440

ٹڈی دل سے کیسے منافع حاصل کیا جاۓ؟

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

ٹڈی دل کے حملوں کی ذد میں پاکستان کے جنوبی پنجاب کے علاقے سندھ اور بلوچستان مین ٹارگٹ پر ہیں اس کے علاوہ انڈیا کے صوبے راجھستان میں ٹڈیوں نے 5 لاکھ ایکڑ رقبے پر تباہی مچا کر اسے برباد کر دیا ہے اور مذید 14 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر عتاب آنے کا اندیشہ ہے۔

ٹڈی دل کے نقصانات

عموماََ ٹڈی دل کو اپنی غذائی ضروریات اور افزائش نسل بڑھانےکے لیے ریتیلے علاقے درکار ہوتے ہیں جہاں فضا میں نمی موجود ہو۔ بنیاد ی طور پر یہ صحرائی علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتیں ہیں مگر موزوں ماحول نہ ملے تو پھر یہ فصلوں کا رخ کرتیں ہیں۔ صحرا میں پرورش پانے کے بعد یہ زرعی اراضی پر حملہ آور ہوتیں ہیں۔

حشرات میں ٹڈی دل کسی تربیت یافتہ فورس کی طرح حملہ آور ہوتیں ہیں اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی کی داستانیں چھوڑ جاتیں ہیں۔ یہ گروہ کی صورت میں لہلہاتے کھیتوں کا رُخ کرتے ہوۓ فصل تباہ کر کے آگے گزر جاتیں ہیں۔ ٹڈی دل کی فوج جس کھیت پر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتی ہے، اس پر بہت منظم طریقے سے کر ایک سرے سے داخل ہوتیں ہیں اور دوسرے سرے تک پہنچنے تک کھیت اُجاڑ دیتی ہیں۔ جب تک اس کھیت میں تمام فصل تباہ و برباد نہ ہو جاۓ اور جب انہیں مکمل یقین ہو جائے کہ اب اس کھیت میں اس کی دلچسپی کے لئے کچھ باقی نہیں بچا تب تک وہ تباہی پھیلاتی رہیں گی۔۔ اس کے بعد پھر یہ اگلے کھیت کا رُخ کرتی ہیں اور اسے بھی اپنا شکار بنا ڈالتی ہیں۔ آج ہم ان سے چھٹکارا پانے اور منافع حاصل کرنے کے طریقوں کی تفصیل جانتے ہیں۔

سعودیہ عرب میں ٹڈیوں سے چھٹکارے کا طریقہ

جیساکہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ٹڈی دل حلال غذا ہے لیکن عموماََ لوگوں کو اسے دیکھ کر اکتاہٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرےمیں کھانے کا تصور ہی ابکائی کے برابر ہے لیکن سعودی عرب میں ٹڈیاں لوگوں کی مرغوب غذا ہیں۔

گزشتہ دنوں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ٹڈیوں کے حملے سے جہاں نقصان ہوا وہیں مقامی لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں ٹڈیاں دیکھ کر بے حد خوشی بھی ہوئی اور خاص طور پرٹڈیاں فروخت کرنے والوں کی تو چاندی ہوگئی۔

سعودی عرب کے مختلف بازاروں میں زندہ ٹڈیوں کی تھیلیاں فروخت ہونے لگیں اور چند لوگوں نے تو یہ کاروبار آن لائن بھی شروع کردیا۔

سعودی عرب کی مقامی مارکیٹ میں اس وقت زندہ ٹڈیوں کی تھیلی 50 ریال میں فروخت ہورہی ہے، لیکن جب حال ہی میں ان کی کمی واقع ہوئی تو ایک تھیلی کی قیمت 200ریال ( 7500 ہزار پاکستانی  روپے) تک پہنچ گئی۔ اس طرح سعودیوں نے ٹڈیوں کو کھا کر اپنی فصلوں کو بچا لیا۔

پاکستان میں رائج ٹڈیوں سے چھٹکارا پانے کے طریقےزمینی یا ہیلی سپرے

نقصان

انسانوں, جانوروں اور فصلوں پر ذہریلے اثراتمختلف ور کرنے والی آوازوں اور میوزک کا استعمال

نقصان

وقتی طور پر بھاگیں گی پھر کسی دوسرے کھیت پر حملہ کے چانسز

دھویں سے بھگانا

نقصان

دھواں فصلوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

نیا پاکستانی طریقہ کار

پاکستان کے 51 سے زیادہ اضلاع میں جاری ٹڈیوں کے حملوں سے جہاں ہزاروں ایکڑ پر پھیلی فصلوں کو نقصان ہو رہا تھا وہیں پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے رہائشیوں نے اس قدرتی آفت سے بھی ذریعہ معاش ڈھونڈ نکالا ہے۔ شہریوں نے ٹڈیوں کو پکڑ کر مرغیوں اور مچھلیوں کی خوارک تیار کرنے والی فیکٹریوں کو بیچنا شروع کر دیا ہے۔

اوکاڑہ کی ایک تنظیم کا ٹڈی دل کے تدارک کیلئے کیا گیا تجربہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔ اس تنظیم نے لوگوں سے 20 روپے کلو کے حساب سے ٹڈیاں خرید کر مچھلیوں اور مرغیوں کے کارخانے کو بیچنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس حساب سے 800 کا ایک من بنتا ہے ۔۔ صرف ایک رات میں ہی ٹڈیاں جمع کرنے والے ہر شخص نے 20 ہزار روپے تک کما لیے ہیں۔ اس حساب سے مذید اندازہ لگائیں تو ایک شخص ایک ماہ میں 6 لاکھ روپے تک کما سکتا ہے۔

ٹڈیوں میں موجود غذائیت

ماہرین کے مطابق ٹڈیاں پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں اوران میں 70 فیصد پروٹین، 17فیصد تیل اور 21فیصد میگنیگشیم ، کیلشیئم ، آئرن، سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس ہوتا ہے۔

ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند

عام طور پر مرغیوں اور مچھلیوں کو بھی پروٹین کی ضرورت ہوتی تھی اور اس مقصد کے لیے سویا بین امپورٹ کرنا پڑتا تھا جس میں 50 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔لیکن اب ٹڈیوں کو زیر استعمال لا کر سویابین کی درآمد میں کمی سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔۔

ٹڈی دل کس طرح پکڑیں؟

اوکاڑہ کے ضلعی فاریسٹ آفسر گوہر مشتاق نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میںبتایا کہ ٹڈی پکڑنے کے لیے بہترین وقت عشا کے بعد یا پھر علی الصبح کا وقت ہوتا ہے جب یہ زمین پر پڑی ہو اور اس وقت وہ انتہائی سست ہوتی ہے۔

اس وقت آرام سے جھاڑو وغیرہ کے ساتھ اس کو کسی بوری میں ڈالا جا سکتا ہے
۔ اس کے بعد جوں جوں درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے تو ٹڈی اڑنا شروع کر دیتی ہے اور اس کے بعد اسے پکڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

عالمی برادری اور بھارت کا خوش آئیند رد عمل

پوری دنیا بالخصوص بھارت نے پاکستان کے ٹڈی دل سے نجات پانے والے اس منصوبے کی بے حد تعریف کی ہے بلاشبہ یہ ایک پرافٹ سکیم ہے اور بھارت نے بھی اسیطریقے کو مورخہ 10 جون سے نافذالعمل کر دیا ہے۔

ٹڈیاں کس طرح زیر استعمال لائیں جاتی ہیں۔

سب سے پہلے ان کو آگ کے زریعے خشک کیا جاتا ہے۔ مکمل طور پر خشک ہونے پر ان کو چکی میں پیس کر پاؤڈر تیار کیا جاتا ہے ۔ اس پاؤڈر میں 70 فیصد پروٹین شامل ہوتی ہے اور 30 روپے فی کلو فروخت کیا جاتا ہے.

کرونا بحران کے تناظر میں گورنمنٹ کی زمہ داری

گورنمنٹ کو چاہیے کہ جن علاقوں میں ٹڈی کا حملہ ہے وہاں فیڈ فیکٹریوں کو موٹیویٹ کیا جاۓ کہ ٹڈی کے حملہ والے علاقوں میں ٹڈی خریدنے کے لیے اپنے کیمپ آفس قائم کریں .اس سے ان فیکٹریوں کو سستا مال مل سکے گا اور پکڑنے والوں کو بیچنے کی پریشانی نہ ہو گی۔

کرونا کے بحران کی وجہ سے بیروزگار افراد کے لئےیہ آمدنی کا بہترین زریعہ ہے، اس سے ملکی معیشت کو سہارا ملے گا اور لوگوں کو روزگار میسر ہو گا ۔ اس اقدام سے فصلیں بھی نقصان سے بچیں گی ملکی زر مبادلہ کی بچت بھی ہو گی، پولٹری فیڈ بنانے والوں کو سستا اور خام مال میسر ہو گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں