دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کردے
دنیا ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔اور انجام کی بات آۓ اور محسن انسانیتﷺ کی بات نا آۓ یہ کیسے ممکن؟
علامہ محمد اقبال کی نبی کریم ﷺ کی ذات سے عقیدت اور محبت ضرب المثل تھی۔آپ ﷺ کے نام پر آپ کی آنکھیں بھیگ جایا کرتی تھی۔اور ہچکی بندھ جایا کرتی تھی۔یہ محبت کا اعجاز تھا کہ اقبال کی شاعری کو آفاقی پیغام کا درجہ حاصل ہوا۔اور اس عقیدت اور محبت کا ثبوت ان کے کئ اشعار سے چھلکتا ہے جیسا کہ
کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آپ ﷺ کی تعلیمات اور پیغام پوری انسانیت کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ ﷺ کی ذات گرامی سے فیض اٹھا کر کل عالم میں پھیلایا جاۓ مگر نہ ہم نے ان کو خود پہچانا اور نا ہی دنیا کو ان کی طرف مائل کیا۔اس کا نتیجہ اسلام دشمن قوتوں کا نبی کریمﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔جس کا سرا سر خسارہ ان پر کیچڑ اچھالنے والوں پر اور اس امت پر ہے۔کیونکہ آپ ﷺ کی ذات گرامی کا تحفظ اس امت کا فرض عین ہے۔لیکن اس فرض میں کوتاہی نہیں کوتاہیاں
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کردے