور ماؤں کی اموات ،،، زندہ رہنے والے لوگ اور بچے بھی جسمانی و ذہنی طور پر پسماندہ ،،، وجہ غذائی قلت۔۔۔“
افففف،،، اللّٰہ اکبر! انسانی جسم کی بنیادی ضرورت کھانا ،،، اور وہ بھی میسر نہیں۔
اب کچھ کچھ سجھائی دے رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ کام ختم ہونے تک پلاننگ بھی مکمل ہوچکی تھی۔ اب صرف حسن کے آنے کے بعد ان کے مشورے اور اجازت سے اس پر عمل کرنا رہ گیا تھا۔
••••••••••••••
”یہ سب جو تم مجھے بتا رہی ہو، یہ سب تم نے اپنے دماغ سے سوچا ہے،،، اور تم یہ اتنی بڑی قربانی دے کر چین سے بیٹھ سکو گی؟“
”زیادہ مذاق مت اڑائیں، اور یہ کوئی بڑی قربانی نہیں، بہت معمولی سی بات ہے بس احساس دیر سے ہوا۔“
”مگر خیال اچانک آ کیسے گیا؟“
”بس جی، کسی کی بناوٹ اور دکھاوے نے آنکھیں کھول دیں اور کسی کی سادگی اور سچائی نے آنکھوں کو روشنی دے دی۔“
”چلو جی وہ کہتے ہیں نا کہ۔۔۔
دیر آئید، درست آئید یا وہ محاورہ ہے نا
صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔۔۔ بلکہ بھولی کہتے ہیں،،،“
”جی جی بالکل جو چاہیں کہہ لیں، بس یونہی ہنستے مسکراتے رہیں، اور میرے کام کے لیے تیاری پکڑ لیں۔“
”ہنستی مسکراتی تو تم رہا کرو کیونکہ گھر کی رونق تم سے ہی ہے اور جناب کے کام کے لیے کمر کَس لی ہے۔“
”ٹھیک ہے تو پورا ٹائم ٹیبل دہرائیے۔“
”اوکے باس!
صبح سب سے پہلے بینک جاکر جو سیٹ تم نے بتایا وہ نکالنا ہے، بازار جاکر اسے بیچنا ہے، پھر جامع مسجد جاکر گائے کا ایک حصہ ’تھر ریلیف اینڈ قربانی فنڈ‘ میں بُک کروانا ہے۔
آفس جاکر عابد کی جاب کی سر توڑ کوشش کرنی ہے. نہیں تو اسے اپنے ساتھ کام میں شامل کرنے کی تدبیر کرنی ہے۔
شام میں گھر واپس آ کر تمھیں ساتھ لے کر بازار جانا ہے اور بچے ہوئے پیسوں سے راحیلہ کی فیملی کے لیے عید کی مناسبت سے اور دیگر ضروری سامان لینا ہے۔
پھر اس کی نہایت خوبصورت سی پیکنگ کرکے تمھارے اور بچوں کے ساتھ انہیں دینے جانا ہے، ان شاءاللہ۔
کیوں ٹھیک ہے نا؟“
قربانی دینا سیکھ لیا ۔جاری ہے
”آپ بھی نا ،،، بہت ہی اچھے ہیں!
ان شاء اللّٰہ سب کچھ اسی طرح بخوبی ہوجائے اور اللّٰہ تعالٰی قبول فرمائیں۔ یہاں تو دینے والے بہت ہیں اور فریزروں میں بھرنے والے بھی۔ اللّٰہ تعالٰی ان لوگوں تک پہنچائے جو کھانے پینے کو ترس رہے ہیں اور اسی تڑپ میں یا تو بھوکے مر رہے ہیں یا لاغر، بیمار اور غیر تندرست جسموں کو گھسیٹ رہے ہیں۔“
”آمین ثمَّ آمین“
”مگر فی الحال ہمیں سحری میں ٹائم پر اٹھنے کے لیے سونا ہے، اس لیے شب بخیر۔“
اور چمکتی آنکھوں کو اس نے کچھ لمحوں کے لئے بند کر لیا تاکہ آنے والے کل کی خوشی کو ابھی سے محسوس کر سکے۔
===========
قربانی دینا سیکھ لیا آپ نے پڑھی رائے دینا مت بھولیں