433

ڈالر کا گرنا منافع بخش یانقصان دہ ؟

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

ہم سب جانتے ہیں ڈالر امریکی کرنسی کا نام ہے اور پاکستان میں ایک ڈالر 166 پاکستانی روپوں کے برابر ہوتا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آنے سے ہمارے ملک کی کرنسی پر بھی اثرات نماں ہوتے ہیں ۔ عالمی منڈی میں سونے اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی واضح فرق دیکھا جاتا ہے۔ یہ اثرات کس طرح مرتب ہوتے ہیں اور ان کی وجوہات کیا ہیں ان کو جاننے کے لیے ہمیں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کی وجہ کا معلوم ہونا اہم ہے۔

ڈالر کا ریٹ کیوں گرتا / بڑھتا ہے؟

دنیا میں سب سے ذیادہ تجارت ڈالر کی صورت میں کی جاتی ہےان میں سر فہرست سونا, تیل اور دیگر معدنی وسائل ہیں۔ سونے اور تیل کی خرید وفروخت میں کمی ڈالر کی قیمت گرتی ہے جبکہ ان کی ڈیمانڈمیں اضافے سے ڈالر کی قیمت مستحکم ہو جاتی ہے۔ مختلف ممالک میں اس کا دارومدار ان کے زخائر اور طلب پر ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ اگر وافر ہو تو کرنسی مضبوط گی۔ درآمدات و برآمدات میں اضافہ یا کمی بھی ریٹ کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کیا ڈالر کا گرناہمارے مفاد میں ہے؟

ہمارے یہاں کاروباری اداروں اور بااثر افراد نے ڈالرز کی صورت میں جو ذخیرہ اندوزی کی ہوتی ہے ڈالر کی قیمت گرنے کا سب س زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے کیونکہ پھروان کی اہمیت صرف کاغذ کے ٹکروں کے برابر رہ جاتی ہے کیونکہ اس سے روپے کی قدر مستحکم ہوتی ہے۔ اگر کرنسی مضبوط ہو گی تو ملک کے زر مبادلہ کے زخائر میں واضح اضافہ ہو گا۔ تیل و سونے کی قیمت پاکستان میں خاص طور پر پیٹرول کم ہو جاۓ گی۔ کاروباری لین دین میں روپے کی قدر بڑھے گی اور یہ ملکی مفاد میں ایک بہترین پیش رفت ہو گی۔

المیہ

یہاں پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت اگر کم بھی ہوتی ہے تو امریکی حکومت اس پر یکدم کیسے قابو پا لیتی ہے کہ ساری دنیادیکھتی رہ جاتی ہے۔

امریکی ڈالرز ایک نجی ادارہ فیڈرل ریزرو ایشو کرتا ہے۔ اس کا پراسس تو یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے موجودہ زخائر کے عوص ڈالرڑ چھاپے جائیں گے لیکن چونکہ فیڈرل ریزرو کا کنٹرول حکومت یا بینک کی بجائے روتھشیلڈ خاندان کے پاس ہے۔ جس کی دولت کا تخمینہ لگانا جوۓ شیر لانےکے مترادف ہے۔ وہ کس طرح شفاف طورپر کرنسی کا اجرا۶ عمل میں لاتا ہے اس پر کئی سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں۔ ان کی کریڈیبیلٹی کو دیکھ کر ڈالر کی شفافیت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور یہی وجہ ڈالر کی اونچی اڑان ہے ۔

امریکی حکومت کی کوششوں کے باوجود گورنمنٹ اس ادارے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے سے قاصر ہے۔

کاغذی دولت کا یہ دہرا میعار ہی دنیا کے مختلف ممالک کو ترقی یافتہ یا ترقی پزیر ممالک کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔ المیہ وہی ہے کہ عالمی سطح کی اس دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ممکن نہیں ہے۔ جان ایف کینڈی نے جب اس ادارے کے خلاف محاذ کھولا اور منظم چھپوائی کے لیے قانون پاس کروایا تو چند ماہ بعد اس کی موت کے بعد اس طریقے پر امریکی سینیٹ کو بغیر بتاۓ عمل درامد روک دیا گیا۔

کرنسی کی اونچ نیچ کو عالمی سطح پر پرکھا جاۓ تو جس کی اونچی اڑان اسی کا سارا جہان۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں