آزمائش کو پہچانو
یہ دنیا نا انصاف ھے ، اللہ تبارک تعالیٰ نہیں۔۔۔۔۔
یہ دنیا بے قدری ھے خدا تعالیٰ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دنیا غاصب ھے، خداوند بزرگ و برتر نہیں
اگر بہت لمبے عرصے تک آپ کو لگ رھا ھے کہ آپ کی محنت کے باوجود حالات نہیں بدل رھے آزمائش ختم نہیں ھو رھی تو ٹھہر جائیں۔۔۔۔
رک کے سوچیں کہ قدرت آپ کو کیا سیکھانا چاہ رھی ھے جتنی جلدی آپ سیکھ جائیں گے اتنی جلدی آزمائش ختم ھو جائے گی جب تک موجودہ روش نہیں بدلیں گے حالات نہیں بدلیں گے۔
ھو سکتا ھے قدرت آپ کو دعا کرنا سیکھا رھی ھو۔
ھو سکتا ھے نڈر ھونا۔
ھو سکتا ھے مرعوب نا ھونا۔
ھو سکتا ھے پر کھولنا۔
ھو سکتا ھے حق کے لیے لڑنا۔
ھو سکتا ھے لوگوں کی پہچان۔
کمفرٹ زون کو توڑنا ھوگا کمفرٹ زون سے نکلنا ھو گا۔
ایک بار جائزہ لیجیے شخصیت کا کون سا بل ھے جو آپ کو پرواز کرنے نہیں دے رہا۔۔۔۔۔؟
کیا مروت۔۔۔؟
کیا خوف۔۔۔۔؟
کیا کم ہمتی۔۔۔۔؟
کیا سستی۔۔۔۔؟
کیا لاعلمی۔۔۔۔؟
کیا کاہلی۔۔۔۔۔؟
کیا نا اہلی۔۔۔۔۔؟
کیا ھے جو قدرت آپ کی شخصیت سے نکالنا چاہ رھی ھے؟
قدرت کا اصول ھے وہ ھمیشہ اپنے زور و بازو پہ بھروسہ کرنے والے، اپنے پروں کو پہچاننے والے، محنت کش، نیک نیت اور بہادر لوگوں کا کھل کے ساتھ دیتی ھے۔ کیونکہ “اپنی صلاحیتوں پہ بھروسہ کرنا ھی قدرت پہ بھروسہ کرنا ھے”۔ “اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال ھی قدرت کی شکر گزاری ھے” اور خدا تعالی بھروسہ نہیں توڑتا وہ شکر گزاروں کا سب سے بڑھ کر قدر دان ھے۔
اپنے رب پہ بھروسہ رکھیں وہ شاندار حکمت والا قدردان ھے۔
بے شک وہ کبھی کسی کو ضائع ھونے نہیں دے گا بس وہ اس کی مدد کرتا ھے جو اپنی مدد آپ پہ یقین رکھتے ھیں خود کو بدل دیں حالات بدل جائیں گے۔
اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ھو
جویریہ ساجد
آزمائش کو پہچانو