متاثر کن کامیابی کی داستان
بھارت میں اوڈیسہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں جھاڑکھنڈ قبیلہ ہے وہاں کے لوگ درختوں سے موسیقی کے آلات بناتے ہیں اوراسے بیچ کر گھر چلاتے ہیں۔ وہاں ایک مخصوص لباس کی ساڑی عورتیں زیب تن کرتی ہیں۔ اور وہاں ایک بہترین انصاف قائم ہے۔ برصخیر کے زمانے میں اس قبیلے سے پہلی تلوار انگریزوں کے خلاف اٹھی تھی۔ یہ قبیلہ بھارت کی ریاست کے مقابلے میں ترقی کے حوالے سے بہت پیچھے ہے۔ مگر وہیں کی پیدا ہونے والی دروپدی مرمو آج بھارت کی صدر ہیں۔
دروپدی مرمو کا تعلق مشرقی ریاست اوڈیسہ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے وہیں کے پرائمری سکول سے کی پھر سن 1979میں گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے استاد کا فریضہ نبھایا اور اس کو تہہ دل سے اس فرض کو نبھاتی رہیں۔ یہاں تک کہ جو بچے سکول میں کچھ سمجھنے میں مشکل پیدا کرتے تو انہیں الگ سے گھر میں وقت دیتیں۔ اپنی پروفیشن میں اس قدر سنجیدگی اور جذباتی وابستگی کی وجہ سے مشہور ہوتی گئیں۔ لوگ انہیں پسند کرنے لگیں کیونکہ ان کے اندر خدمت خلق کا جذبہ کثیر تعداد میں پایا جانے لگا۔
پھر انہوں نے وارڈ کونسلر کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ جس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کونسلر بننے کے بعد وہ سیاست میں سنجیدگی سے ذمہ داری نبھانے لگیں۔ جہاں وہ حکم دینے کے بعد خود گاڑی میں بیٹھ کر جاتیں اور حالات کا جائزہ لیتیں۔ ان کی اس کارگردگی کو دیکھتے ہوئےسن 2000 اور 2009 میں انہین بی جے پی کے امیدوار کے طورپر رکن اسمبلی منتخب کیا گیا۔ انہوں نے نائب وزیر کے طورپر ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ وہ اپنی ذمہ داری کو پہلے سے ذیادہ سنجیدگی سے لینے لگیں۔
مگر اس دوران ان کے ذاتی حالات خراب ہوتے گئے ان کا پچیس سالہ بیٹا موت کے منہ میں چلاگیا جس کا صدمہ انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ ابھی یہ صدمہ کم نہ ہوا تھا کہ دوسرا بیٹا بھی چل بسا۔ در حقیقت اس صدمے نے ان کی کمر توڑ دی۔ پھر کچھ دن بعد ہی ان کا بھائی بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر اس دنیا سے چلا گیا۔ ایک شوہر کاسہارا تھا جلد وہ بھی رخصت ہوگیا۔ ان کی زندگی بلکل بھی نارمل نہیں رہی
مگر اس کے باوجود دروپدی مرمو نے حوصلہ پست نہیں کیا وہ نئے عزم سے میدان میں آئیں اور خدمت خلق کے لئے خود کو مقر کرلیا۔ لوگوں کی خدمت میں اپنی خوشی کو تلاش کیا۔ سن 2015 میں جب انہیں جھارکھنڈ کا گورنر بنایا گیا اس سے قبل وہ اوڈیسہ میں میوربھنج ضلع میں بی جے پی کی صدرتھیں۔ وہ پہلی گورنر تھیں جنہوں نے جھارکھنڈ میں اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی۔ آج وہ بھارت کی ریاست کی صدر ہیں جو قبیلہ کی پہلی اور بھارت کی دوسری صدر ہیں۔ ان کی زندگی لوگوں کے لئے متاثر کن ہے ۔
متاثر کن کامیابی کی داستان