امام مہد ی کا ظہور ہونے میں کتنا وقت باقی؟
عالمی منظرنامہ
اس وقت عالمی منظرنامہ بڑی بڑی تبدیلیوں کی زد میں ہے ایک ہی موضوع گفتگو ہے “طالبان کی فتح “حیران کن حد تک مسلمانوں کی چودہ سوسالہ تاریخ میں جنگ قادسیہ کے بعدبحثیت مجموعی اگر کوئی فتح ملی ہے تو وہ طالبان کی فتح ہے۔کبھی ایسا نہیں ہو کہ تمام کا تمام عالم کفر اپنی تمام تر ٹیکنالوجی سمیت اکٹھا ہو کر پچاس ساٹھ ہزار طالبان جن کے پاس وسائل نا ہونے کے برابر حمایت چند درد دل رکھنے والے مومنین کے سوا کچھ نہیں،تو یہ کم لوگ سارے عالم کفر کو شکست دے دیں،جس پر جتنی خوشی منائی جائے کم ہے مگر چونکہ ابھی ہم مسلمان بطور قوم ڈویلپ ہی نہیں ہوئے لہذا خوشی منانے والے بھی چیدہ چیدہ ہی ملیں گے۔
2001 ء میں جب نائن الیون کے بہانے پوری دنیا اس افغانستان پر ٹوٹ پڑی تھی،اس و قت امت مسلمہ کے کسی بھی ملک نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ پاکستان ایران سعودی عرب ہو یا ترکی سبھی ان کے مخالف تھے۔سبھی ایک ہی بات کر رہے تھے کہ طالبان کوئی عقلی کام نہیں کر رہے۔بیس سال کی طویل جنگ اور جہاد کے بعد اللہ نے ان کو فتح و کامرانی نصیب کی ہے۔یقنا اللہ کا وعدہ ہے اس کی کتاب میں ارشا د باری تعالی ہے
کم من فت۔۔۔
کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اکثریت پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں”
آج جو منظر نامہ بدلا ہے یہ آنے والا وقت میں کس طرف جانے والا ہے اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ نے جو وعدہ اپنے رسول ﷺ سے کیا کیا اس کے پورا ہونے کا وقت قریب آن لگا ہے جب دین اسلام تمام ادیان پر غالب آ ئے گا انشاء اللہ اور پوری دنیا اسلام کے جھنڈے تلے ہوگی۔
دین لائف سٹائل کا نام ہے،اس وقت یورپ اور تمام دنیا میں جو لائف سٹائل ہے وہ اسلام کے لائف سٹائل میں کنورٹ ہوجائے گا۔ہمارا لائف سٹائل تمام لائف سٹائل پہ غالب آ جائے گا۔اس ایک ایک لمحے کی تصویر کشی نبی کریمﷺ کی احادیث سے ہمیں ملتی ہےکہ کب کیا ہوگا اور کس طرح سے ہوگا۔
طالبان کی فتح اس آنے والے کل کی تکمیل ہے جس کا ذکر حدیث میں ملتا ہے کہ کالے جھنڈے خراسان سے نکلیں گے اور ان کو کوئی روک نہیں سکے گا،ملامتہ الکبری جو آخری جنگ ہےاس کا ہرآول دستہ یہی لوگ ہوں گے۔
وہ علاقے جہاں اصل جبگ برپا ہونی ہے شام یمن ،فلسطین اور حجاز کا علاقہ ہے جس کے بارے احادیث میں آتا ہے۔تین علاقوں کے بارے میں فرمایا
عراق کو چمڑے کی طرح رگڑہ جائے گا۔
شام کو بال کی طرح کھینچا جائے گا۔
مصر کو مینگنی کی طرح ریزہ ریزہ کیا جائے گا۔
حجاز میں تبدیلیاں زد میں ہیں ایسی ایسی تبدیلیاں جو کبھی نہیں ہوئیں،جہاں دجال بھی گھس نہیں سکتا وہاں کرونا کے پیش نظرحج مسلم امہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔اس کے مقابلے میں یورپ میں فٹ بال اور دیگر مجمعے ہو رہے ہیں مگر حج پر پابندی ہے۔
مشیور حدیث جس میں آپ ﷺ نے فرمایا چھ علامتیں ہوگیں جن میں سے ایک یہ کہ تمہارے اندر جانوروں کے گردن کے نیچے جو ہوتی ہے اس طرح کی بیماری پھیلے گی،اور وہ کرونا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔اب ہونا کیا ہے؟خراسان کی حکومت قائم ہوچکی ہے اب اگلا قدم طالبان کا کیا ہوگا؟وہ بھی نظر آ رہا ہے ،طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد جو پہلاکام انھوں نے کیا وہ حماس کے لیڈر سے ملاقات تھی۔یعنی صف بندی ہونا شروع اب میدان سجنے کی تیاریاں شروع ہیں
۔مبصرین کے مطابق ہو سکتا اگلا قدم محرم الحرام میں ہی شروع ہوجائے،اگر اب نہیں ہوتا تو اگلا حج آنے تک شروع ہوجائے گا۔اللہ بہتر جانتا مگر لگتا یہی ہے،امام مہدی کی آمد اور ظہور کا وقت بہت قریب ہے سال چھ ماہ کی دوری پر ہے۔حدیث کے مطابق عرب میں ایک بادشاہ کی وفات پر فساد برپا ہوگا جو بہت بڑھ جائے گا،پھر یمن سے غوثی قبائل حملہ آور ہوں گے،پھر ایک شخص بھاگ کر مکہ آ جائے گا اور یہ امام مہدی ہوں گے جن کو لوگ پہچان لیں گے اور بیعت کریں گے جبکہ دیگر مسلم دنیا شش وپنج میں ہوگئ کہ اصل مہندی ہیں یا نہیں؟پھر شام سے فوج نکلے گی امام مہدی کی سرکوبی کے لئے،حدیث کے مطابق مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک علاقہ ہے بیضاء وہاں پر دھنسا دی جائیں گیں یہ واحد اشارہ ہوگا جس سے مسلم امہ کو پتہ چل جائے گا کہ امام مہدی کا ظہور ہوچکا۔یہاں سے ط ال ب ا ن کا سفر شروع ہوتا ہے تب خراسان سے کالے جھنڈۓ لے کر فوجیں نکلیں گیں جو ایلیا میں گاڑ دیے جائیں گے،پھر امام مہدی کو لے کر شام میں ان کا خیمہ لگا دیا جائے گا۔
کیا یاجوج ماجوج کا خروج ہوچکا؟
2022 ء بڑا اہم سال ہے جس میں عربوں کی شامت آنے والی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی بھی کیونکہ دونوں نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جو قوم مجھے ملے گی وہ تمہاری قوم ہوگی اور ایک قریشی کی جوتی پڑی ہوگی مگر قریشی نہیں ہوگا۔
ہند کی خرابی چین سے ہوگی اور سندھ (پاکستان)کی خرابی ہند سے ہو گی”عربوں کی شامت اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت عربی زبان میں تھی انھوں نے اس کی قدر نا کی اور لہو لعب میں پڑ گئے جبکہ پاکستان کی شامت اس لئے کہ اللہ سے یہ خطہ اسلام کے نام پہ حاصل کیا تھا ،اللہ نے انگریز اور ہندو کی بدترین غلامی سے نجات دی تھی مگر پون صدی گزر چکی ابھی تک یہ وعدہ پورانہیں ہو سکا۔