پاکستان میں گرمی کی شدت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ ہیٹ ویو کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے شامل ہیں کیونکہ ان کا جسم بڑوں کے مقابلے میں درجہ حرارت کو اتنی مؤثر طریقے سے برقرار نہیں رکھ سکتا۔ والدین کے ذہن میں اس حوالے سے بے شمار سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
قلم کتاب نے انہی خدشات کے پیش نظر بچوں کی ماہر ڈاکٹر سے خصوصی گفتگو کی تاکہ والدین کو مستند اور عملی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
سوال: ڈاکٹر صاحبہ، سب سے پہلے یہ بتائیے کہ شدید گرمی بچوں کے جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟
ڈاکٹر: بچوں کا جسم گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت میں بڑوں سے مختلف ہوتا ہے، اسی لیے وہ ہیٹ ویو کے دوران جلد متاثر ہو سکتے ہیں۔ سب سے عام مسئلہ پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہے۔ اس کے علاوہ ہیٹ اسٹروک ایک خطرناک طبی حالت ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ ہیٹ ایگزاسشن میں جسم شدید کمزوری اور تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پسینے کی زیادتی سے ہیٹ ریش یعنی جلد پر دانے بھی نکل آتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں معدے کی بیماریاں بھی عام ہو جاتی ہیں جن میں الٹی، دست اور فوڈ پوائزننگ شامل ہیں کیونکہ اس موسم میں جراثیم تیزی سے بڑھتے ہیں۔
سوال: والدین کیسے پہچانیں کہ بچہ گرمی سے متاثر ہو رہا ہے؟
ڈاکٹر: اگر بچہ کئی گھنٹوں تک پیشاب نہ کرے یا اس کے پیشاب کا رنگ بہت زیادہ گہرا ہو جائے تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ اسی طرح منہ کا خشک ہو جانا یا روتے وقت آنسو نہ آنا بھی ڈی ہائیڈریشن کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر بچہ غیر معمولی طور پر سست، غنودگی کا شکار یا بہت زیادہ چڑچڑا ہو جائے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جسم کا بہت زیادہ گرم اور خشک ہو جانا، سر درد، متلی یا بار بار الٹی آنا بھی اہم علامات ہیں جن پر فوری توجہ ضروری ہے۔
سوال: گرمی سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے والدین کیا احتیاط کریں؟
ڈاکٹر: بچوں کو دن بھر وقفے وقفے سے پانی پلانا بہت ضروری ہے، چاہے انہیں پیاس محسوس نہ بھی ہو۔ شیر خوار بچوں کو زیادہ بار دودھ پلانا چاہیے تاکہ ان کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ بچوں کو ہمیشہ ہلکے رنگ کے سوتی اور ڈھیلے کپڑے پہنائے جائیں تاکہ جسم کو ہوا ملتی رہے۔ دن کے سب سے گرم اوقات یعنی صبح گیارہ بجے سے شام چار بجے تک بچوں کو براہ راست دھوپ میں لے جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بازار کے کھانوں، کولڈ ڈرنکس اور جنک فوڈ سے پرہیز کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ گرمی میں مسائل بڑھا سکتے ہیں۔ گھر میں لیموں پانی، ستو اور او آر ایس جیسے صحت بخش مشروبات کا استعمال بہتر رہتا ہے۔ گھر کے کمروں کو ہوادار رکھنا اور پنکھوں یا دیگر مناسب انتظامات کے ذریعے درجہ حرارت کو کم رکھنا بھی بہت مددگار ہے۔
سوال: اگر بچہ گرمی کی وجہ سے اچانک نڈھال ہو جائے تو گھر پر کیا ابتدائی طبی امداد دی جا سکتی ہے؟
ڈاکٹر: سب سے پہلے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بچے کو فوری طور پر کسی ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر منتقل کریں اور اس کے کپڑے ڈھیلے کر دیں تاکہ جسم کو آرام مل سکے۔ اس کے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں یا گیلے کپڑے سے جسم کو آہستہ آہستہ صاف کریں، لیکن برف والا پانی استعمال نہ کریں کیونکہ یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگر بچہ ہوش میں ہو تو اسے تھوڑا تھوڑا پانی یا او آر ایس پلائیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ اگر بچہ بے ہوش ہو جائے، اسے جھٹکے لگیں، سانس لینے میں مشکل ہو یا اس کی حالت بگڑتی جائے تو فوراً قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ لے جانا ضروری ہے اور گھر پر علاج کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: والدین کے لیے آپ کا آخری پیغام کیا ہوگا؟
ڈاکٹر: شدید گرمی کو معمولی سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بچوں میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا، انہیں دھوپ سے بچانا اور ابتدائی علامات پر فوری توجہ دینا کئی سنگین مسائل سے بچا سکتا ہے۔ اگر کسی بھی قسم کی تشویشناک علامات نظر آئیں تو فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ تمام بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور والدین کو ان کی بہترین نگہداشت کی توفیق عطا فرمائے۔
قلم کتاب کی جانب سے پیغام
اگر آپ کو یہ معلومات مفید لگیں تو اسے اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ والدین شدید گرمی کے دوران اپنے بچوں کی صحت کا بہتر خیال رکھ سکیں۔
بڑھتی ہوئی شدید گرمی اور بچوں کی صحت: ماہر ڈاکٹر سے خصوصی گفتگو