3

قسط البحری کے فوائد

تحریر شئیر کریں

قسط البحری ایک معروف خوشبودار جڑی بوٹی ہے جس کی جڑ صدیوں سے مختلف روایتی طبی نظاموں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ اسے عربی میں القسط البحري، انگریزی میں Costus جبکہ سائنسی نام Saussurea costus یا Saussurea lappa بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے خشک جڑ کے ٹکڑے یا پاؤڈر کی شکل عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

قسط کے بارے میں اسلامی روایات میں بھی ذکر ملتا ہے۔ حضرت اُم قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسط ہندی کے بارے میں فرمایا کہ اس میں سات شفا کی چیزیں ہیں، اور حدیث میں بعض مخصوص طریقۂ استعمال اور بیماریوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔

تاہم قسط البحری کے بارے میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ حدیث میں بیان کردہ نبوی رہنمائی اپنی جگہ معتبر ہے، جبکہ جدید طبی تحقیق ابھی اس پودے کے تمام فوائد کو انسانوں میں بڑے پیمانے پر ثابت نہیں کر سکی۔ اس لیے ہر بیماری کے لیے اسے یقینی علاج قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

قسط البحری کیا ہے؟

قسط البحری ایک پودے کی جڑ ہے جس کا تعلق Asteraceae خاندان سے ہے۔ اس پودے کو ہمالیائی خطے سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس کی جڑ روایتی طب میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

تحقیقی مطالعات میں اس کے اندر کئی فعال نباتاتی مرکبات دریافت ہوئے ہیں، جن میں costunolide، dehydrocostus lactone، cynaropicrin اور دیگر sesquiterpene compounds شامل ہیں۔ انہی مرکبات کی وجہ سے سائنس دانوں نے قسط کے ممکنہ حیاتیاتی اثرات پر تحقیق کی ہے۔

2026 میں شائع ہونے والے ایک جامع تحقیقی جائزے میں بھی قسط البحری کے کیمیائی اجزا، روایتی استعمال، جسم میں جذب و اخراج اور ممکنہ فارماکولوجیکل اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق کے مطابق اس پودے میں متعدد فعال مرکبات موجود ہیں، لیکن بہت سے طبی دعووں کی تصدیق کے لیے مزید معیاری انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔

قسط البحری کے ممکنہ فوائد

ہاضمے کے لیے روایتی استعمال

قسط کو روایتی طب میں معدے اور ہاضمے سے متعلق مختلف شکایات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جدید تحقیقی جائزوں میں بھی اس کے gastrointestinal effects پر تحقیق کا ذکر ملتا ہے۔

کچھ تجرباتی تحقیقات میں قسط کے بعض اجزا نے معدے کی جھلی اور سوزش سے متعلق ممکنہ حفاظتی اثرات دکھائے ہیں، لیکن ان نتائج کو عام انسانوں میں کسی بیماری کے یقینی علاج کے طور پر پیش کرنے کے لیے مزید clinical research ضروری ہے۔

سوزش کے خلاف ممکنہ اثر

قسط البحری کے اہم فعال مرکبات پر ہونے والی تحقیق میں anti-inflammatory یعنی سوزش کم کرنے والی سرگرمی کا امکان سامنے آیا ہے۔

2024 کے ایک جامع جائزے میں قسط کے مختلف pharmacological effects میں anti-inflammatory activity بھی شامل کی گئی، تاہم محققین نے مزید clinical trials کی ضرورت پر زور دیا۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ قسط میں سوزش کے خلاف ممکنہ حیاتیاتی اثرات پائے گئے ہیں، نہ کہ یہ کہ قسط ہر قسم کی سوزش کا ثابت شدہ علاج ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات

قسط البحری کے بعض نباتاتی اجزا antioxidant سرگرمی رکھتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں oxidative stress سے متعلق عمل کے مطالعے میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔

لیبارٹری اور تجرباتی تحقیقات میں قسط کے antioxidant effects رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن صرف antioxidant activity کی بنیاد پر کسی خاص بیماری کے علاج کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

جراثیم کے خلاف ممکنہ اثرات

قسط البحری میں antimicrobial اور antifungal سرگرمیوں پر بھی تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ تجرباتی مطالعات میں اس کے اجزا نے مختلف microorganisms کے خلاف سرگرمی دکھائی ہے۔

یہ نتائج دلچسپ ضرور ہیں، لیکن لیبارٹری میں کسی جرثومے کے خلاف سرگرمی دکھانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قسط کا پاؤڈر یا چائے انسان میں اس جراثیم سے ہونے والی بیماری کا مؤثر علاج ہے۔ انسانی clinical studies اس سلسلے میں زیادہ اہم ہیں۔

سانس کے مسائل میں روایتی استعمال

قسط مختلف روایتی طبی نظاموں میں کھانسی، سانس کی تکالیف اور بعض respiratory complaints کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ قدیم طبی استعمال اور جدید تجرباتی تحقیق کے درمیان کچھ مماثلتیں بھی دیکھی گئی ہیں۔

تاہم دمہ، نمونیا، برونکائٹس یا کسی شدید سانس کی بیماری میں قسط کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔

معدے کے السر پر تحقیق

قسط کے بعض مرکبات پر anti-ulcer اثرات کی تحقیق ہوئی ہے۔ جانوروں اور لیبارٹری کے تجربات میں ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر مزید تحقیق کی بنیاد فراہم کی۔

لیکن انسانوں میں معدے کے السر کے علاج کے لیے اس کی مؤثریت کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط clinical evidence ابھی محدود ہے۔

جگر کے حوالے سے تحقیق

قسط البحری کے بارے میں بعض تجرباتی مطالعات میں hepatoprotective یعنی جگر کے لیے ممکنہ حفاظتی اثرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے: تجرباتی سطح پر ممکنہ hepatoprotective اثرات ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ قسط جگر کی ہر بیماری کے لیے محفوظ یا مفید ہے۔ بعض تحقیق میں قسط کے استعمال سے جگر کو نقصان پہنچنے کے خدشات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس لیے جگر کے مریض خود سے اس کا استعمال شروع نہ کریں۔

مدافعتی نظام پر ممکنہ اثرات

قسط البحری کے بعض مرکبات کے immunomodulatory effects بھی تحقیقی مطالعات میں زیرِ بحث آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مرکبات immune response کے مختلف پہلوؤں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

لیکن “مدافعتی نظام مضبوط کرنے” کا عام دعویٰ بہت وسیع ہے، اس لیے اسے کسی بیماری کے علاج یا بیماری سے مکمل تحفظ کا ذریعہ سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔

جلد کے لیے روایتی استعمال

قسط کی جڑ اور اس سے حاصل ہونے والے تیل کا روایتی طور پر بعض جلدی مسائل میں بیرونی استعمال بھی ملتا ہے۔ سائنسی جائزوں میں بھی اس کے topical استعمالات کا ذکر موجود ہے۔

لیکن جلد پر لگانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ استعمال ہونے والی چیز خالص ہے یا کسی اور مادے سے آلودہ، کیونکہ نباتاتی مصنوعات بھی الرجی یا جلدی ردعمل پیدا کر سکتی ہیں۔

قسط البحری اور قسط ہندی میں کیا فرق ہے؟

قسط کے حوالے سے “قسط ہندی” اور “قسط بحری” کے نام ملتے ہیں۔ صحیح شناخت کے بغیر صرف نام کی بنیاد پر کسی بازار سے ملنے والی جڑی بوٹی کو حدیث میں مذکور قسط کے عین مطابق قرار دینا احتیاط طلب ہے۔

صحیح بخاری کی شرح میں قسط ہندی اور بحری کے درمیان روایتی طبی خصوصیات کے اعتبار سے فرق بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں کی طبی کیفیت میں فرق سمجھا جاتا تھا۔

اس لیے قسط خریدتے وقت پودے کی درست botanical identification اور مصنوعات کے معیار کو اہمیت دینی چاہیے۔

قسط البحری کے بارے میں حدیث

قسط کے بارے میں سب سے اہم اسلامی حوالہ حضرت اُم قیس رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ”

یعنی اس ہندی عود کو اختیار کرو، اس میں سات شفا کی چیزیں ہیں۔

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔ حدیث میں عذرة اور ذات الجنب کا بھی ذکر آیا ہے۔

یہاں ایک اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ حدیث میں سات شفا کی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن روایت کے اسی متن میں ان سب سات کی تفصیلی فہرست بیان نہیں ہوئی۔ بعد کے شراح نے اس حدیث کی مختلف تشریحات اور قسط کے روایتی طبی استعمالات بیان کیے ہیں۔

کیا قسط البحری ہر بیماری کا علاج ہے؟

نہیں، ایسا دعویٰ سائنسی طور پر درست نہیں۔

قسط البحری کے بارے میں تحقیق میں anti-inflammatory، antioxidant، antimicrobial، anti-ulcer، hepatoprotective اور دیگر ممکنہ اثرات رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن جدید جائزوں کے مطابق اس تحقیق کا بڑا حصہ laboratory یا animal studies پر مشتمل ہے اور بہت سے استعمالات کے لیے مضبوط انسانی clinical evidence ابھی ناکافی ہے۔

اس لیے قسط کو ایک مفید روایتی نباتاتی دوا کے طور پر زیرِ تحقیق سمجھا جا سکتا ہے، مگر اسے ہر بیماری کا متبادل علاج قرار دینا مناسب نہیں۔

قسط البحری کے ممکنہ نقصانات

قدرتی یا نباتاتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی چیز ہر شخص کے لیے لازماً محفوظ ہے۔

2024 کے ایک تحقیقی جائزے میں قسط کے استعمال کے ساتھ جگر، گردوں اور دوسرے اعضاء پر ممکنہ toxicity کے خدشات بیان کیے گئے ہیں۔ اسی جائزے میں یہ بھی ذکر ہے کہ طویل مدتی زبانی استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔

کچھ لوگوں میں قسط یا اس کے sesquiterpene lactones سے الرجی یا جلدی ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ حمل اور دودھ پلانے کے دوران اس کی safety کے بارے میں مناسب معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بازار میں موجود جڑی بوٹیوں کی مصنوعات میں ملاوٹ، غلط شناخت یا آلودگی کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے غیر معتبر ذریعہ سے حاصل کردہ قسط استعمال کرنا مناسب نہیں۔

قسط البحری استعمال کرنے سے پہلے احتیاط

اگر کوئی شخص قسط البحری کو خوراک یا علاج کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تو خاص طور پر حمل، دودھ پلانے، جگر یا گردے کی بیماری، الرجی یا مستقل ادویات کے استعمال کی صورت میں ڈاکٹر یا مستند pharmacist سے مشورہ کرنا چاہیے۔

خاص طور پر کسی prescribed medicine کو قسط کی وجہ سے خود سے بند نہیں کرنا چاہیے۔

قسط کی روزانہ محفوظ مقدار کے بارے میں بھی ایک ہی universal dose بتانا درست نہیں، کیونکہ پاؤڈر، extract، capsule اور دیگر preparations میں فعال اجزا کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ موجودہ شواہد کی بنیاد پر میں ہر بالغ کے لیے ایک مخصوص چمچ یا گرام کی مقدار کو universally safe قرار نہیں دے سکتا۔

قسط البحری کے فوائد: حقیقت کیا ہے؟

قسط البحری ایک قدیم اور معروف medicinal plant ہے جس کا ذکر اسلامی روایات میں بھی ملتا ہے اور جدید سائنس نے بھی اس کے مختلف نباتاتی اجزا پر تحقیق کی ہے۔

اس کے ممکنہ فوائد میں ہاضمے سے متعلق اثرات، سوزش کے خلاف سرگرمی، antioxidant activity، antimicrobial effects اور بعض دیگر pharmacological properties شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت سے نتائج ابھی ابتدائی یا تجرباتی سطح کے ہیں۔

لہٰذا قسط البحری کے بارے میں متوازن بات یہی ہے کہ یہ ایک اہم روایتی medicinal herb ہے، اس کے بارے میں نبوی روایت موجود ہے، اور جدید تحقیق میں بھی اس کے کئی ممکنہ طبی اثرات سامنے آئے ہیں؛ لیکن ہر بیماری کے علاج کے لیے اس کی مؤثریت اور مکمل safety ثابت کرنے کے لیے مزید انسانی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مختلف نباتات میں فوائد رکھے ہیں، مگر علاج اختیار کرتے وقت علم، اعتدال اور احتیاط بھی ضروری ہے۔ نبوی علاج کا احترام کرتے ہوئے بھی کسی خاص بیماری کی تشخیص اور علاج کے لیے مستند طبی رہنمائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں