1,203

پاکستان میں کس صحابی رسول ﷺ کی آمد ہوئی؟

تحریر شئیر کریں

پاکستان میں کس صحابی رسولﷺ کی آمد ہوئی؟۔جانیے وہ حقائق جو اب تک آپ سے پوشیدہ تھے صرف قلم کتاب پر
حضرت سہیل بن عدی جو خررج سے تعلق رکھتے تھے جو مدینہ کے انصار کی ایک شاخ تھی۔یہ بنیادی طور پر یمنی تھے جو بعدازاں مدینہ آ کر آباد ہوگۓ تے۔اس قبیلے سے سب سے پہلے چھ افراد نے اسلام قبول کیا۔آپ ﷺ انہی چھ افراد سے ملاقات کے لیے مدینہ آۓ جو ہجرت مدینہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

جہاں تک برصغیر میں صحابہ کی آمد کی بات ہے۔تو شواہد و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ ان صحابہ کی تعداد پچیس ہے جو تبلیغ جہاد اور تجارت کی غرض سے برصغیر آتے رہے۔ان میں سے زیادہ تر حضرت عمر ؓکے دور میں آۓ۔

یہ بھی پڑھیے

صحابہ ؓکی بستی

آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔اس کی تفاسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ مشرق سے مراد پاکستان ہے۔کیونکہ اس سرزمین کو اللہ نے بہت سے خیر کے کاموں کے لیے چن لیا تھا۔
تو اس سلسلے میں حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوموسی اشعری ؓ کو خط لکھا کہ حضرت سہیل ؓ کو مکران کا والی مقرر کریں۔یوں حضرت سہیل ؓ حضرت عمر ؓجو اس وقت خلیفہ رسول تھے کی درخواست پر 23 ھ کومکران کے والی مقرر کیے گیے۔حضرت سہیل ؓ مکران اور کیچ کے علاقوں میں رہے اور یہاں تبلیغ و جہاد میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ علاقے جہاں حضرت سہیل ؓ سکونت پزیر رہے اب بلوچستان کا حصہ ہیں۔پاکستان کی خوش قسمتی ملاحظ کیجیے کہ اس کی سرزمین وہ خوش نصیب ہے جہاں ایک صحابی رسول ؓ جو بدری بھی ہیں کے پاؤں نے چھوا۔اور یہی جگہ ان کا مدفن بھی بنی۔حضرت ے سہیل بن عدی ؓ چند سال اس سرزمین پر اپنے فرائض سرانجام دیے کہ بلاوا آگیا۔داجل کے راستے تیس کلومیٹر کی دوری پر آپ کی قبر مبارک موجود ہے۔قبر کی نشاندہی اس سے کی جا سکتی ہے کہ وہاں قبر کے گرد گول طرز کے پتھر رکھے گے ہیں۔اللہ ان پر اپنی رحمتوں کے خزانے لٹاتا رہے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں